انٹرٹینمنٹ ۱۸ اکتوبر ۲۰۲۶

خواب کائنات اور زمین پر دفن انسانیت

سید انورشاہ
رات کا پچھلا پہر تھا۔ میں شہر کی ایک سڑک سے گزر رہا تھا کہ ایک فروٹ ریڑھی پر نظر پڑی۔ گاڑی روکی اور پھلوں کے نرخ دریافت کیے۔ ریڑھی والے نے قیمت بتائی تو میں حیران رہ گیا۔ نرخ میری توقع سے کہیں زیادہ تھے۔ میں نے بحث کیے بغیر گاڑی آگے بڑھا دی۔
کچھ دیر بعد میں پیدل اسی ریڑھی کے پاس واپس پہنچا۔ لباس عام تھا اور میرے ساتھ کوئی گاڑی نہیں تھی۔ میں نے وہی پھل خریدنے کے لیے قیمت پوچھی تو ریڑھی والے نے پہلے سے تقریباً نصف نرخ بتائے۔ میں نے پھل خریدے اور خاموشی سے گھر کی طرف چل پڑا، مگر ذہن میں ایک خیال مسلسل گردش کرتا رہا۔ پھل وہی تھے، دکاندار بھی وہی تھا اور خریدار بھی، لیکن قیمت بدل گئی تھی۔ گویا اشیا کی قیمت کا تعین صرف ان کی افادیت سے نہیں، خریدار کی ظاہری حیثیت سے بھی کیا جا رہا تھا۔
گھر پہنچ کر بھی یہ واقعہ میرے ذہن سے محو نہ ہوا۔ مجھے محسوس ہوا کہ شاید انسان نے اشیا کی قیمت لگانے کے ساتھ انسانوں کی قدر و قیمت متعین کرنے کے پیمانے بھی اپنے مفادات کے مطابق بنا لیے ہیں۔ دولت، لباس، گاڑی اور اختیار اکثر انسان کی اہمیت کا معیار بن جاتے ہیں، جبکہ محروم شخص کی ضرورت اور صلاحیت کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
انہی خیالات میں گم، میں بستر پر لیٹا اور آنکھیں بند کرتے ہی نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میرا بستر زمین سے بلند ہونے لگا ہے۔ پہلے کمرے کی چھت نظروں سے اوجھل ہوئی، پھر مکان، گلیاں، شہر، پہاڑ اور سمندر نیچے رہ گئے۔ میں بادلوں کو چیرتا ہوا فضا کی بلندیوں پر پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے خلا میں داخل ہو گیا۔
میرے سامنے زمین ایک عظیم نیلے گولے کی صورت میں گردش کر رہی تھی۔ سمندر اس کے جسم پر پھیلی نیلی رگوں کی مانند، جنگلات سبز لباس کی طرح اور شہر اس کے چہرے پر جگمگاتے نقطوں کی صورت دکھائی دے رہے تھے۔ خلا سے نہ سرحدیں نظر آتی تھیں، نہ قوموں کی برتری کے نشان۔ نہ کوئی بادشاہ دکھائی دیتا تھا، نہ کوئی فقیر؛ سب ایک ہی زمین کے باشندے تھے اور سب کی زندگی کا انحصار اسی سیارے پر تھا۔
اس منظر نے میرے اندر ایک عجیب سکون پیدا کیا۔ پھر زمین کی سطح بدلنے لگی۔ زمانے کی تہیں کھلنے لگیں، جیسے کائنات کی کسی عظیم کتاب کے صفحات میری آنکھوں کے سامنے پلٹ رہے ہوں۔
معاشی نظاموں کا ارتقا
میں نے انسان کو اس کے ابتدائی دور میں دیکھا۔ چھوٹے چھوٹے گروہ فطرت کے قریب زندگی گزار رہے تھے۔ لوگ شکار کرتے، پھل جمع کرتے، زمین سے خوراک حاصل کرتے اور اپنی بقا کے لیے ایک دوسرے کی مدد لیتے تھے۔ مختلف معاشروں میں رشتوں، خاندان اور قبائلی روایات کی بنیاد پر نظم قائم تھا۔ بعض معاشروں میں خواتین کا سماجی کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا، جبکہ دوسرے معاشروں میں مردوں کی سربراہی غالب تھی۔
وقت کے ساتھ زراعت نے انسانی زندگی بدل دی۔ آبادی بڑھی، زمین پر ملکیت کے تصورات پیدا ہوئے اور پیداوار کے ذخیرے نے معاشرتی مرتبے کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ کہیں مشترکہ وسائل پر انحصار برقرار رہا، کہیں زمین اور دولت چند ہاتھوں میں سمٹنے لگی۔ انسانی معاشرت کے ساتھ تعاون اور مسابقت، دونوں نے اپنی جگہ بنائی۔
