کوئٹہ (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل)کوئٹہ کے گنجان آباد علاقے چمن پھاٹک کے قریب ٹرین پر ہونے والے ہولناک خودکش دھماکے کے نتیجے میں جہاں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان ہوا، وہی قریبی پارکنگ ایریا میں کھڑی کم از کم 30 گاڑیاں بھی خوفناک آگ کی لپیٹ میں آ کر مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پورا علاقہ لرز اٹھا اور دھماکے کے فورا بعد بھڑکنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پارکنگ میں موجود کاروں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد گاڑیوں کے سلنڈر پھٹنے سے یکے بعد دیگرے دھماکوں کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس اور بھگدڑ مچ گئی۔ابتدائی اندازوں کے مطابق اس آتشزدگی کے باعث شہریوں کی کروڑوں روپے مالیت کی نجی املاک تباہ ہو چکی ہیں۔ واقعے کے وقت عیدالاضحی کی تعطیلات کی وجہ سے علاقے میں شدید رش تھا اور کئی مسافر اپنی گاڑیاں پارک کر کے ریلوے اسٹیشن کی طرف گئے ہوئے تھے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ، ریسکیو ٹیموں اور سیکیورٹی اداروں نے موقع پر پہنچ کر کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ دوسری جانب پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں اور شہر بھر میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ گاڑی مالکان نے حکومت سے مالی امداد اور نقصانات کے فوری ازالے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
