مقامی ۲۷ مئی ۲۰۲۶

عیدالاضحی کے قریب آتے ہی کوئٹہ کے بازاروں میں گہما گہمی، چھری ٹوکا اور باربی کیو سامان کے نرخ بڑھ گئے

کوئٹہ (صداقت ویب نیوز)عیدالاضحی کی آمد کے ساتھ ہی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے بازاروں میں غیر معمولی گہما گہمی دیکھنے میں آ رہی ہے، تاہم قربانی کے جانور ذبح کرنے کے آلات، باربی کیو سامان اور کوئلے کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہونے سے شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ شہر کے مختلف تجارتی مراکز خصوصا مشن روڈ، لیاقت بازار، اور جناح روڈ سمیت دیگر مارکیٹوں میں خریداروں کا رش بڑھ گیا ہے جہاں لوگ عیدِ قربان کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق قربانی کے لیے استعمال ہونے والی چھریوں، ٹوکوں اور ساطور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ عام طور پر استعمال ہونے والی تکبیر پھیرنے والی چھری کی قیمت 800 سے 1,000 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ بڑے ٹوکے 2,000 سے 3,000 روپے میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ کی مہنگائی نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔دوسری جانب، شہر کے مختلف علاقوں میں چھریاں اور ٹوکے تیز کرنے والے مستریوں نے بھی اپنے ریٹ بڑھا دیے ہیں۔ مشن روڈ اور ملحقہ علاقوں میں قائم عارضی اسٹالز پر شہریوں کی بڑی تعداد پرانے آلات تیز کروانے پہنچ رہی ہے۔ مستری حضرات کا مقف ہے کہ کوئلہ، بجلی اور دیگر اخراجات بڑھنے کے باعث وہ پرانے نرخ برقرار رکھنے سے قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ، باربی کیو اور عید دعوتوں کے لیے استعمال ہونے والے سامان کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ سامنے آیا ہے؛ کوئلہ 120 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ باربی کیو بنانے کی چھوٹی انگیٹھی 1,500 روپے اور بڑی و معیاری انگیٹھی 3,500 سے 4,000 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ سیخوں، جالیوں اور گوشت کاٹنے والے لکڑی کے تختوں کے نرخ بڑھنے سے متوسط طبقہ شدید متاثر ہوا ہے، جبکہ شہریوں نے شکوہ کیا ہے کہ عید قریب آتے ہی ہر چیز کی قیمتیں دگنی کر دی جاتی ہیں اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