پھر میں نے تبادلے کا زمانہ دیکھا۔ کوئی اناج کے بدلے کپڑا لیتا، کوئی جانور کے عوض اوزار حاصل کرتا۔ لیکن براہِ راست تبادلے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ انسان نے ان مشکلات کو دور کرنے کے لیے دھاتوں، سکوں اور بعد میں کاغذی کرنسی کو ذریعۂ تبادلہ بنایا۔ تجارت پھیلی، شہر آباد ہوئے اور دولت جمع کرنے کے نئے راستے کھل گئے۔
صنعتی انقلاب نے اس سفر کو مزید تیز کر دیا۔ مشینوں نے پیداوار بڑھائی، نئی صنعتیں قائم ہوئیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ مگر اس ترقی کے ساتھ سرمایہ اور محنت کے درمیان فاصلے بھی نمایاں ہوئے۔ کارخانوں کے مالکان کے پاس دولت اور اختیار جمع ہونے لگا، جبکہ بہت سے مزدور طویل محنت کے باوجود بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔
سرمایہ دارانہ نظام نے سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور اختراع کے نئے امکانات پیدا کیے، لیکن دولت کے ارتکاز اور معاشی نابرابری کے مسائل بھی سامنے آئے۔ اس کے جواب میں سوشلسٹ اور اشتراکی نظریات ابھرے، جنہوں نے اجتماعی ملکیت، معاشی مساوات اور محنت کشوں کے حقوق پر زور دیا۔ ان نظریات کے عملی تجربات مختلف رہے؛ کہیں تعلیم، صحت اور اجتماعی بہبود میں پیش رفت ہوئی، تو کہیں ریاستی جبر، اختیارات کے ارتکاز اور معاشی دشواریوں نے نئے مسائل پیدا کیے۔
میں نے تاریخ کے اس طویل سفر میں محسوس کیا کہ معاشی نظام بدلتے رہے، مگر دولت اور اختیار کے درمیان تعلق انسانی زندگی پر اثرانداز ہوتا رہا۔ کسی نظام کی اصل قدر اس کے نام یا دعوے سے نہیں، بلکہ اس کے عملی نتائج سے متعین ہوتی ہے۔
نظریہ، منڈی اور عالمی معیشت
اسی دوران میری نظر چین پر پڑی۔ میں نے اسے ماؤ کے دور کی اشتراکی معیشت سے آگے بڑھتے دیکھا، جہاں بعد کے ادوار میں معاشی اصلاحات کے ذریعے منڈی، نجی کاروبار، سرمایہ کاری اور عالمی تجارت کو وسیع جگہ دی گئی۔ ریاست نے معیشت میں اپنا مضبوط کردار برقرار رکھا، مگر بازار کی قوتوں کو بھی قبول کیا۔
چین کا تجربہ میرے لیے اس حقیقت کی علامت تھا کہ معاشی نظام جامد نہیں ہوتے۔ بدلتے حالات، قومی ضروریات اور ترقی کے تقاضے انہیں نئی شکل دیتے رہتے ہیں۔ ایک ملک اپنے نظریاتی ورثے کے بعض حصے برقرار رکھتے ہوئے عالمی منڈی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتا عالمی معیشت اب محض اشیا کی خرید و فروخت تک محدود نہیں رہی تھی۔ مالیاتی ادارے، قرض، سرمایہ کاری، بین الاقوامی معاہدے، توانائی، معدنیات، ٹیکنالوجی اور عالمی منڈیاں ایک دوسرے سے گہری وابستگی اختیار کر چکی تھیں۔ ایک ملک کا معاشی فیصلہ ہزاروں میل دور آباد لوگوں کے روزگار، قیمتوں اور مستقبل پر اثرانداز ہو سکتا تھا۔
انسان نے دنیا کو معاشی طور پر ایک دوسرے سے جوڑ دیا تھا، لیکن اس تعلق کے ساتھ انصاف اور مساوات کے اصول اسی رفتار سے مضبوط نہیں ہوئے تھے۔ کہیں عالمی تجارت نے خوش حالی کے نئے دروازے کھولے، کہیں قرضوں کے بوجھ اور غیر منصفانہ شرائط نے کمزور معیشتوں کی آزادی محدود کر دی۔
زمین کے خزانے اور انسانی محرومی
