اداریہ ۴ ستمبر ۲۰۲۶

۔علم، اے آئی اور خوف کے درمیان انسان کا مستقبل

آزادی کو محدود کرنے کے بجائے لامحدود کرنا ہوگا

گزشتہ دنوں ملک انور سلیم کاسی کی جانب سے ممتاز دانشور، ادیب اور محقق نور خان محمد حسنی کے اعزاز میں ایک باوقار استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ اس تقریب کا اصل مقصد نور خان محمد حسنی کو حکومت پاکستان کی جانب سے تمغۂ امتیاز سے نوازے جانے پر ان کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔ تاہم منتظمین کی جانب سے مقررین کو خطاب کے لیے موضوع تو بتایا گیا، لیکن یہ وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ تقریب کا بنیادی سبب ہی نور خان محمد حسنی کا قومی اعزاز ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ تقریب محض مبارک باد تک محدود رہنے کے بجائے ایک وسیع فکری مکالمے میں تبدیل ہوگئی۔ منیر بادینی، دوستین جمالدینی، آغا گل، ملک انور سلیم کاسی، ڈاکٹر شیرین خان، صالح محمد کرکڑ،عبدالمتین اخونزادہ اور دیگر مقررین نے نوجوان نسل، عصری تقاضوں، مصنوعی ذہانت، بزرگ دانشوروں کے تجربے، علم، تربیت اور مستقبل کے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ اسی موقع پر ملک انور سلیم کاسی نے نور خان محمد حسنی کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں خصوصی ایوارڈ دینے کا بھی فیصلہ کیا، جو اس تقریب کو محض ایک رسمی استقبالیے کے بجائے علمی قدردانی کی ایک الگ علامت بنا دیتا ہے۔

تقریب میں نئی نسل کو عصری تقاضوں کے حوالے سے مقدم قرار دینے اور بزرگ دانشوروں کو موجودہ دور کے مقابلے میں نسبتاً کمزور پوزیشن میں دیکھنے کا نقطۂ نظر بھی سامنے آیا۔ بلاشبہ دنیا تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور مصنوعی ذہانت نے انسانی زندگی، علم اور معلومات تک رسائی کے طریقے کو غیرمعمولی طور پر بدل دیا ہے، لیکن یہاں ایک بنیادی سوال نظرانداز نہیں ہونا چاہیے کہ آج کی دنیا کا علم کہاں سے آیا؟ اے آئی نے انسانی تہذیب کو علم کا تحفہ نہیں دیا؛ وہ انسانوں کی صدیوں پر محیط تحقیق، مشاہدے، تجربے، تخلیق اور جستجو کے ذخیرے سے معلومات اخذ کرکے انہیں ایک نئے انداز میں انسان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اس لیے نئی نسل کو بزرگ نسل کا متبادل سمجھنا بھی درست نہیں اور بزرگوں کو عصری تقاضوں سے مکمل طور پر بے دخل سمجھنا بھی۔ نئی نسل کے پاس رفتار ہے، جدید ذرائع ہیں اور ٹیکنالوجی تک بے مثال رسائی ہے، جبکہ بزرگ نسل کے پاس تجربہ، تاریخی شعور، مشاہدہ اور وہ فکری گہرائی ہے جو محض معلومات سے حاصل نہیں ہوتی۔ افسوس یہ ہے کہ تربیت کے بغیر معلومات کی کثرت کبھی کبھی علم کے بجائے اعتمادِ خام پیدا کرتی ہے۔ اس حوالے سے آغا گل نے جس انداز میں تربیت کی کمی کا مظاہرہ کیا، وہ بھی اس تقریب کی گفتگو کا ایک ایسا پہلو ہے جو مدت تک یادگار رہے گا۔ ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہوچکے ہیں جہاں انسان کہتا ہے کہ ہمارے پاس علم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس اس علم کو استعمال کرنے کی تربیت، فہم اور اخلاقی شعور بھی موجود ہے؟

دنیا کی موجودہ ترقی دراصل ماضی کے تمام انسانوں کی مشترکہ جدوجہد کا تسلسل ہے۔ آج ہمارے پاس ایٹمی طاقت ہے، مصنوعی ذہانت ہے، جدید طب ہے، خلائی ٹیکنالوجی ہے اور معلومات تک چند لمحوں میں رسائی ہے، مگر یہ سب کسی ایک نسل کی تخلیق نہیں۔ جب انسان نے پہلی بار بندوق بنائی تھی تو شاید ایٹم بم کا تصور بھی ناقابلِ یقین تھا، لیکن آج ایٹمی طاقت دنیا کے لیے توانائی اور علاج کے امکانات کے ساتھ ساتھ تباہی کا سب سے بڑا خطرہ بھی بن چکی ہے۔ جن عناصر اور وسائل کو انسان تباہی کے لیے استعمال کرسکتا ہے، انہی سے دنیا کو بے شمار سہولتیں بھی فراہم کی جاسکتی ہیں۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، مسئلہ انسان کی نیت، تربیت، ذمہ داری اور اختیار ہے۔ یہی اصول اے آئی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر انسان نے علم کو صرف ڈیجیٹل نظاموں کے حوالے کردیا اور کسی عالمی جنگ، تکنیکی تباہی یا بڑے بحران کے نتیجے میں یہ نظام ختم ہوگئے تو آنے والی نسلیں اپنے علمی ماضی کے ایک بڑے حصے سے محروم ہوسکتی ہیں۔ اسی لیے کتاب، قلم، دوات اور انسانی حافظے میں محفوظ علم کی اہمیت آج بھی ختم نہیں ہوئی۔ تہذیبیں اس وقت زندہ رہتی ہیں جب وہ اپنا علم اگلی نسل تک منتقل کرتی ہیں؛ اور علم اس وقت زندہ رہتا ہے جب اسے صرف استعمال نہیں بلکہ محفوظ بھی کیا جاتا ہے۔

اس پوری گفتگو میں منیر بادینی کا یہ نکتہ سب سے زیادہ بنیادی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے کہ ہم نے خوف کی وجہ سے اپنی آزادی خود ہی محدود کردی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تقریب ایک ادبی و علمی نشست سے نکل کر ایک بڑے قومی اور انسانی سوال میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ تاریخ میں وہ قومیں بھی گزری ہیں جنہوں نے خوف کے نام پر اپنی آزادی قربان کی اور رفتہ رفتہ سوال کرنے، اختلاف کرنے اور اپنے حکمرانوں سے جواب طلب کرنے کا حق کھوتی چلی گئیں؛ لیکن دنیا میں ایسے انسان اور معاشرے بھی موجود رہے جنہوں نے خوف کو شکست دی، اپنی آزادی بحال کی، عوامی حکمرانی کو مضبوط کیا اور پھر علم، تعلیم، معیشت، سائنس، صنعت اور انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کی۔ اس لیے آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان اپنی مرضی سے زندگی گزارے؛ آزادی کا اصل مفہوم یہ بھی ہے کہ انسان سوال کرسکے، اختلاف کرسکے، سوچ سکے، تحقیق کرسکے اور اقتدار سے جواب طلب کرسکے۔

حرفِ آخر یہ ہے کہ اتنے جدید آلات، بے مثال معلومات اور دنیا تک فوری رسائی کے باوجود آج کا نوجوان مستقبل کے حقیقی تقاضوں سے کہیں کہیں بے خبر دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وجہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ دور اندیش علم، فکری تربیت اور فلسفیانہ شعور کی کمی ہے۔ یہ خلا وہی لوگ پُر کرسکتے ہیں جو علم کو صرف معلومات نہیں بلکہ زندگی، تاریخ، تہذیب اور مستقبل کو سمجھنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ نئی نسل کو بزرگوں سے کاٹ کر مستقبل نہیں دیا جاسکتا، بلکہ دونوں نسلوں کے تجربے اور صلاحیت کو یکجا کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ بزرگوں کا فکری سرمایہ بھی دینا ہوگا، اور بزرگوں کو نئی نسل کی رفتار اور عصری ضرورتوں کو سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ مستقبل نہ صرف اے آئی بنائے گا، نہ صرف کتاب؛ مستقبل وہ انسان بنائے گا جس کے پاس علم بھی ہو، تربیت بھی، آزادی بھی اور خوف کے مقابل کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی۔

اور شاید آج کی پوری بحث کا سب سے اہم نتیجہ یہی ہے کہ ہمیں اپنی آزادی خوف کی وجہ سے محدود نہیں بلکہ لامحدود کرنا ہوگا؛ کیونکہ خوف سے محفوظ رہنے والی قوم شاید کچھ عرصہ زندہ رہ جائے، مگر آزادی، علم اور تربیت کو اپنا شعار بنانے والی قوم ہی اپنا مستقبل خود تخلیق کرتی ہے۔