مقامی ۲۴ مئی ۲۰۲۶

چمن پھاٹک ٹرین حملہ انتہائی وحشیانہ عمل ہے،کالعدم تنظیموں سے مذاکرات کے لیے فوری بااختیار کمیٹی تشکیل دی جائے، جے یو آئی نظریاتی

کوئٹہ (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل)جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے قائم مقام امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی کنوینر مفتی شفیع الدین، مرکزی سرپرست اعلی مولانا ڈاکٹر شمس الہدی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمود الحسن قاسمی، مرکزی سیکرٹری مولانا قاری مہر اللہ، سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی، مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی حیات اللہ کاکڑ، صوبائی امیر خیبر پختونخوا مفتی فدا الرحمن، صوبائی امیر پنجاب قاضی گل الرحمن نکیال اور صوبائی امیر سندھ مولانا عزیز احمد شاہ امروٹی و دیگر نے چمن پھاٹک کے قریب مسافر ٹرین پر ہونے والے ہولناک خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ قائدین نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے اہلِ خانہ کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹرین سانحے سے پوری قوم شدید کرب اور صدمے سے دوچار ہوئی ہے؛ معصوم جانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے مسلمان تو کجا، انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں ہیں اور آج ان کی اس بہیمانہ کارروائی کی وجہ سے ہزاروں خاندان غمزدہ ہو چکے ہیں۔جے یو آئی نظریاتی کے مرکزی و صوبائی رہنماں نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی نااہلی کے باعث ملک بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے، اور مسلسل بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ نے معصوم قوم کو پرامن زندگی گزارنے کے حق سے محروم کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکمرانوں کا صرف روایتی مذمتی بیان جاری کرنا یا اسے محض کسی تنظیم کی کارستانی قرار دینا نہ تو کافی ہے اور نہ ہی یہ کسی سنگین مسئلے کا مستقل حل ہے۔ رہنماں نے مطالبہ کیا کہ صوبے اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کالعدم تنظیموں سے بات چیت کا آغاز کیا جائے اور اس مقصد کے لیے ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ بیس سال سے صرف طاقت اور آپریشنز کے غلط فیصلوں پر انحصار کیا گیا، جس نے ملک کو امن دینے کے بجائے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ کے نام پر اس خطے کا امن برباد کیا گیا اور ملک کی سلامتی و خودمختاری کو دا پر لگا کر قوم کے وقار کو مجروح کیا گیا۔ رہنماں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اربابِ اختیار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بدامنی کے اس سنگین مسئلے کو ذمہ داری اور سنجیدگی سے نہیں لے رہے، جبکہ مسلسل دھماکوں کے باعث اب قوم اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا اٹھا کر تھک چکی ہے۔