خلا سے مجھے دنیا کے مختلف خطے دکھائی دینے لگے۔ کہیں تیل اور گیس کے ذخائر تھے، کہیں سونا، تانبا اور دوسری معدنیات، کہیں زرخیز زمینیں، وسیع جنگلات اور آبی وسائل۔ قدرت نے زمین کے مختلف حصوں کو الگ الگ نعمتوں سے نوازا تھا، مگر ان نعمتوں کی موجودگی ہر جگہ خوش حالی کی ضمانت نہیں بنی تھی۔
کئی وسائل سے مالا مال علاقوں میں عام لوگ غربت، بے روزگاری، ناقص تعلیم اور علاج کی کمی کا شکار تھے۔ دوسری طرف کچھ ممالک نے محدود قدرتی وسائل کے باوجود تعلیم، ٹیکنالوجی، صنعت، تجارت اور مضبوط اداروں کے ذریعے ترقی کی راہیں ہموار کی تھیں۔
مجھے واضح ہوا کہ قدرتی دولت اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کا منصفانہ اور دانش مندانہ استعمال، شفاف حکمرانی، امن، تعلیم اور اداروں کی مضبوطی بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ وسائل کی موجودگی سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ان سے پیدا ہونے والے فوائد کس تک پہنچتے ہیں۔
میں نے یہ بھی دیکھا کہ طاقت ور ریاستیں اکثر کمزور خطوں کے قدرتی وسائل، تجارتی راستوں اور تزویراتی اہمیت میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ کہیں یہ تعلق سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کی شکل اختیار کرتا، مگر کہیں سیاسی دباؤ، مسابقت اور تصادم کے خطرات بڑھنے لگتے۔
زمین کے خزانوں کو انسانی زندگی بہتر بنانے کا وسیلہ ہونا چاہیے تھا، لیکن بعض اوقات یہی خزانے غلبے اور دشمنی کی بنیاد بن جاتے تھے۔ تیل سے توانائی، معدنیات سے صنعت، پانی سے زراعت اور علم سے بیماریوں کا علاج ممکن تھا، مگر انسانی مفادات کی کشمکش ان امکانات کو جنگ اور عدم استحکام میں بدل دیتی تھی۔
بارود کے سائے میں دو دنیائیں
اچانک میرے کانوں میں دھماکوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ میں نے نیچے دیکھا تو کئی خطوں میں بارود کا دھواں اٹھ رہا تھا۔ کہیں گولیاں چل رہی تھیں، کہیں عمارتیں ملبے میں بدل رہی تھیں اور کہیں بچے اپنے اجڑے ہوئے گھروں کے درمیان خوف زدہ کھڑے تھے۔ مائیں اپنے پیاروں کو تلاش کر رہی تھیں اور نوجوانوں کے خواب جنگ اور بے یقینی کی نذر ہو رہے تھے۔
بہت سے ترقی پذیر اور پسماندہ معاشروں میں سیاسی تشدد، جنگ، عدم استحکام اور معاشی محرومی نے انسانی زندگی کو دشوار بنا رکھا تھا۔ کہیں تعلیمی ادارے بند تھے، کہیں علاج کی سہولتیں ناپید تھیں اور کہیں روزگار کی تلاش میں لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور تھے۔
پھر منظر بدل گیا۔ دنیا کے دوسرے حصوں میں بلند عمارتیں، جدید اسپتال، یونیورسٹیاں، تحقیقی مراکز، پُرامن شاہراہیں اور تفریحی مقامات دکھائی دینے لگے۔ بچے محفوظ ماحول میں کھیل رہے تھے، سائنس دان نئی دریافتوں میں مصروف تھے اور لوگ اپنے مستقبل کے منصوبے بنا رہے تھے۔ بہت سے معاشروں میں جدید طب، تعلیم، ٹیکنالوجی اور ذاتی آزادیوں نے زندگی کے امکانات وسیع کر دیے تھے۔
