مقامی ۱ جون ۲۰۲۶

کوئٹہ میں پٹرول بحران، ایرانی پٹرول 400 روپے فی لیٹر فروخت ہونے پر عوام برہم

کوئٹہ (صداقت ویب نیوز) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پاکستانی پٹرول پمپس کی بندش اور پٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ ایرانی پٹرول غیر قانونی طور پر 400 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ عوام نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان اور کمشنر کوئٹہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق شہر کے بیشتر پاکستانی پٹرول پمپس بند ہونے کے باعث ایرانی پٹرول فروخت کرنے والے عناصر نے مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھا دی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر تک پہنچنے سے غریب اور متوسط طبقے کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹرز بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔عوامی، سماجی اور تاجر حلقوں نے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتوں پر کنٹرول نہ ہونے کے باعث پٹرول مافیا کھلے عام من مانی نرخ وصول کر رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخوں پر پٹرول کی فراہمی یقینی بنائی جائے، غیر قانونی پٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ذخیرہ اندوزی و بلیک مارکیٹنگ میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ عوام کو معاشی استحصال سے نجات مل سکے۔