تحریر: ڈاکٹر حرا یوسف خان
کنسلٹنٹ میڈیکل آنکولوجسٹ، لیڈز ٹیچنگ ہاسپٹلز این ایچ ایس ٹرسٹ، برطانیہ
انسٹاگرام: hira_yousuf11

پروفیسر احمد ندیم عباسی
ریڈی ایشن آنکولوجسٹ، آغا خان یونیورسٹی اسپتال، کراچی

ہر سال اکتوبر میں دنیا بھر میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کا مہینہ منایا جاتا ہے۔ عمارتوں کو گلابی روشنیوں سے سجایا جاتا ہے، آگاہی مہمات چلائی جاتی ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو اپنے جسم میں غیر معمولی تبدیلیوں پر نظر رکھنے اور بروقت طبی معائنہ کروانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
تاہم، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کو صرف اکتوبر تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کی صحت سے متعلق شعور کو گھروں، تعلیمی اداروں، جامعات، دفاتر اور معاشرتی حلقوں میں روزمرہ گفتگو کا حصہ بنایا جائے۔
برطانیہ میں بطور میڈیکل آنکولوجسٹ خدمات انجام دیتے ہوئے مجھے ایسے طبی نظام میں کام کرنے کا موقع ملا ہے جہاں منظم اسکریننگ، ماہر ڈاکٹروں کی خدمات اور عوامی آگاہی مہمات نے بریسٹ کینسر کے مریضوں کے علاج کے نتائج بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود مریضوں، ان کے اہل خانہ، ساتھیوں اور دوستوں کی جانب سے بھی بریسٹ کینسر کی علامات اور علاج کے حوالے سے رہنمائی کے لیے رابطے کیے جاتے ہیں۔
حال ہی میں پیش آنے والے ایک واقعے نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔
مجھے بتایا گیا کہ ایک 21 سالہ لڑکی تقریباً ایک سال سے چھاتی سے خون آنے کی تکلیف میں مبتلا تھی۔ اس نے شرمندگی، خوف اور لوگوں کی جانب سے غلط سمجھے جانے کے اندیشے کے باعث اپنی علامات چھپائے رکھیں۔ جب وہ بالآخر جناح اسپتال پہنچی تو اس کے خون میں ہیموگلوبن کی سطح انتہائی خطرناک حد تک گر کر صرف 38 گرام فی لیٹر رہ گئی تھی۔ طبی ٹیم کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکی۔
یہ واقعہ محض بریسٹ کینسر کی کہانی نہیں، بلکہ خاموشی، معاشرتی جھجک اور صحت سے متعلق تعلیم کی کمی کا المیہ ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بروقت آگاہی اور طبی مدد تک رسائی کسی کی زندگی اور موت کے درمیان فرق بن سکتی ہے۔
پاکستان میں بریسٹ کینسر: صحت کا ایک سنگین مسئلہ
بریسٹ کینسر پاکستان میں خواتین میں تشخیص ہونے والے سرطان کی عام ترین اقسام میں شامل ہے اور خواتین میں سرطان سے ہونے والی اموات کی ایک اہم وجہ بھی ہے۔
بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں 2024 کے دوران بریسٹ کینسر کے تقریباً 43 ہزار 700 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار اس مرض کی روک تھام، بروقت تشخیص اور علاج کی سہولتوں کو بہتر بنانے کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔
پاکستان ایشیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح تشویش کا باعث ہے۔ متعدد خواتین بیماری کی ابتدائی علامات نظرانداز کرنے، آگاہی کی کمی اور طبی سہولتوں تک بروقت رسائی نہ ہونے کے باعث مرض کی نسبتاً آخری مراحل میں تشخیص کرواتی ہیں۔
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ مختلف تخمینوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً ہر نو میں سے ایک خاتون کو زندگی کے کسی مرحلے پر بریسٹ کینسر ہونے کا خدشہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ان اعداد و شمار کے پیچھے کسی کی ماں، بیٹی، بہن، بیوی یا دوست کی زندگی ہے۔ اس لیے بریسٹ کینسر کو محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اہم قومی صحت کا چیلنج سمجھنے کی ضرورت ہے۔
خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص دیر سے کیوں ہوتی ہے؟
ترقی یافتہ ممالک کے برعکس پاکستان میں تاحال قومی سطح پر آبادی پر مبنی منظم بریسٹ کینسر اسکریننگ پروگرام موجود نہیں۔ نتیجتاً بہت سی خواتین اس وقت طبی مدد حاصل کرتی ہیں جب انہیں کوئی واضح علامت محسوس ہوتی ہے، جبکہ اسکریننگ کے ذریعے بعض سرطانوں کی شناخت علامات ظاہر ہونے سے پہلے بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
2024 میں شائع ہونے والی تحقیق کے حوالے سے پیش کیے گئے اعداد و شمار اس صورت حال کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، تقریباً 42 فیصد خواتین بریسٹ کینسر کی علامات سے آگاہ تھیں، 30 فیصد سے کم خواتین نے خود اپنی چھاتی کا معائنہ کرنے کی اطلاع دی، جبکہ صرف 15 فیصد خواتین نے کبھی کسی طبی ماہر سے چھاتی کا معائنہ کروایا تھا۔
اس تاخیر کی وجوہات متعدد ہیں۔ ان میں شرمندگی، کینسر کی تشخیص کا خوف، علاج کے اخراجات، معاشرتی پابندیاں، تعلیم کی کمی اور چھاتی میں ہونے والی تبدیلیوں کو معمول کی بات سمجھ لینا شامل ہیں۔ بعض خواتین طبی مشورہ لینے کے بجائے غیر مستند علاج اور روایتی ٹوٹکوں پر بھی انحصار کرتی ہیں۔
ان وجوہات کے باعث بیماری کی تشخیص میں تاخیر ہو سکتی ہے، سرطان جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل سکتا ہے اور علاج مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
بروقت تشخیص علاج کے بہتر نتائج اور زندگی بچانے کے امکانات میں اضافے کا اہم ذریعہ ہے، اور اس کا آغاز درست معلومات، آگاہی اور طبی سہولتوں تک بروقت رسائی سے ہوتا ہے۔
اپنی چھاتی میں معمول کی کیفیت کو پہچانیے
خواتین کی جانب سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ چھاتی کا معائنہ کس طرح کرنا چاہیے۔
اس کا بنیادی جواب یہ ہے کہ ہر خاتون اپنی چھاتی کی معمول کی ساخت اور کیفیت سے واقف ہو۔
عمر، ہارمونز، حمل اور ماہواری کے دوران چھاتی کی ساخت اور احساس میں قدرتی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ اس لیے کسی پیچیدہ طریقۂ معائنہ کو یاد رکھنے کے بجائے اپنی چھاتی کی معمول کی کیفیت کو سمجھنا زیادہ اہم ہے۔
اگر چھاتی میں نئی گلٹی محسوس ہو، نپل سے غیر معمولی رطوبت یا خون آئے، جلد میں گڑھا پڑنے جیسی تبدیلی ہو، سوجن پیدا ہو، کسی مخصوص حصے میں مسلسل درد رہے یا کوئی دوسری غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو تو جلد طبی مشورہ حاصل کرنا چاہیے۔
درد کا انتظار نہ کریں۔ گلٹی کے بڑھنے کا انتظار نہ کریں۔ شرمندگی کے باعث طبی معائنے میں تاخیر نہ کریں۔
چھاتی میں ہونے والی بیشتر تبدیلیاں سرطان نہیں ہوتیں، لیکن ہر نئی اور غیر معمولی تبدیلی کا طبی معائنہ ضروری ہے۔ بروقت تشخیص زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اسکریننگ زندگی بچانے میں مددگار ہے
بہت سی خواتین یہ جاننا چاہتی ہیں کہ میموگرافی کب کروانی چاہیے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسکریننگ عموماً ان خواتین کے لیے ہوتی ہے جن میں مرض کی کوئی واضح علامت موجود نہ ہو۔ میموگرافی کے ذریعے بعض سرطانوں کی شناخت اس مرحلے پر ممکن ہوتی ہے جب انہیں ہاتھ سے محسوس کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔
برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے تحت 50 سے 71 سال کی خواتین کو عموماً ہر تین سال بعد مفت میموگرافی کی دعوت دی جاتی ہے۔ جن خواتین میں خاندانی تاریخ یا موروثی جینیاتی تبدیلیوں کے باعث خطرہ زیادہ ہو، انہیں کم عمر میں بھی اضافی نگرانی کی سہولت دی جا سکتی ہے۔
منظم اسکریننگ، عوامی آگاہی اور ماہرین تک بروقت رسائی نے بیماری کی جلد شناخت اور علاج کے بہتر نتائج میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان میں قومی سطح پر اسکریننگ پروگرام نہ ہونے کے باعث اس شعبے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ایسا پروگرام شروع کرنے کے لیے مالی وسائل، تربیت یافتہ عملے اور مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی، تاہم ابتدائی طور پر چھاتی کی صحت سے متعلق آگاہی، تشخیصی سہولتوں تک رسائی اور ماہر بریسٹ کلینکس کی تعداد بڑھانے پر توجہ دی جا سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ زیادہ خطرے سے دوچار خواتین کے لیے مرحلہ وار سرکاری اسکریننگ پروگرام بھی متعارف کروایا جا سکتا ہے۔
ابتدائی تشخیص کوئی تعیش نہیں، بلکہ صحت کے نظام میں ایک اہم اور مؤثر سرمایہ کاری ہے۔
بریسٹ کینسر سے آگاہی ایک قومی ذمہ داری
بریسٹ کینسر سے آگاہی صرف ڈاکٹروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اسکولوں میں طالبات کو صحت سے متعلق تعلیم کے حصے کے طور پر چھاتی کی صحت کے بارے میں مناسب معلومات فراہم کی جانی چاہییں۔ جامعات کو آگاہی مہمات کا اہتمام کرنا چاہیے، جبکہ ٹیلی وژن چینلز، اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا کو سال بھر درست معلومات عام کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے، نہ کہ صرف اکتوبر کے مہینے میں۔
مذہبی علما، اساتذہ، سماجی رہنما اور کمیونٹی تنظیمیں بھی خواتین کی صحت سے متعلق معاشرتی جھجک اور غلط تصورات ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
طبی ماہرین کو بھی مریضوں کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ بہتر طبی سہولتوں کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ماہرینِ سرطان، سرجنز، معالجین اور پالیسی ساز مل کر حکومت پاکستان کی توجہ ایک جامع قومی بریسٹ کینسر حکمت عملی کی جانب مبذول کروائیں۔ اس حکمت عملی میں عوامی تعلیم، ماہر بریسٹ یونٹس، کم خرچ تشخیصی سہولتیں اور منظم اسکریننگ پروگرام شامل ہونے چاہییں۔
ہر خاتون، خواہ وہ کسی بڑے شہر میں رہتی ہو یا کسی دور دراز علاقے میں، خواہ اس کی آمدنی کم ہو یا زیادہ، بروقت تشخیص کے یکساں موقع کی حق دار ہے۔
ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات کے خطرات
آج کے دور میں بہت سے لوگ ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے پہلے یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر صحت سے متعلق معلومات تلاش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے آگاہی پھیلانے کے نئے مواقع ضرور فراہم کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ غیر مستند معلومات اور غلط دعووں کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
بطور آنکولوجسٹ، مجھے ایسے مریضوں کے بارے میں بھی معلوم ہوتا رہتا ہے جنہوں نے جڑی بوٹیوں، مخصوص غذاؤں یا سپلیمنٹس سے سرطان کے مکمل خاتمے کے دعووں پر یقین کرتے ہوئے طبی مدد حاصل کرنے میں تاخیر کی۔ بعض افراد یہ غلط تصور بھی رکھتے ہیں کہ سرجری سے سرطان پھیل جاتا ہے یا بایوپسی کروانے سے بیماری جسم کے دوسرے حصوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔
کچھ لوگ بیماری کی وجہ نظرِ بد یا جادو سمجھ کر پہلے غیر مستند روحانی علاج کی طرف رجوع کرتے ہیں، جس کے باعث ضروری طبی معائنہ تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔
یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ایسے دعووں کی تائید معتبر سائنسی شواہد سے نہیں ہوتی۔
کاش سرطان کے علاج کے لیے کوئی ایسا آسان نسخہ موجود ہوتا جس سے ایک سبز مشروب، جڑی بوٹی یا کسی معجزاتی دوا کے ذریعے بیماری راتوں رات ختم ہو جاتی۔ اگر ایسا کوئی مؤثر علاج موجود ہوتا تو دنیا بھر کے ماہرینِ سرطان اسے استعمال کر رہے ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ سرطان کے علاج کے لیے درست تشخیص اور سائنسی شواہد پر مبنی طبی طریقۂ علاج بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
بایوپسی سرطان کی تشخیص کا ایک اہم اور مستند طریقہ ہے۔ اس سے سرطان کے پھیلنے کا دعویٰ درست نہیں۔ اس کے برعکس، ضروری بایوپسی یا طبی معائنے میں تاخیر بیماری کے بڑھنے اور علاج کے امکانات متاثر ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
ایمان اور علاج ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ دعا اور روحانی تسلی حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن انہیں بروقت طبی معائنے اور مستند علاج کا متبادل نہیں بنانا چاہیے۔
افسوس ناک طور پر بعض غیر مستند افراد مریضوں کے خوف اور بے بسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معجزاتی علاج کے دعوے کرتے اور ثابت شدہ طبی طریقوں سے دور رہنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اسی لیے عوامی تعلیم اور مستند معلومات کی فراہمی انتہائی اہم ہے۔
ڈاکٹرز سوشل میڈیا پر بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کریں
پاکستان کو ایسے مستند طبی ماہرین، خصوصاً ماہرینِ سرطان، کی ضرورت ہے جو ڈیجیٹل میڈیا پر بھی عوام کی درست رہنمائی کریں۔
میں اس بات کو سمجھتی ہوں کہ ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ مصروفیات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ طویل کلینکس، ہنگامی مریضوں کی دیکھ بھال، تحقیق، تدریس اور خاندانی ذمہ داریوں کے درمیان بلاگ لکھنے، ویڈیوز بنانے یا سوشل میڈیا پر معلومات فراہم کرنے کے لیے وقت نکالنا آسان نہیں۔
تاہم، ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں معلومات اکثر ہسپتال پہنچنے سے پہلے لوگوں کے موبائل فون تک پہنچ جاتی ہیں۔ اگر مستند ڈاکٹر اس میدان میں درست اور سائنسی معلومات فراہم نہیں کریں گے تو غلط دعووں اور غیر حقیقی امیدوں کو پھیلنے کا مزید موقع ملے گا۔
ہمیں زیادہ سے زیادہ ماہرینِ سرطان کو صحت سے متعلق آگاہی دینے والے لکھاریوں، بلاگرز اور سوشل میڈیا پر ذمہ دارانہ انداز میں معلومات فراہم کرنے والوں کے طور پر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ مقصد شہرت حاصل کرنا نہیں، بلکہ عوامی خدمت ہونا چاہیے۔
چھاتی میں گلٹی کی صورت میں طبی معائنے کی اہمیت واضح کرنے والی ایک مختصر ویڈیو، بایوپسی سے متعلق غلط فہمی دور کرنے والی ایک سادہ تحریر یا اسکریننگ کی ترغیب دینے والا ایک پیغام ہزاروں افراد تک پہنچ سکتا ہے اور کسی کی زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
میری امید
میں اکثر اس 21 سالہ لڑکی کے بارے میں سوچتی ہوں جس کی زندگی اپنے حقیقی آغاز سے پہلے ہی ختم ہو گئی۔