ان معاشروں میں بعض طرزِ زندگی اور اخلاقی رویے ایسے بھی تھے جنہیں مختلف مذہبی اور ثقافتی معاشروں میں ناپسند کیا جاتا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ تہذیبوں کے اختلاف کو سمجھنے کے لیے صرف ظاہری طرزِ زندگی کو معیار بنانا کافی نہیں۔ معاشروں کے تاریخی تجربات، اخلاقی تصورات اور سماجی ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں، مگر انسانی وقار، بنیادی حقوق اور باہمی احترام کی اہمیت اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
ترقی کی اصل تصویر مجھے اس وقت مکمل دکھائی دی جب میں نے خوش حال معاشروں کی سہولتوں کے ساتھ محروم علاقوں کے حالات کا موازنہ کیا۔ علم اور وسائل کی ترقی کے باوجود دنیا میں بنیادی ضروریات سے محروم انسانوں کی موجودگی اس بات کی یاد دہانی تھی کہ ترقی کا فائدہ ابھی سب تک نہیں پہنچا۔
سیاست کی بھولی ہوئی منزل
زمین کے مختلف حصوں میں سیاسی سرگرمیاں جاری تھیں۔ کہیں سیاست عوامی خدمت اور اداروں کی تعمیر کا وسیلہ بن رہی تھی، مگر کہیں اقتدار کی کشمکش نے اسے اپنی اصل منزل سے دور کر دیا تھا۔ سیاسی مخالفین کو دشمن سمجھا جا رہا تھا اور نظریاتی اختلافات کو معاشرتی تقسیم میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔
بھارت کا منظر میرے لیے خاص طور پر پریشان کن تھا۔ میرے خواب میں وہاں شناخت، مذہب اور قومیت کے نام پر پیدا ہونے والی کشیدگی کی تصویریں ابھر رہی تھیں۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ جب سیاست محدود قومی یا مذہبی تصورات اور اکثریتی غلبے کی خواہش میں گرفتار ہو جائے تو اس کے اثرات سیاسی میدان سے نکل کر معاشرتی ہم آہنگی اور انسانی تعلقات تک پہنچ جاتے ہیں۔
قوم سے محبت اپنی جگہ قابلِ قدر جذبہ ہے، مگر اس کا تقاضا دوسروں سے نفرت نہیں۔ سیاست اگر عوامی خدمت کے بجائے خوف، تعصب اور دشمنی کو اپنا وسیلہ بنا لے تو وہ معاشرے کی تعمیر کے بجائے اس کی بنیادوں کو کمزور کرنے لگتی ہے۔
یہ کیفیت صرف ایک ملک تک محدود نہ تھی۔ مختلف خطوں میں مختلف نظریات کے نام پر اقتدار کی کشمکش جاری تھی۔ سیاست کا مقصد عوام کی زندگی بہتر بنانا تھا، لیکن کہیں سیاسی قوتیں اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے اور مخالفین کو زیر کرنے میں اتنی مصروف تھیں کہ تعلیم، روزگار، انصاف اور شہری تحفظ جیسے بنیادی معاملات پس منظر میں چلے گئے تھے۔
میں نے محسوس کیا کہ سیاسی کامیابی کا اصل معیار مخالف کو شکست دینا نہیں، بلکہ عوام کو بہتر زندگی فراہم کرنا ہے۔ اقتدار ایک ذمہ داری ہے، برتری کا دائمی حق نہیں۔
مذہب، ریاست اور معاشی ترقی
میرے بستر کا سفر جاری تھا۔ اب میرے سامنے یورپ کے مختلف معاشروں کے مناظر تھے۔ میں نے دیکھا کہ کئی ممالک میں جدید ریاستی اداروں، تعلیم، معاشی ترقی اور شہری حقوق کے فروغ کے ساتھ مذہبی اداروں کا براہِ راست ریاستی اقتدار پر تاریخی اثر محدود ہوا تھا۔ تاہم یہ تبدیلی ہر ملک میں یکساں نہیں تھی اور مذہب لوگوں کی زندگیوں سے ختم نہیں ہوا تھا؛ اس کا سماجی اور سیاسی کردار مختلف صورتوں میں برقرار تھا۔
میں نے محسوس کیا کہ مضبوط اداروں، معاشی استحکام اور جدید تعلیم نے بعض معاشروں میں ریاستی معاملات کو مذہبی اداروں کے براہِ راست اختیار سے الگ رکھنے میں کردار ادا کیا، مگر اس تبدیلی کے پیچھے طویل تاریخی، فکری اور سیاسی عوامل بھی موجود تھے۔
اس کے بعد میری نظر مسلم اکثریتی ممالک کی طرف گئی، جہاں مذہبی جماعتیں اور مذہبی نظریات مختلف سطحوں پر سیاست اور ریاستی معاملات پر اثرانداز ہو رہے تھے۔ کہیں یہ اثر عوامی نمائندگی اور سماجی خدمت کے ذریعے سامنے آتا تھا، کہیں قانون سازی اور ریاستی شناخت کے مباحث میں، اور کہیں مذہبی تعبیرات سیاسی اختلافات کا مرکز بن جاتی تھیں۔
میں نے سوچا کہ مذہب انسان کو انصاف، دیانت، رحم، امانت اور خدمت کی تعلیم دے سکتا ہے، مگر مذہبی شناخت کو اقتدار کے حصول کا وسیلہ بنانے کی صورت میں سیاسی فیصلوں کا احتساب بھی ضروری ہے۔ کوئی مذہبی جماعت محض اپنے نام کی وجہ سے جواب دہی سے بالاتر نہیں ہو سکتی، اور کوئی غیر مذہبی ریاست صرف ترقی کے دعوے کی بنیاد پر مکمل انصاف کی مستحق قرار نہیں دی جا سکتی۔
اصل معیار یہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی قوت اپنے اختیار کو کس طرح استعمال کرتی ہے، شہریوں کے حقوق کا کتنا احترام کرتی ہے اور محروم انسانوں کی زندگی میں کتنی بہتری لاتی ہے۔ مذہبی یا غیر مذہبی، قومی یا عالمی، ہر نظریے کو انسانی عزت، انصاف اور عوامی فلاح کے پیمانے پر پرکھا جانا چاہیے۔
دانشوروں کی بیداری
اسی دوران زمین کے مختلف حصوں سے ایک غیر معمولی منظر ابھرنے لگا۔ مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف مذاہب اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف معاشی و سیاسی نظریات کے حامل دانشور چھوٹے چھوٹے حلقوں میں جمع ہو کر غور و فکر کر رہے تھے۔
وہ اسلحے کی دوڑ، معاشی نابرابری، سیاسی تقسیم، مذہبی اور قومی نفرت، قدرتی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عالمی تصادم کے خطرات پر گفتگو کر رہے تھے۔ ان کی فکر کا مرکز یہ تھا کہ انسان نے سائنس، صنعت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے حیرت انگیز ترقی کی ہے، مگر اس ترقی کو امن، انصاف اور اجتماعی خوش حالی میں تبدیل کرنے کا کام ابھی نامکمل ہے۔
کچھ دانشوروں کا کہنا تھا کہ دنیا کا مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ان پر اختیار اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کی غیر منصفانہ تقسیم بھی ہے۔ دوسرے اس بات پر زور دے رہے تھے کہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی؛ بھوک، جہالت، محرومی اور ایسے معاشی ڈھانچے بھی انسانی زندگی کو تباہ کرتے ہیں جن میں چند لوگوں کی آسائش کے مقابلے میں بڑی آبادی بنیادی سہولتوں سے محروم رہتی ہے۔
ان کا مقصد کسی ایک نظریے، مذہب یا ثقافت کو پوری دنیا پر مسلط کرنا نہیں تھا۔ وہ ایک ایسا مشترکہ اصول تلاش کر رہے تھے جو اختلاف کے باوجود انسانی حقوق، ریاستی خودمختاری اور مشترکہ مستقبل کی حفاظت کر سکے۔
آخرکار دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے دانشور ایک عالمی مجلس میں جمع ہوئے۔ ان کے سامنے نئی دنیا کا خاکہ تیار کرنے کا کام تھا۔ کسی کے پاس معیشت سے متعلق تجاویز تھیں، کسی نے ریاستی اختیار اور عوامی جواب دہی پر تحریر پیش کی، کوئی تعلیم اور صحت کے بنیادی حقوق پر کام کر رہا تھا، اور کوئی علم و ٹیکنالوجی کو محروم علاقوں تک پہنچانے کے طریقے تجویز کر رہا تھا۔
