مقامی ۲۷ مئی ۲۰۲۶

ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط اور دھمکیاں مسترد، اسلامی ممالک دبا میں نہ آئیں، جے یو آئی نظریاتی

کوئٹہ (صداقت ویب نیوز)جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین، مرکزی سرپرستِ اعلی مولانا ڈاکٹر شمس الہدی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی اور مرکزی مجلسِ عاملہ کے اراکین نے عیدالاضحی کے مبارک موقع پر تمام اہلستانِ اسلام اور پاکستانی قوم کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ عید قربانیوں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے فرزند کی قربانی کی یاد تازہ کرنے کا دن ہے، جنہوں نے رہتی دنیا تک کے لیے یہ سبق چھوڑا کہ جہاں اللہ کا حکم ہو وہاں اس کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج ہم عید ایسے حالات میں منا رہے ہیں جہاں ہر جانب صیہونی اور اسلام دشمن قوتوں کی وجہ سے مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے، بیت المقدس پر کفری قوتوں کا قبضہ ہے اور غزہ کے مسلمان محاصرے کی حالت میں بھوک و افلاس کا شکار ہو کر زندہ لاشیں بن چکے ہیں، جن تک اربوں کی تعداد میں مسلمان ہونے کے باوجود پینے کا پانی اور روٹی نہیں پہنچائی جا رہی۔مرکزی رہنماں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے سامنے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط رکھنے کے بیان کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ٹرمپ منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کریں اور اس پر شدید ردعمل کا اظہار کریں۔ انہوں نے ملک بھر کے علما، خطبا اور آئمہ مساجد پر زور دیا کہ وہ عید کے اجتماعات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے امریکی ہرزہ سرائی کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کرائیں اور عوام کو اس سازش سے آگاہ کریں۔ جے یو آئی(نظریاتی)کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے حالیہ اقدامات اور ایران پر حملے کی دھمکیوں سے ان کی دلی خباثت واضح ہو چکی ہے کہ وہ پوری اسلامی دنیا پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیانات اور دھمکیاں تنازع کا حل نہیں بلکہ اس سے خطے میں تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ رہنماں نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ خطے کے امن کے لیے ناسور بن چکا ہے، اور اب وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری اس بدمست ہاتھی کو روکے اور اسلامی ممالک ان کے خلاف ڈٹ کر متحدہ مزاحمت کا مظاہرہ کریں۔