کوئٹہ (صداقت ویب نیوز)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں عیدالاضحی کی آمد کے باوجود قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں کمی نہ آسکی، جبکہ شہر بھر کی مویشی منڈیوں میں بیوپاریوں کی جانب سے من مانے نرخ طلب کیے جانے کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ مہنگائی کے ستائے عوام کا کہنا ہے کہ اس سال قربانی کرنا متوسط اور غریب طبقے کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ شہر کی سب سے بڑی مویشی منڈی، بھوسہ منڈی سمیت گوالمنڈی چوک، سپنی روڈ، ایئرپورٹ روڈ، نوحصار اور کچھلاک بائی پاس کے اطراف قائم عارضی منڈیوں میں بکرے، دنبے، گائے، بیل اور اونٹ انتہائی مہنگے داموں فروخت کیے جا رہے ہیں۔ خریداروں کے مطابق ایک عام بکرا بھی اب ایک لاکھ روپے سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ اچھی نسل کے دنبے اور بیل کئی کئی لاکھ روپے میں فروخت ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ قیمتیں سن کر خریداری کیے بغیر واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔دوسری جانب بیوپاریوں کا موقف ہے کہ اس سال جانوروں کی خوراک، چارے، ٹرانسپورٹیشن، ادویات اور دیگر اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھانا ان کی مجبوری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دور دراز علاقوں سے جانور لانے پر بھاری کرایے ادا کرنے پڑے ہیں، جبکہ چارے کی قیمتیں بھی گزشتہ برس کی نسبت کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ اس صورتحال پر شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مویشی منڈیوں میں باقاعدہ نرخ نامے جاری کیے جائیں اور سرکاری نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بیوپاریوں کی من مانی روکی جا سکے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور معاشی دبا نے پہلے ہی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہوا ہے، اسی لیے اب کئی خاندان عید کی خوشیوں کو برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی قربانی یا حصوں کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ کسی حد تک مذہبی فریضہ ادا کیا جا سکے۔