یہ مجلس سیاست دانوں کی جگہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے نہیں تھی۔ دانشور سیاست کو اس کی اصل منزل یاد دلانا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ریاستی طاقت عوامی فلاح کے تابع ہو، اختلاف کو دشمنی کے بجائے مکالمے سے حل کیا جائے اور معاشی ترقی کے ثمرات چند ہاتھوں تک محدود رہنے کے بجائے عام انسان تک پہنچیں۔
نئی دنیا کا فیصلہ
دانشوروں نے سب سے پہلے یہ اصول طے کیا کہ کوئی سیاسی، مذہبی یا معاشی نظریہ انسانی عزت سے بالاتر نہیں ہوگا۔ ہر ریاست اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرے گی، ہر مالیاتی ادارہ اپنے فیصلوں کے انسانی اثرات کا جواب دہ ہوگا اور ہر عالمی معاہدے میں شفافیت، منصفانہ شرائط اور باہمی احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔
انہوں نے فیصلہ کیا کہ تجارت قوموں کو محتاج بنانے کے بجائے انہیں معاشی طور پر مضبوط کرے گی۔ قرض ترقی کا ذریعہ ہوگا، مستقل غلامی کی زنجیر نہیں۔ سرمایہ کاری سے مقامی آبادی کے لیے روزگار، علم اور خوش حالی پیدا ہوگی۔ قدرتی وسائل پر متعلقہ قوموں کے جائز حقوق محفوظ رہیں گے، جبکہ ان کے استعمال میں ماحول اور آنے والی نسلوں کے مفادات کو بھی ملحوظ رکھا جائے گا۔
پھر وہ لمحہ آیا جس نے میرے خواب کو ایک نئی معنویت عطا کر دی۔
دانشوروں نے عالمی مالیاتی اداروں اور انسانی اجتماعی محنت سے پیدا ہونے والی دولت کے بارے میں ایک بنیادی فیصلہ کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عالمی مالیاتی نظام اور اجتماعی وسائل پر کسی فرد، مخصوص طبقے یا ایک نظریاتی گروہ کی مطلق اور غیر جواب دہ اجارہ داری قائم نہیں رہنی چاہیے۔ ان اداروں اور وسائل کو انسانیت کی فلاح کے لیے امانت سمجھا جائے گا، اور ان کے استعمال کا مقصد اجتماعی ترقی، معاشی خودمختاری اور انسانی بہبود ہوگا۔
ان کا مؤقف تھا کہ مالیاتی ادارے انسانوں کی خدمت کے لیے قائم ہوتے ہیں، انسان ان اداروں کی خدمت کے لیے نہیں۔ ان کی کامیابی صرف منافع سے نہیں، بلکہ اس بات سے بھی ناپی جائے گی کہ وہ کتنی غربت کم کرتے، کتنے روزگار پیدا کرتے، کتنی معیشتوں کو مضبوط بناتے اور کتنے لوگوں کو بنیادی سہولتوں تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔
یہ فیصلہ ہر قسم کی نجی ملکیت ختم کرنے کا اعلان نہیں تھا، بلکہ اس اصول کا اظہار تھا کہ بنیادی انسانی ضروریات اور اجتماعی وسائل کو چند افراد کے غیر محدود اختیار کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ معاشی آزادی کے ساتھ جواب دہی، سرمایہ کاری کے ساتھ انصاف اور ترقی کے ساتھ انسانی حقوق لازم ہوں گے۔
دانشوروں نے واضح کیا کہ کسی قوم کی خودمختاری کا احترام ضروری ہے، مگر ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کا جواز خودمختاری سے حاصل نہیں کر سکتی۔ اسی طرح عالمی تعاون کا مطلب بھی یہ نہیں کہ طاقت ور ملک کمزور قوموں کے وسائل یا فیصلوں پر تسلط قائم کر لے۔
نئی دنیا میں تعلیم، صحت، خوراک، صاف پانی، بنیادی توانائی اور انسانی تحفظ کو محض منافع بخش اشیا کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا۔ معاشی سرگرمی جاری رہے گی، لیکن ان بنیادی ضروریات تک رسائی کو انسانی فلاح کے مرکزی اصولوں کے ساتھ جوڑا جائے گا۔
