مقامی ۵ مئی ۲۰۲۶

نیا مائنز ایکٹ نافذ کرنے سے قبل آجر ،اجیر ، ٹریڈ یونین تنظیموں کو اعتماد میں لیا جائے

کوئٹہ (صداقت انٹرنیشنل نیوز )پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نیا مائنز ایکٹ نافذ کرنے سے پہلے آجر ،اجیر اور مائننگ کے شعبے سے وابستہ ٹریڈ یونین تنظیموں کو اعتماد میں لیا جائے ۔یہ مطالبہ مائننگ کے شعبے سے وابستہ کان کنوں کی صحت وسلامتی کے حوالے سے منعقدہ ورکشاپ کے اختتام پر کیا گیا۔ ورکشاپ میں پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی چیئرمین عبدالستار،مرکزی سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان ، چیف مائنز انسپکٹر بلوچستان عاطف ہزارہ،مائنز ائنڈ منرل ڈیپارٹمنٹ بلوچستان سے انجینئر ذیشان، چواسیدن شاہ سے راسعید خٹک ، شانگلہ سے علی باش، اولپوری سے سرفراز خان ،انڈسٹری آل گلوبل یونین کے پراجیکٹ ڈائریکٹر تنویر نذیر، ڈیرہ اسماعیل خان سے عبدالسلام مروت ،شیخوپورہ سے چوہدری عبیداللہ گجر ،محمد زمین ،عبدالستار جونیئر ،ماسٹر ٹرینر عبدالحلیم خان ، اسسٹنٹ انجینئر پی ایم ڈی سی محب اللہ ، انجینئر محمد قاسم ،نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی ممبر پروفیسر فرخندہ، ولید سمیت ملک بھر سے ٹریڈ یونین نمائندہ نے شرکت کی۔چیف مائنز انسپکٹر بلوچستان عاطف ہزارہ نے کہا کہ نیا مائنز ایکٹ نافذ ہونے سے حادثات کی روک تھام میں مدد ملے گی ،جس سے مائننگ کا شعبہ ترقی کر ے گا۔ کان کنوں کی صحت وسلامتی کے حوالے سے منعقدہ ورکشاپ کے شرکا نے مشترکہ طور پر کہا کہ مائننگ کے شعبے سے مالکان اربوں روپے کماتے ہیں لیکن بدقسمتی سے کان کنوں کی صحت وسلامتی اور ان کی زندگیوں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے اقدامات نہیں کیے جاتے، ٹھیکیداری نظام کی وجہ سے مائننگ کے شعبے میں لیبر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،مختلف گیسوں کے اخراج سے مائن منہدم ہونے کے واقعات پیش آتے ہیں جس کے نتیجے میں غریب مزدور شہید ہو جاتے ہیںلہٰذا کان کنی کے شعبے سے ٹھیکیداری نظام فوری طورپرختم کیا جائے ،مائن کی ڈیجیٹل انسپکشن یقینی بنائی جائے ، مائن ورکرزحفاظتی آلات کا استعمال یقینی بنائیں،اگرمائن مالکان، کان کن اور لیبر انسپکٹر اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھائیں تو حادثات میں کمی آسکتی ہے۔ورکشاپ کے شر کا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مائننگ ایریاز میں جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال ، ریسکیو سنٹر ،کان کنوں کو فوری ریسکیو کرنے کیلئے ہیلی کاپٹرز سروس متعارف کرانے ، حادثات کی کورٹ آف انکوائری میں مزدور نمائندوں کو شامل کرنے،مائنز پر موجود انسپکٹوریٹ کا نمائندہ (مائن سردار)کو با اختیار اور ذمہ دار بنانے سمیت کان کنوں کی سوشل سیکیورٹی ، ای او بی آئی ، مائننگ کمپنی کے پاس رجسٹریشن اور انشورنس کو یقینی بنایا جائے ،کول مائنز مزدوروں کے بچوں کیلئے میڈیکل وانجینئرکالجوں میں کوٹہ مقررکیا جائے،کوئلہ کان میں جان بحق مزدوروں کیلئے یکساں معاوضہ مقرر کیا جائے،لواحقین،یتیموں،بیوائوں کی دادرسی کیلئے ماہانہ پندرہ ہزار روپے کا معاوضہ مقرر کیا جائے ، کوئلہ کان میں معذورافراد کیلئے بیت المال اور زکوة فنڈ سے مالی معاونت کی جائے،کوئلہ مائن مزدوروں کو مستقل مزدور تصور کیا جائے جبکہ مائنز ورکرز کی صحت وسلامتی یقینی بنانے کیلئے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او )کے قوانین اور مائن ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