قلعہ عبداللہ(صداقت نيوز)
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ انتہاپسندی پشتون معاشرے کی پیداوار نہیں بلکہ عدم تشدد، جمہوری مزاحمت، برداشت اور سیاسی شعور پشتون اکابرین خصوصاً فخر افغان باچاخان کی چھوڑی ہوئی میراث ہے، جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی حکمرانی اور پارلیمان کی بالادستی کے سوا اگر کوئی قوت کسی اور راستے کا خواب دیکھ رہی ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہوگی۔ رہنماؤں نے انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل کو وسائل کی لوٹ مار کا حربہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ اٹھارویں ترمیم کو چھوٹے صوبوں کے قومی، معاشی اور ثقافتی تحفظ، ترقی اور خوشحالی کی ضمانت قرار دیتے ہوئے اس کے رول بیک کی ہر کوشش کی مخالفت کا اعلان کیا۔ مقررین نے الزام عائد کیا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پشتون وطن میں تشدد کو عام کیا جا رہا ہے اور سیاست کو بدنام کرنے کے لیے غیر سیاسی ماحول مسلط کیا جا رہا ہے، انہوں نے سانحۂ شاہرگ میں ملوث عناصر کو بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ بھی کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اشرافیہ کی سرپرستی میں قائم گروہ نہ آج اور نہ آئندہ فکرِ باچاخان کا متبادل بن سکتے ہیں، جبکہ صرف جذبات بھڑکانے والے عناصر پشتون قوم کو درپیش سنگین مسائل کا ادراک نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل جدوجہد نسل، زبان، مذہب یا فرقے کی نہیں بلکہ قدرتی وسائل پر اختیار اور حقِ حکمرانی کی ہے، اور عوامی نیشنل پارٹی اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن جمہوری جدوجہد کو اپنا سیاسی اور قومی فرض سمجھتی ہے۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں اضلاع یا ڈویژنوں کی تشکیل کے دوران پشتونوں کی نمائندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور پشتونخوا بلوچستان میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کو وسائل پر قبضے کی ایک منظم کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کاکاجی ملک غلام سرور خان اچکزئی کو فخر افغان باچاخان کا حقیقی پیروکار، صلح، رواداری اور بھائی چارے کا داعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے زندگی بھر پشتون قومی تحریک، عدم تشدد اور سیاسی جدوجہد کے اصولوں پر ثابت قدمی سے عمل کیا اور کبھی اپنے سیاسی ماضی پر ندامت کا اظہار نہیں کیا۔ یہ باتیں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، صوبائی پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی، مرکزی سینیئر نائب صدر داؤد خان ایڈووکیٹ، صوبائی جنرل سیکریٹری مابت کاکا اور دیگر رہنماؤں نے باچاخان مرکز برمہ کلی پیرعلیزئی میں پارٹی کے سابق صوبائی صدر کاکاجی ملک غلام سرور خان اچکزئی کی 20ویں برسی کے موقع پر منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ مقررین نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی سخت حالات، قید و بند، سیاسی نشیب و فراز اور سازشوں کے باوجود آج بھی صوبے میں ایک فعال، منظم اور نمائندہ سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے اور پارلیمان کے اندر اور باہر پشتونوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پشتون اور بلوچ دو برادر اقوام ہیں، ان کے درمیان نفرت پھیلانے والے ہمیشہ ناکام ہوں گے، کیونکہ نہ کسی کا حق ہڑپ کیا جائے گا اور نہ اپنا حق کسی کو ہڑپ کرنے دیا جائے گا، جبکہ منظم تنظیمی رابطے، سیاسی شعور اور اجتماعی جدوجہد ہی قومی و معاشی چیلنجز سے نکلنے کا راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔ بعد ازاں کاکاجی ملک غلام سرور خان اچکزئی سمیت پشتون قومی تحریک کے شہداء اور اکابرین کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی گئی اور شرکاء میں لنگر تقسیم کیا گیا۔
