یمن (ویب نیوز) یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ رشاد العلیمی نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینے اور ریاستی رِٹ بحال کرنے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کردیا ہے۔ یمنی فوج کے مطابق حوثیوں کے خلاف مختلف محاذوں پر سینکڑوں کارروائیاں کی گئیں، جن میں جنگی طیاروں، ڈرونز، توپ خانے، میزائلوں اور راکٹ لانچرز کا استعمال کیا گیا، جبکہ حکومتی فورسز نے کم از کم 700 حوثی جنگجوؤں کی ہلاکت اور درجنوں فوجی گاڑیوں سمیت عسکری تنصیبات کی تباہی کا دعویٰ کیا ہے۔ رشاد العلیمی نے کہا کہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ملک کے تمام علاقوں کو حوثیوں کے کنٹرول سے آزاد نہیں کرا لیا جاتا۔ دوسری جانب رائٹرز کے مطابق حکومتی فورسز کی کارروائیوں کے باوجود حوثی تعز کے قریب اہم پہاڑی علاقوں میں پیش قدمی کر رہے ہیں اور تعز و عدن کے درمیان اہم زمینی راستے کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس سے تعز کے محاصرے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کرتے ہوئے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں عرب اتحاد کی قیادت کی تھی، جبکہ 2022 کی جنگ بندی کے بعد حالیہ مہینوں میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ نئی فوجی کارروائی سے یمن میں ایک بار پھر وسیع پیمانے پر جنگ کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں، جہاں پہلے ہی بڑی تعداد میں لوگ بے گھر اور لاکھوں افراد بنیادی اشیائے ضروریہ اور امداد کی مشکلات سے دوچار ہیں۔