مجھے یوں محسوس ہوا کہ دانشور دنیا کی تمام دولت کو کسی ایک صندوق میں جمع کرکے کسی ایک مرکز کے حوالے نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کا مقصد دولت، اختیار اور اداروں کے استعمال کے اصول بدلنا تھا، تاکہ کسی ایک طبقے کی خوش حالی پوری انسانیت کی محرومی پر قائم نہ رہے۔
یہی میرے خواب کا سب سے خوش کن منظر تھا۔ صدیوں سے انسان دولت اور اقتدار کے لیے نظام بناتا رہا تھا، مگر اب پہلی بار میں نے ایک ایسی مجلس دیکھی جو نظام کو انسان کے تابع کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
آدم کی اولاد اور مشترکہ گھر
اس مجلس کے بعد میری نگاہ پھر زمین پر پڑی۔ مختلف قوموں کے چہرے، رنگ، زبانیں، لباس اور ثقافتیں اپنی الگ شناخت کے ساتھ دکھائی دے رہی تھیں، مگر خوشی، غم، محبت، خوف اور امید کے جذبات میں ایک مشترک انسانی رنگ نمایاں تھا۔
ہم سب حضرت آدمؑ کی اولاد ہیں۔ اس نسبت کو اگر محض ایک جملے کے بجائے انسانی ذمہ داری سمجھ لیا جائے تو شاید دوسروں کی محرومی کو اپنی کامیابی تصور کرنا مشکل ہو جائے۔ زمین کسی ایک قوم، زبان یا نظریے کے لیے مخصوص نہیں؛ اس پر آباد تمام انسان ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔
ایک خطے میں جنگ کا دھواں دور دراز معیشتوں کو متاثر کر سکتا ہے، ایک جگہ ماحول کی تباہی دوسرے علاقوں کی زندگی بدل سکتی ہے، اور ایک معاشرے میں علم کی ترقی پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ناانصافی، نفرت اور معاشی عدم استحکام کے اثرات بھی سرحدوں میں محدود نہیں رہتے۔
زمین کے وسائل، انسانی محنت اور اجتماعی علم کو اگر باہمی تعاون کے ساتھ استعمال کیا جائے تو دنیا کے بہت سے مسائل کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ریاستیں اپنی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے عالمی ذمہ داریوں کو بھی تسلیم کریں، اور طاقت ور معاشرے کمزور معاشروں کی ترقی کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھنے کے بجائے مشترکہ خوش حالی کا موقع تصور کریں۔
رازقِ کائنات
میں ابھی ان خیالات میں گم تھا کہ زمین کی روشنیاں مدھم ہونے لگیں۔ دانشوروں کی مجلس دور ہوتی گئی، نئی دنیا کا خاکہ روشنی میں تحلیل ہونے لگا اور میرا بستر آہستہ آہستہ خلا سے زمین کی طرف اترنے لگا۔
شہر، پہاڑ، سمندر اور عمارتیں دوبارہ اپنے مانوس رنگوں میں دکھائی دینے لگیں۔ میں نے آخری مرتبہ زمین کو دیکھا؛ وہی نیلا سیارہ، وہی مشترکہ گھر اور وہی انسان، جو اپنی عقل، محنت اور صلاحیتوں سے دنیا کو بہتر بنانے کے ساتھ اسے اپنے مفادات کی کشمکش میں الجھانے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔
پھر اچانک میری آنکھ کھل گئی۔
میں اپنے کمرے میں تھا۔ طویل سفر کی تھکن سے نڈھال اور سخت پیاس سے بے حال تھا۔ حلق خشک ہو رہا تھا اور مجھے فوراً پانی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ میں نے اپنے قریب پانی تلاش کرنے کے لیے نظر دوڑائی، مگر پانی کے بجائے وہاں ایک کاغذ پڑا تھا۔ میں نے حیرت سے اسے اٹھایا۔ اس پر چند الفاظ درج تھے:
’رازق اللہ پاک ہے۔‘‘
میں دیر تک ان الفاظ کو دیکھتا رہا۔ خواب کی ساری تصویریں میرے ذہن میں تازہ تھیں: فروٹ ریڑھی پر قیمتوں کا فرق، خلا سے دکھائی دیتی زمین، جنگوں کی آگ، ترقی یافتہ معاشروں کی خوش حالی، عالمی مالیاتی اداروں پر دانشوروں کے فیصلے اور ایک ایسی نئی دنیا کا تصور جہاں انسان کو معاشی نظام کا غلام نہیں، بلکہ اس نظام کی تشکیل اور بہتری کا اصل مقصد سمجھا جائے۔
طویل سفر کے بعد مجھے پانی کی شدید ضرورت تھی، مگر سامنے پڑے کاغذ نے میری توجہ رزق، اختیار اور انسانی ذمہ داری کے ایک وسیع مفہوم کی طرف مبذول کر دی۔ رزق کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے، لیکن انسان پر محنت، دیانت، انصاف اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ اپنی طاقت یا دولت کی بنیاد پر کسی دوسرے انسان کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا اور اس کے جائز حقوق دبانا انسانی شرافت کے منافی ہے۔
میں نے محسوس کیا کہ انسان کی اصل آزمائش نعمتوں کا حصول نہیں، بلکہ ان کے ساتھ اس کا رویہ ہے۔ دولت اسے دوسروں کی خدمت پر آمادہ کرتی ہے یا غرور میں مبتلا کر دیتی ہے؛ اختیار اسے حقوق کی حفاظت کی طرف لے جاتا ہے یا ظلم کا راستہ دکھاتا ہے؛ علم اسے انسانیت کے مستقبل کی تعمیر میں حصہ لینے کے قابل بناتا ہے یا محض اپنی برتری ثابت کرنے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔
رات خاموش تھی اور دنیا اپنی رفتار سے چل رہی تھی۔ کہیں کوئی دولت گن رہا تھا، کہیں کوئی قرض کے بوجھ تلے پریشان تھا، کہیں کوئی جنگ سے بچنے کے لیے اپنا گھر چھوڑ رہا تھا اور کہیں کوئی دانشور انسانیت کے مستقبل کے لیے نئے راستے تلاش کر رہا تھا۔
میں نے آنکھیں بند کیں تو زمین کا وہ نیلا گولا پھر میرے سامنے آ گیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس کی اصل عظمت قدرتی خزانوں، بلند عمارتوں یا طاقت ور ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ اس پر آباد انسانوں کی عزت، آزادی، تحفظ اور خوش حالی میں ہے۔
میں نے دل ہی دل میں دعا کی:
’’اے مالکِ کائنات! انسان کو اتنا شعور عطا فرما کہ وہ تیری نعمتوں کو اپنی برتری کا وسیلہ نہیں، بلکہ تیری مخلوق کی خدمت کا ذریعہ بنائے؛ اور اسے اتنی دانائی دے کہ وہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں انسانیت کو دفن کرنے کے بجائے اسے دوبارہ زندہ کر سکے۔‘‘
خواب ختم ہو چکا تھا، مگر اس کا پیغام میرے ذہن میں روشن تھا۔ زمین ہم سب کا مشترکہ گھر ہے، اس کے وسائل انسانی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہیں اور انسان کی عظمت اس میں ہے کہ وہ اپنی ترقی کو دوسروں کی محرومی پر قائم کرنے کے بجائے سب کے لیے خوش حالی کا راستہ بنائے۔
شاید نئی دنیا کا آغاز اسی دن ہوگا جب انسان یہ سمجھ لے گا کہ زمین کی سب سے بڑی دولت صرف خزانے، منڈیاں اور مالیاتی ادارے نہیں، بلکہ خود انسان ہے؛ اور کوئی بھی نظام اس وقت تک عظیم نہیں ہو سکتا جب تک اس کی عظمت میں انسان کی عزت، آزادی، تحفظ اور خوش حالی شامل نہ ہو۔
میں نے کاغذ کو تہ کرکے اپنے قریب رکھ دیا۔ پانی کی تلاش ابھی باقی تھی، مگر خواب نے مجھے یہ احساس دلا دیا تھا کہ انسانیت کی پیاس صرف پانی سے نہیں بجھتی؛ اسے انصاف، امن اور اجتماعی شعور کی بھی ضرورت ہے