محترم نواب ایاز خان جوگیزئی صاحب، جرگے میں شریک قبائلی مشران، سیاسی رہنماؤں، اہلِ دانش، نوجوانوں اور جنوبی پشتونخوا کے غیور پشتونوں کے نام!
اس تاریخی پشتون قومی جرگے میں خود شریک نہ ہوسکا، لیکن دل اور سوچ کے اعتبار سے میں اس جرگے کے ساتھ کھڑا ہوں۔ میری یہ چند گزارشات جرگے میں شریک ہر اس شخص تک پہنچیں جو پشتون قوم کے مستقبل، اپنی سرزمین، اپنی شناخت، اپنے وسائل اور اپنے آئینی و سیاسی حقوق کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ یہ پیغام جرگے کے شرکاء سے آگے بڑھ کر پرنٹ، سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے ہر اس پشتون تک پہنچے جو اپنی تاریخ کو جاننے اور اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کی خواہش رکھتا ہے۔
سیوی، جسے آج سبی کہا جاتا ہے، میرے نزدیک محض ایک شہر نہیں بلکہ ہماری اجتماعی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جو صدیوں تک افغانستان، قندھار، وسطی ایشیا، سندھ اور جنوبی ایشیا کے درمیان انسانی آمدورفت، تجارت اور تہذیبی رابطے کا مرکز رہی۔ نسل در نسل قافلے یہاں سے گزرتے رہے، تجارت ہوتی رہی، خاندان آباد ہوتے رہے اور مختلف سیاسی قوتوں کے اثرات یہاں پہنچتے رہے۔ مختلف ادوار میں سیوی کا تعلق مختلف سیاسی مراکز سے رہا، جن میں قندھار اور افغان حکمران بھی شامل رہے۔ اسی تاریخی جغرافیے نے اسے ہمیشہ غیر معمولی سیاسی اور معاشی اہمیت عطا کی۔
اسی سیوی کی تاریخ پنی یا پنڑی پشتونوں کی تاریخ سے جدا نہیں۔ پنیوں نے اس سرزمین کو صرف اپنا مسکن نہیں بنایا بلکہ اس کے دفاع اور سیاسی بقا کے لیے جدوجہد بھی کی۔ مغل دور کی فوجی مہمات ہوں یا ریاست قلات کے ساتھ ہونے والی کشمکش، پنی سرداروں نے اپنے وقت کے سیاسی حالات میں اپنی زمین اور اپنے اثر و رسوخ کے تحفظ کے لیے مزاحمت کی۔ نواب مرزا خان باروزئی اور ان کے عہد سے وابستہ جنگوں کی روایات ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ اس خطے کے پشتونوں کے لیے اپنی سرزمین کا دفاع محض ایک نعرہ نہیں بلکہ نسلوں پر محیط عملی روایت تھی۔
لیکن سیوی کی تاریخ صرف جنگوں اور سرداروں کی تاریخ نہیں۔ اس سرزمین کی اصل زندگی اس کے پانی، کھیتوں، چراگاہوں اور ان قبائل میں بھی محفوظ ہے جو نسلوں سے یہاں آباد رہے۔ خبک، سیلابی، مرغزانی، صافی اور دوسرے مقامی قبائل کے پانی اور زمین سے وابستہ شرعی و روایتی حقوق بھی اسی تاریخی ورثے کا حصہ ہیں۔ پانی کا حصہ محض پانی کا حصہ نہیں؛ یہ نسلوں کی آبادکاری، زراعت، معاش اور بقا کا سوال ہے۔ اس لیے جو لوگ سیوی کی تاریخ لکھیں، وہ قلعوں اور جنگوں کے ساتھ ساتھ پانی کے ان قدیم حقوق اور ان قبائل کی تاریخ بھی لکھیں جنہوں نے اس خطے کو آباد رکھا۔
اور جب ہم سیوی سے آگے پورے جنوبی پشتونخوا کی طرف دیکھتے ہیں تو ہماری تاریخ کہیں زیادہ وسیع اور متنوع نظر آتی ہے۔ پنی، باروزئی، کاکڑ، اچکزئی، ترین، شیرانی، لونی، زرغون، ناصر، خلیجی اور خلیجی قبائل کی مختلف شاخیں، سید خاندانوں کی متعدد شاخیں، کھیتران کے چند شاخیں اور دوسرے قبائل اس وسیع تاریخی خطے کی اجتماعی داستان کے مختلف ابواب ہیں۔ ہر قبیلے کی اپنی تاریخ، اپنا جغرافیہ، اپنی روایات اور اپنے سیاسی و سماجی تجربات ہیں۔ ہمیں نہ کسی ایک قبیلے کی تاریخ کو پوری جنوبی پشتونخوا کی تاریخ بنانا چاہیے اور نہ کسی قبیلے، خاندان یا شخصیت کی خدمات کو فراموش کرنا چاہیے۔
