کوئٹہ شہر میں فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر بڑھتی ہوئی تجاوزات نے شہریوں کو ایک بنیادی سوال پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر شہر کے فٹ پاتھ کس کے لیے بنائے گئے ہیں؟ اگر پیدل چلنے والے شہری ہی ان پر چل نہیں سکتے تو پھر ان کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟
آج شہر کے کئی علاقوں میں فٹ پاتھوں پر ریڑھیاں، دکانوں کا سامان اور مختلف اشیا فروخت کرنے کے اسٹال قائم ہیں۔ جہاں فٹ پاتھ دستیاب نہیں وہاں شہری سڑک کے کنارے چلنے پر مجبور ہیں۔ خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے یہ صورتحال مزید تشویشناک ہے، کیونکہ انہیں ٹریفک کے درمیان سے گزرنا پڑتا ہے اور معمولی سی غفلت کسی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
دوسری جانب سڑکوں پر ریڑھیاں لگنے کے بعد خریدار بھی اپنی گاڑیاں سڑک کے درمیان یا سڑک کے ایک بڑے حصے پر کھڑی کرکے خریداری میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً سڑک کا ایک حصہ ریڑھیوں، دوسرا گاڑیوں اور باقی ماندہ جگہ ٹریفک کے لیے رہ جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ٹریفک جام کا سبب بنتا ہے بلکہ کسی ہنگامی صورت حال میں ایمبولینس، فائر بریگیڈ یا دیگر امدادی گاڑیوں کی بروقت آمد میں بھی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اس لیے تجاوزات قائم کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ایسے خریداروں کے خلاف بھی کارروائی ضروری ہے جو اپنی سہولت کے لیے عوامی سڑک کو پارکنگ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
یہ صورتحال حقیقی دکانداروں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ جو دکاندار بھاری کرایہ ادا کرتے ہیں، بجلی کے بل، ٹیکس اور دیگر اخراجات برداشت کرتے ہیں، ان کے سامنے جب سڑک کنارے بغیر کرائے یا معمولی اخراجات پر کاروبار کرنے والے بیٹھ جاتے ہیں تو ان کے کاروبار پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ اب چینگ چی رکشوں اور سوزوکی گاڑیوں میں سامان رکھ کر انہیں بھی متحرک دکانوں کی شکل دینے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو شہری نظم و ضبط کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔
تاہم یہاں ایک اور اہم اور حساس سوال بھی جنم لیتا ہے: کیا اتنے بڑے پیمانے پر تجاوزات متعلقہ انتظامیہ کے کسی نہ کسی اہلکار کی چشم پوشی یا مبینہ ملی بھگت کے بغیر ممکن ہیں؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ تجاوزات اکثر ایک دن میں قائم نہیں ہوتیں۔ ایک ریڑھی یا عارضی دکان اگر کئی ہفتوں اور مہینوں تک کسی عوامی گزرگاہ یا سڑک پر موجود رہے تو متعلقہ اداروں کی نظر سے اس کا مسلسل اوجھل رہنا بھی قابلِ سوال ہے۔ مزید برآں، جب انتظامیہ کارروائی کرتی ہے تو بعض تجاوزات قائم کرنے والوں کی جانب سے شدید مزاحمت، بحث و تکرار اور گرفتاری کی نوبت آنا اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ایسے عناصر کو پشت پناہی یا کم از کم انتظامی چشم پوشی حاصل ہونے کا عوامی تاثر موجود ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بعض تجاوزات کرنے والے مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے بھی عار محسوس نہیں کرتے کہ “انتظامیہ ہماری جیب میں ہے۔” اگر یہ دعوے محض دھمکی یا غرور کے اظہار سے بڑھ کر کسی حقیقت پر مبنی