اداریہ ۵ ستمبر ۲۰۲۶

6 ستمبر: خوف کی نہیں، اعتماد کی ریاست درکار ہے

6 ستمبر پاکستان کی تاریخ میں دفاعِ وطن، قربانی اور قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ 1965ء میں پاکستانی قوم نے جس جذبے کے ساتھ اپنی سرزمین کے دفاع میں مسلح افواج کا ساتھ دیا، وہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ قومی طاقت کی بنیاد ہوتا ہے۔ مگر آج یومِ دفاع ہمیں صرف ماضی کے معرکوں کی یاد نہیں دلاتا بلکہ یہ سوال بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ وہ عوامی اعتماد، باہمی محبت اور قومی یکجہتی کس طرح دوبارہ پیدا کی جائے جس کے بغیر کوئی بھی ریاست دیرپا طور پر مضبوط نہیں ہو سکتی۔ دفاع صرف سرحدوں پر نہیں ہوتا؛ آئین، قانون، آزادیٔ اظہار، انصاف، تعلیم، معیشت، روزگار اور شہری وقار کا تحفظ بھی ریاستی دفاع کا حصہ ہے۔

سب سے پہلے اس تصور کو ختم کرنا ہوگا کہ شہری اپنی آزادی، سوال کرنے کے حق اور اختلافِ رائے سے خوف کے باعث دستبردار ہو جائے۔ آزادیٔ اظہار کا مطلب ریاست دشمنی نہیں اور ریاست سے سوال کرنا غداری نہیں۔ اسی طرح ریاستی اداروں پر تنقید اور ریاست کے دفاع میں بنیادی فرق کو تسلیم کرنا ہوگا۔

ایک باشعور شہری اپنی فوج، پولیس اور دیگر دفاعی اداروں سے محبت بھی کر سکتا ہے اور ان کی کارکردگی، پالیسی یا فیصلوں پر آئینی دائرے میں سوال بھی اٹھا سکتا ہے۔ ریاست کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پارلیمان کی بالادستی، آئینی اداروں کا احترام، شفاف حکمرانی، آزاد و ذمہ دار صحافت، مؤثر حقِ معلومات، عدالتی انصاف اور شہری آزادیوں کے تحفظ کو محض دستاویزی اصول نہیں بلکہ عملی ریاستی پالیسی بنانا ہوگا۔

دفاعی اداروں کے ساتھ عوام کی محبت بھی حکم، خوف یا رسمی تقریبات سے واپس نہیں لائی جا سکتی۔ اس کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ شہداء اور غازیوں کے خاندانوں کی عزت و کفالت، دفاعی اداروں کے بارے میں شفاف اور ذمہ دار عوامی ابلاغ، نوجوانوں کے لیے قومی خدمت اور شہری تربیت کے پروگرام، تعلیمی اداروں میں آئینی شعور اور قومی تاریخ کی غیر جانب دار تدریس، صحافیوں اور ریاستی اداروں کے درمیان مستقل مکالمہ، اور شکایات کے ازالے کے مؤثر نظام اس فاصلے کو کم کر سکتے ہیں۔ جب شہری کو یقین ہوگا کہ ریاست اس کے حق، عزت اور آزادی کی محافظ ہے تو دفاعی اداروں کے لیے احترام بھی فطری طور پر مضبوط ہوگا۔ عوام کو خاموش کر کے ریاست مضبوط نہیں ہوتی؛ عوام کو شریکِ ریاست بنا کر ریاست مضبوط ہوتی ہے۔

6 ستمبر کا حقیقی پیغام یہی ہونا چاہیے کہ دفاعِ وطن کو خوف کی سیاست سے نکال کر اعتماد کی سیاست میں تبدیل کیا جائے۔ ریاست اپنے شہریوں سے وفاداری کا مطالبہ ضرور کرے، مگر بدلے میں شہری کو آئینی آزادی، انصاف، مساوی مواقع اور عزتِ نفس کی ضمانت بھی دے۔ دفاعی ادارے قوم کا حصہ ہیں اور قوم کی طاقت عوام کے اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ 1965ء کے قومی اتحاد کو نئے عہد کے تقاضوں کے مطابق زندہ کیا جائے؛ ایسا پاکستان جہاں اختلاف کو دشمنی، سوال کو بغاوت اور آزادی کو خطرہ نہ سمجھا جائے، بلکہ آئین، قانون، دلیل اور مکالمے کو قومی قوت کا ذریعہ تسلیم کیا جائے۔ یہی راستہ ریاست کو جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور دفاعِ وطن کو عوامی اعتماد کا حقیقی حصار بنا سکتا ہے۔