میرا یہ پیغام صرف تاریخ یاد دلانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے معاشرے کے سامنے ایک سوال رکھنے کے لیے بھی ہے۔
ہم نے اپنے لوگوں کو وہ عزت کیوں نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے؟
وقت کے ساتھ کچھ ایسے خاندان اور قبائل بھی سامنے آئے جنہوں نے بدلتے ہوئے سیاسی اور معاشرتی حالات میں اپنی شناخت کے بارے میں مختلف راستے اختیار کیے۔ بعض نے سیاسی مصلحت، بعض نے معاشرتی تحفظ اور بعض نے عزت و اختیار کی تلاش میں اپنی تاریخی نسبت سے فاصلہ پیدا کیا۔ ان میں سے بعض لوگوں کا یہ گلہ بھی سننے میں آتا ہے کہ انہیں دوسرے معاشرتی دائرے میں وہ عزت اور مقام ملا جو ان کے اپنے لوگوں نے انہیں نہیں دیا۔
ہمیں اس گلے کو نفرت نہیں بنانا چاہیے؛ ہمیں اسے اپنے لیے سبق بنانا چاہیے۔
اگر ہمارے کسی بھائی کو یہ محسوس ہوا کہ اسے دوسروں نے زیادہ عزت دی اور اپنے لوگوں نے کم، تو ہمیں پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ قومیں اپنے لوگوں کو عزت دینے سے کمزور نہیں ہوتیں، بلکہ مضبوط ہوتی ہیں۔ اپنے اہلِ علم، اپنے بہادر لوگوں، اپنے سیاسی کارکنوں، اپنے سرداروں، اپنے صحافیوں، اپنے نوجوانوں اور اپنے صاحبِ کردار افراد کو عزت دینا قومی قوت میں اضافہ ہے۔
اسی لیے میں نواب غوث بخش باروزئی کے اس مؤقف کو اہم سمجھتا ہوں جو انہوں نے اپنی شناخت اور اپنی تاریخ کے حوالے سے اختیار کیا۔ ان سے منسوب یہ روایت کہ انہیں بلوچ بننے کا مشورہ دیا گیا اور انہوں نے اس کے جواب میں ایسا تاریخی جملہ کہا جسے وہ زندگی بھر یاد رکھتے رہے، ایک فرد کا ذاتی واقعہ ہونے کے باوجود شناخت کے ایک بڑے سوال کو سامنے لاتا ہے۔ اس واقعے کی لفظ بہ لفظ آزاد تاریخی تصدیق میرے سامنے نہیں، اس لیے اسے ان کی اپنی بیان کردہ روایت کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے، مگر اس کا پیغام واضح ہے: عزت، منصب اور سیاسی مفاد اپنی تاریخی شناخت سے دستبردار ہونے کا متبادل نہیں ہوسکتے۔
اس جملے کو کسی بلوچ یا براہوی بھائی کے خلاف نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلوچ اور براہوی اقوام ہماری اس سرزمین کی معزز تاریخی اقوام ہیں اور ان کی عزت اپنی جگہ ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی شناخت سے محبت کرے، اپنی تاریخ پر فخر کرے اور اپنی عزت کو کسی سیاسی مصلحت کا تابع نہ بنائے۔
مجھے یہ بات بھی اہم محسوس ہوتی ہے کہ نواب غوث بخش باروزئی نے جب نواب ایاز خان جوگیزئی کے جرگے کے موقع پر اپنی پشتون شناخت پر فخر کیا، سیوی کے دفاع میں اپنے آباؤ اجداد کی جدوجہد کا حوالہ دیا اور قومی حقوق کے لیے صف بندی کی ضرورت پر زور دیا تو ان کی گفتگو نے صرف ایک اجتماع سے خطاب نہیں کیا بلکہ جنوبی پشتونخوا کے ایک بڑے تاریخی سوال کو دوبارہ زندہ کردیا۔
وہ سوال یہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو کب تک دوسروں کے بیان کردہ حوالوں سے سمجھتے رہیں گے؟
ہمیں اپنے بچوں کو بتانا ہوگا کہ سیوی کیا تھا، پنی کون تھے، باروزئی خاندان نے کیا کردار ادا کیا، ہمارے قبائل نے پانی اور زمین کے حقوق کیسے محفوظ کیے، ہمارے بزرگوں نے کن سیاسی حالات میں جدوجہد کی اور جنوبی پشتونخوا کے مختلف قبائل نے اس خطے کی تشکیل میں کیا کردار ادا کیا۔
یہ کام کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں، پوری قوم کا ہے۔
ہمیں اپنے قبائل کی تاریخ لکھنی ہوگی۔
اپنے بزرگوں کے شجرے اور روایات محفوظ کرنا ہوں گے۔
اپنے تاریخی مقامات کی دستاویز بندی کرنا ہوگی۔
اپنے پانی اور زمین کے قدیم حقوق کا ریکارڈ محفوظ کرنا ہوگا۔
اپنی زبان، ادب اور ثقافت کو نئی نسل تک منتقل کرنا ہوگا۔
اور سب سے بڑھ کر اپنے نوجوانوں کو یہ احساس دینا ہوگا کہ وہ ایک ایسی تاریخ کے وارث ہیں جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن میں جرگے کے معزز شرکاء سے ایک اور گزارش بھی کرنا چاہتا ہوں۔
قومی صف بندی کا مطلب کسی قوم یا برادری کے خلاف صف بندی نہیں ہونا چاہیے۔ ہماری جدوجہد اپنے حقوق کے لیے ہو، کسی دوسرے کے حقوق چھیننے کے لیے نہیں۔ ہماری شناخت مضبوط ہو، مگر دوسروں کی شناخت کا احترام بھی برقرار رہے۔ ہماری آواز بلند ہو، مگر ہماری زبان نفرت کی زبان نہ بنے۔
آج پشتون نوجوان کو سب سے زیادہ ضرورت علم، روزگار، تعلیم، سیاسی شعور، معاشی ترقی، امن اور آئینی حقوق کی ہے۔ آج کی دنیا میں نئی تاریخ تلوار سے نہیں، قلم، تعلیم، معیشت، تنظیم اور سیاسی بصیرت سے لکھی جاتی ہے۔
ہمارے بزرگوں نے اپنی زمین کے لیے جنگیں لڑیں؛ ہماری نسل کو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے تعلیم اور وسائل کی جنگ لڑنی ہے۔
انہوں نے پانی کے حصے محفوظ کیے؛ ہمیں علم اور ترقی کے حصے محفوظ کرنے ہیں۔
انہوں نے قلعوں کا دفاع کیا؛ ہمیں اپنے اداروں، اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنی سیاسی آزادیِ رائے کا دفاع کرنا ہے۔
اور اگر انہوں نے اپنی شناخت کے لیے قربانیاں دیں تو ہمیں اپنی شناخت کو شعور، تحقیق اور کردار کے ذریعے زندہ رکھنا ہے۔
محترم جرگہ شرکاء!
میری نظر میں آج جنوبی پشتونخوا کو کسی جذباتی نعرے سے زیادہ ایک فکری تحریک کی ضرورت ہے۔ ایسی تحریک جو تاریخ پڑھے، تحقیق کرے، اختلافِ رائے کو برداشت کرے، اپنے لوگوں کی قدر کرے اور آئینی و جمہوری راستے سے اپنے حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد کرے۔
سیوی کی مٹی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہاں سے صدیوں تک قافلے گزرتے رہے ہیں۔ اسی مٹی نے پنیوں کی مزاحمت دیکھی، باروزئیوں کی سیاست دیکھی، مختلف قبائل کی آبادکاری دیکھی اور بدلتے ہوئے سیاسی نقشے دیکھے۔
اب یہی مٹی ہماری نئی نسل سے ایک سوال کررہی ہے:
کیا تم صرف اپنے ماضی پر فخر کرو گے یا اپنے مستقبل کے لیے بھی کچھ کرو گے؟
میری خواہش ہے کہ اس جرگے سے ایک ایسی سوچ جنم لے جو جنوبی پشتونخوا کے ہر گھر تک پہنچے۔ ایسی سوچ جو پشتون کو اپنے ماضی سے جوڑے مگر مستقبل سے بھی وابستہ رکھے۔ ایسی سوچ جو قبائلی شناختوں کا احترام کرتے ہوئے ایک وسیع تر اجتماعی شعور پیدا کرے۔ ایسی سوچ جو ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنا سکھائے اور اپنے حقوق کے لیے متحد، پرامن اور آئینی جدوجہد کا راستہ دکھائے۔
میرا جسم اگر جرگے میں موجود نہیں، تو میری آواز ضرور موجود ہے۔
یہ آواز کسی فرد، جماعت یا قبیلے کے خلاف نہیں۔
یہ آواز اپنی تاریخ کو یاد کرنے کی آواز ہے۔
اپنی شناخت کو سمجھنے کی آواز ہے۔
اپنے لوگوں کو عزت دینے کی آواز ہے۔
اپنے حقوق کے لیے متحد ہونے کی آواز ہے۔
اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر جنوبی پشتونخوا تعمیر کرنے کی آواز ہے۔
سیوی کی مٹی نے ماضی کے محافظ پیدا کیے تھے؛
اب وقت ہے کہ جنوبی پشتونخوا علم، شعور، کردار اور سیاسی بصیرت کے محافظ پیدا کرے۔
تاریخ ہمارے سامنے ہے۔
اب نئی تاریخ لکھنے کی ذمہ داری ہماری ہے۔
سید انورشاہ
چیف ایڈیٹر روزنامہ نوی ژوند، کوئٹہ
