مقامی ۱ جون ۲۰۲۶

کوئٹہ میں ایرانی ڈیزل 280 اور پیٹرول 390 روپے لیٹر فروخت، پیٹرول مافیا کو انتظامیہ کی مبہم چھوٹ ملنے کا انکشاف

کوئٹہ (صداقت ویب نیوز) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ایرانی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے، جہاں اوپن مارکیٹ میں ایرانی ڈیزل 280 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول 390 روپے فی لیٹر کے حساب سے من مانی قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق، اس واضح فرق سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پیٹرول مافیا کو بعض سرکاری حلقوں اور انتظامیہ کی خاموش سرپرستی حاصل ہے، ورنہ ڈیزل جو کہ ہیوی ٹرانسپورٹ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، وہ بھی پیٹرول کی طرح مہنگا فروخت کیا جاتا۔ لیکن چونکہ وزیراعلی بلوچستان نے گڈز ٹرانسپورٹ، بس اور ویگن مالکان کے ساتھ باقاعدہ وعدہ کیا تھا کہ ڈیزل کی قیمتیں کسی صورت نہیں بڑھنے دی جائیں گی، اس لیے ڈیزل کی قیمت سرکار کے مقرر کردہ نرخوں پر برقرار ہے۔دوسری جانب، پیٹرول جو کہ موٹر سائیکل اور رکشہ چلانے والے عام اور غریب آدمی کی روزمرہ کی بنیادی ضرورت ہے، اس معاملے میں منافع خور مافیا کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہفتے میں صرف ایک دن دکھاوے کی کارروائی کی جاتی ہے جس کی تصاویر اور خبریں میڈیا کی زینت تو بن جاتی ہیں، مگر ہفتے کے باقی 6 دن پیٹرول مافیا کو شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا بھرپور موقع ملا رہتا ہے۔ عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب پیٹرول اور ڈیزل دونوں ہی ایران سے اسمگل ہو کر ایک ہی راستے سے بلوچستان آتے ہیں، تو پھر ڈیزل سرکاری نرخ کے مطابق سستا اور پیٹرول لوٹ مار مافیا کے رحم و کرم پر اتنی بڑی قیمت میں کیوں فروخت ہو رہا ہے؟ شہریوں نے وزیراعلی بلوچستان اور کمشنر کوئٹہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈیزل کی طرح پیٹرول کی قیمتوں کو بھی اعتدال پر لانے کے لیے مافیا کے خلاف مستقل اور سخت ترین ایکشن لیں۔