اسلام آباد (ویب نیوز) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے رابطہ کرے تو مثبت جواب دیا جائے، تاہم مذاکرات کی پہلی شرط بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات ہونی چاہیے۔ محمود اچکزئی کے مطابق اگر حکومت عمران خان سے ملاقات پر رضامند نہیں ہوتی تو وزیراعظم سے ملاقات بے معنی ہوگی، جبکہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی رہائی سے مثبت پیش رفت کا آغاز کرسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے یہ پیغام اخونزادہ حسین یوسفزئی کے ذریعے اپوزیشن رہنماؤں تک پہنچایا۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو احتجاج ختم کرنے کی صورت میں دوبارہ مذاکرات کی پیشکش کی ہے، جبکہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ حکومت کی مذاکرات کی دعوت محض پیشکش تک محدود ہے اور عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے، گرفتاریوں اور خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے ممکنہ نفاذ پر تحفظات کا اظہار کیا۔ پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مذاکرات کا اختیار محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے پاس ہے اور حکومت سنجیدہ ہے تو ان سے رابطہ کرے۔