ہیں تو یہ پورے انتظامی نظام کے لیے انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ حکومت کو ایسے دعووں کی محض تردید نہیں بلکہ شفاف تحقیقات کے ذریعے حقیقت سامنے لانی چاہیے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب کوئی شہری تجاوزات کے خلاف شکایت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو بعض اوقات اسے شکایت درج کرانے کے پیچیدہ اور طویل طریقۂ کار سے اس قدر گزرنا پڑتا ہے کہ وہ آئندہ شکایت کرنے ہی سے توبہ کر لیتا ہے۔ اگر ایک عام شہری اپنی شناخت، وقت اور توانائی خرچ کرکے شکایت کرے اور پھر اسے ہی مختلف دفاتر اور مراحل میں گھمایا جائے تو اس سے قانون کی عملداری کے بجائے شکایت کنندہ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
حکومت کو اس سلسلے میں روایتی طریقۂ کار سے ہٹ کر مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرنا چاہیے۔ حساس اداروں اور متعلقہ انٹیلی جنس اہلکاروں سے قانونی دائرۂ کار میں رہتے ہوئے مدد لی جا سکتی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کن مقامات پر تجاوزات مستقل بنیادوں پر قائم ہیں، انہیں کس کی سرپرستی حاصل ہے اور آیا کسی سرکاری اہلکار کی غفلت، چشم پوشی یا مبینہ ملی بھگت اس مسئلے کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔
اگر کسی اہلکار یا بااثر شخص کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو محض تبادلہ یا رسمی کارروائی کافی نہیں ہونی چاہیے بلکہ قانون کے مطابق قرارِ واقعی سزا دی جانی چاہیے۔ کیونکہ اگر تجاوزات قائم کرنے والا گرفتار ہو جائے لیکن اسے سہولت فراہم کرنے والا اہلکار بدستور اپنے عہدے پر موجود رہے تو مسئلے کی جڑ ختم نہیں ہوگی۔
تاہم اس پورے معاملے کا حل صرف گرفتاریوں اور آپریشنز میں نہیں۔ حکومت کو ان افراد کے لیے مخصوص ریڑھی بازار اور وینڈنگ زون قائم کرنے چاہئیں جو واقعی اپنے روزگار کے لیے ریڑھی لگاتے ہیں۔ انہیں باقاعدہ نمبر اور لائسنس دیے جائیں، مناسب فیس مقرر کی جائے اور صفائی، پارکنگ اور ٹریفک کا انتظام بھی کیا جائے۔ اس طرح ایک طرف عوامی راستے واگزار ہوں گے اور دوسری طرف محنت کش طبقہ بے روزگار ہونے سے محفوظ رہے گا۔
اسی طرح شہریوں اور خریداروں کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ اگر ریڑھی بان سڑک گھیرے گا، دکاندار فٹ پاتھ پر سامان رکھے گا اور خریدار اپنی گاڑی سڑک کے درمیان کھڑی کرکے خریداری کرے گا تو صرف انتظامیہ کو موردِ الزام ٹھہرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
کوئٹہ کو تجاوزات سے پاک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن یہ کام وقتی آپریشن، چند گرفتاریوں اور تصویری کارروائیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
حکومت کو ایک ایسا مستقل نظام بنانا ہوگا جس میں تجاوزات قائم کرنے والے، غیر قانونی سہولت کار، غفلت یا ملی بھگت کرنے والے اہلکار اور سڑکوں پر بے ہنگم پارکنگ کرنے والے خریدار، سب قانون کے سامنے جواب دہ ہوں۔
شہر کے فٹ پاتھ شہریوں کو واپس ملنے چاہئیں، سڑکیں ٹریفک کے لیے کھلی ہونی چاہئیں اور محنت کشوں کو باعزت روزگار کا قانونی راستہ ملنا چاہیے۔ یہی متوازن پالیسی ہے جس سے قانون کی عملداری بھی قائم ہوگی، شہریوں کو سہولت بھی ملے گی اور غریب کا چولہا بھی بجھنے سے بچے گا۔کوئٹہ کے شہری اب عارضی آپریشن نہیں، ایک مستقل، شفاف اور منصفانہ نظام چاہتے ہیں۔
