بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کے فیصلے نے صوبے کی موجودہ سیاسی صورتِ حال میں ایک اہم بحث چھیڑ دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اے این پی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ بننے کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھ کر حکمرانوں کی توجہ عوام کے حقیقی مسائل کی جانب مبذول کرائے گی۔ بظاہر یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے، لیکن اس کے اثرات ان علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں جہاں پہلے ہی ترقیاتی وسائل، روزگار، کاروباری مواقع اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے احساسِ محرومی موجود ہے۔ پارٹی کے اندر اس فیصلے کی مخالفت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر اس فیصلے کو عملی جامہ پہنایا گیا تو پشتون علاقوں کو حکومت میں شمولیت کے ذریعے ملنے والا وہ معمولی حصہ بھی حاصل نہیں رہے گا جسے محاورے میں ’’اونٹ کے منہ میں زیرہ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار میں موجودگی واقعی عوام کے مسائل حل کرنے کی ضمانت بن سکتی ہے یا پھر اقتدار محض سیاسی مفاہمت اور محدود مراعات کا ذریعہ بن کر رہ جائے گا؟
یہ سوال اس وقت مزید اہم ہوجاتا ہے جب پشتون علاقوں، خصوصاً بعض طاقتور حلقوں میں امن و امان کے نام پر کارروائیوں، مخصوص افراد کے خلاف اقدامات، جامع تلاشیوں اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹوں کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دوسرے صوبوں اور علاقوں سے بلوچستان کے پشتون علاقوں میں کاروبار کے لیے آنے والے بعض افراد کو مبینہ طور پر قتل کیے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ کاروباری افراد کو اپنے روایتی کاروباری مراکز سے دور رکھنے اور اپنے علاقوں تک محدود کرنے کی کوششوں کی شکایات بھی موجود ہیں۔ اگر ایک شخص اپنے گھر سے دور کسی علاقے میں کاروبار کے لیے آتا ہے اور اسے جان و مال کا تحفظ حاصل نہیں ہوتا تو یہ محض امن و امان کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ بین الصوبائی تجارت، روزگار اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا معاملہ بن جاتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر صوبائی حکومت لوگوں کو کاروبار سے محروم ہونے سے بچانے اور ان کے دروازے تک پہنچنے والے کاروباری افراد کو تحفظ دینے میں ناکام ہو تو کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے حکومت کا حصہ بنے رہنا ایک سنجیدہ سیاسی سوال بن جاتا ہے۔ اقتدار عوام کے مسائل حل کرنے کا وسیلہ ہو تو اس کی قدر ہے، لیکن اگر اقتدار میں رہ کر بھی عوام اپنے جان، مال، کاروبار اور عزت کے تحفظ کے لیے بے آسرا ہوں تو اقتدار کی شراکت سیاسی فائدے کے بجائے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
اسی پس منظر میں عوامی نیشنل پارٹی کا اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ محض سیاسی جوڑ توڑ نہیں بلکہ عوامی نبض پر ہاتھ رکھنے کی کوشش بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم اپوزیشن میں بیٹھنا بذاتِ خود کوئی کارنامہ نہیں؛ اصل امتحان یہ ہوگا کہ پارٹی بلوچستان اسمبلی کے اندر عوامی مسائل کی کتنی مؤثر ترجمانی کرتی ہے، حکومت سے کتنے سخت سوالات پوچھتی ہے اور اپنے حلقوں کے لوگوں کے جان و مال، کاروبار، نقل و حرکت اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے کس حد تک عملی کردار ادا کرتی ہے۔ قابلِ ذکر امر یہ بھی ہے کہ زیرِ بحث صورتحال تقریباً تین نشستوں کی حدود میں رونما ہونے والے واقعات سے جڑی ہوئی ہے، جن میں سے دو نشستوں پر عوامی نیشنل پارٹی کے نمائندے کامیاب ہوئے ہیں۔ اس لیے ان نمائندوں کی ذمہ داری محض اسمبلی کی نشست تک محدود نہیں بلکہ ان حلقوں کے عوام کے تحفظ اور مسائل کی آواز بننے تک پھیلی ہوئی ہے۔ اگر اے این پی اپوزیشن میں رہ کر اس ذمہ داری کو دیانت داری اور مستقل مزاجی سے نبھاتی ہے تو یہ فیصلہ سیاسی خودکشی کے بجائے سیاسی احیا ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر اپوزیشن بھی صرف بیانات، قراردادوں اور احتجاجی نعروں تک محدود رہی تو عوام کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں کوئی نمایاں فرق باقی نہیں رہے گا۔ سیاست میں وعدوں کے سہارے بہت سے لوگ سہانے دکھائی دیتے ہیں، مگر جب عوام اپنے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں تو سوال یہی رہ جاتا ہے:
کوئی گاہک نہ ملاوعدوں کا- ہو گئے لوگ سہانے کتنے۔