کاش اسے اسکول میں چھاتی کی صحت کے بارے میں بتایا گیا ہوتا۔
کاش اس نے ٹیلی وژن پر آگاہی مہم دیکھی ہوتی۔
کاش اسے معلوم ہوتا کہ اپنی علامات کے بارے میں بات کرنے میں کوئی شرم نہیں۔
کاش اس کے اہل خانہ بروقت طبی مدد حاصل کرنے کی اہمیت سمجھتے۔
شاید اس کی کہانی مختلف ہوتی۔
لیکن ہم ماضی کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ ہم یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ اس کی خاموشی کو ہزاروں دوسری خواتین کے لیے آواز بنا دیں۔
اس مضمون اور آگاہی کے ہر ممکن موقع کے ذریعے میری کوشش ہے کہ بریسٹ کینسر کے بارے میں خاموشی اور جھجک ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کروں۔ میرا یقین ہے کہ علم اپنے ساتھ ایک ذمہ داری بھی لاتا ہے، یعنی اپنی تعلیم اور تحریر کی طاقت کو معاشرے کی خدمت کے لیے استعمال کرنا۔
جب بھی پاکستان آنے کا موقع ملے گا، میری خواہش ہوگی کہ مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں بھی جاؤں اور نوجوان خواتین و مردوں کو چھاتی کی صحت، بروقت تشخیص اور خاموشی اختیار کرنے کے بجائے مدد حاصل کرنے کی اہمیت سے آگاہ کروں۔
اس کے ساتھ ساتھ، میں مستقبل کے ماہرینِ سرطان کی تربیت اور رہنمائی کا سلسلہ بھی جاری رکھنا چاہتی ہوں تاکہ وہ نہ صرف بہترین معالج بنیں بلکہ ہمدرد اساتذہ، صحت کے لیے آواز اٹھانے والے افراد اور اپنے مریضوں کے لیے امید کا ذریعہ بھی ثابت ہوں۔
ڈاکٹر کی ذمہ داری صرف دوا تجویز کرنے یا علاج شروع کرنے تک محدود نہیں۔ اس میں معاشرے کو تعلیم دینا، غلط فہمیوں کو دور کرنا، مریضوں کو بااختیار بنانا اور مستند معلومات کو ان لوگوں تک پہنچانا بھی شامل ہے جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
کیونکہ تعلیم آگاہی اور احتیاط کی سب سے طاقتور بنیاد ہے۔
علم خواتین کو اعتماد دیتا ہے۔
اعتماد انہیں مدد حاصل کرنے کی ہمت دیتا ہے۔
اور بروقت تشخیص انہیں زندگی کا موقع فراہم کرتی ہے۔
آئیے، خوف کی جگہ حقائق کو، خاموشی کی جگہ گفتگو کو اور معاشرتی شرمندگی کی جگہ حمایت کو فروغ دیں۔ آئیے، تعلیم کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنائیں۔
کیونکہ جب ہم ایک لڑکی کو تعلیم دیتے ہیں تو ایک خاندان کے تحفظ میں حصہ ڈالتے ہیں۔ جب ہم ایک خاتون کو بااختیار بناتے ہیں تو پوری قوم کو مضبوط کرتے ہیں۔
اور جب ہم بریسٹ کینسر کو صرف اکتوبر کی مہم کے بجائے پورے معاشرے کی گفتگو کا موضوع بناتے ہیں تو ہزاروں خواتین کو بہتر اور صحت مند زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ خواتین کے جسم اور چھاتی کو غیر ضروری جنسی رنگ دینے کے بجائے صحت، احترام اور انسانی وقار کے تناظر میں دیکھا جائے، تاکہ وہ کسی خوف، جھجک یا شرمندگی کے بغیر زندگی بچانے والی طبی مدد حاصل کر سکیں۔
اگر اس تحریر کو پڑھنے کے بعد ایک بھی ماں، بیٹی یا بہن اپنی چھاتی کی صحت پر توجہ دینے یا کسی غیر معمولی تبدیلی کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کی ترغیب حاصل کرتی ہے تو یہ کوشش بامقصد ہوگی۔
شاید کوئی ڈاکٹر اس مضمون سے متاثر ہو کر بلاگ لکھنا شروع کر دے، مختصر ویڈیوز بنائے یا عوامی آگاہی کے لیے پوڈکاسٹ شروع کرے۔ شاید کوئی فرد پاکستان میں بریسٹ کینسر کی اسکریننگ کی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے قدم اٹھائے۔
تبدیلی اکثر ایک شخص کے ایک چھوٹے سے قدم سے شروع ہوتی ہے۔ اگر یہ تحریر کسی ایک فرد کو بھی ایسا قدم اٹھانے کی ترغیب دے سکے تو اس کا مقصد پورا ہو جائے گا۔
