کوئٹہ ( صداقت نیوز)میر سرفراز بگٹی نے آئی ایس پی آر کے زیراہتمام منعقدہ ایک ورکشاپ میں ملک بھر کی دو سو سے زائد جامعات کے وائس چانسلرز، رجسٹرارز، ڈینز اور سینئر پروفیسرز سے خصوصی نشست کے دوران بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال، ترقیاتی اقدامات اور مختلف بیانیوں پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے حوالے سے پروپیگنڈا اور زمینی حقائق میں فرق ہے اور احساسِ محرومی کا بیانیہ بعض عناصر اپنے مخصوص مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچ یکجہتی کونسل کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے، جبکہ بعض شخصیات نوجوانوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے مزید دعویٰ کیا کہ صوبے میں شورش اور تشدد پاکستان کے خلاف منظم انٹیلی جنس وار کا حصہ ہے اور بعض شدت پسند تنظیموں کو بیرونی سہولت کاری حاصل ہے، تاہم ان دعوؤں کے آزادانہ شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔
