کابل (ویب نیوز) افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ماسکو فارمیٹ کے آٹھویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل پاکستان کے ساتھ موجود سکیورٹی، سیاسی اور اقتصادی مسائل کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، تاہم ان کے بقول اسلام آباد نے فوجی طرزِ عمل اختیار کرلیا ہے اور افغانستان ہر قسم کی جارحیت کے خلاف دفاع کو اپنا مسلمہ حق سمجھتا ہے۔ متقی نے پاکستان پر افغانستان کی خودمختاری کے خلاف فوجی حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں کنڑ، ہلمند اور پکتیکا میں بمباری سے عام شہری متاثر ہوئے، جبکہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سرحدی علاقوں میں مسلح افراد جمع کرکے افغانستان میں بدامنی پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں جنگ کا دور ختم ہوچکا ہے، سکیورٹی بہتر ہوئی ہے اور ملک اقتصادی بحالی، سرمایہ کاری، تجارت اور علاقائی رابطوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ متقی نے کہا کہ افغانستان داعش اور منشیات کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور علاقائی ممالک کے ساتھ مشترکہ سکیورٹی و اقتصادی تعاون کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ٹاپی، ٹاپ، کاسا 1000 اور ٹرانس افغان ریلوے سمیت علاقائی منصوبوں کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کابل اپنی خارجہ پالیسی متوازن تعلقات، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
