مقامی ۹ مئی ۲۰۲۶

کوئٹہ، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی نئی کابینہ کی حلف برداری، ڈاکٹر حئی بلوچ صدر منتخب

کوئٹہ( ویب ڈیسک)ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے زیر اہتمام آج جنرل باڈی اجلاس و حلف برداری کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں بلوچستان بھر سے ڈاکٹرز کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے اس اجتماع کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کیا۔* اجلاس سے چیئرمین سپریم کونسل ڈاکٹر یاسر اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کی ساخت، مقاصد اور حالیہ تنظیمی انتخابات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے نئی منتخب مرکزی کابینہ کو مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر جنرل باڈی اجلاس کے شرکا نے سپریم کونسل کی زیر نگرانی منعقد ہونے والے شفاف انتخابات کو بھرپور انداز میں سراہا، جبکہ نئی منتخب کابینہ کے انتخاب پر پورے ہال نے پرجوش انداز میں مبارکباد پیش کی۔ جنرل باڈی اجلاس میں اہم تنظیمی امور پر باضابطہ منظوری دی گئی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تنظیم نے شفاف جمہوری طریقہ کار کے تحت پہلے الیکٹورل کالج تشکیل دیا، جس کے بعد الیکٹورل کالج نے ووٹنگ کے ذریعے نمائندگان کا انتخاب کیا۔ اس طریقہ کار کو جنرل باڈی کے سامنے پیش کیا گیا جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ اسی طرح سپریم کونسل کے کردار کو بطور الیکشن کمیشن واضح کیا گیا، جس نے کابینہ کی تشکیل میں اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ جنرل باڈی نے اس عمل کو بھی مکمل طور پر اینڈورس کرتے ہوئے اس کی منظوری دی۔ مزید برآں، جنرل باڈی نے اس امر کی بھی منظوری دی کہ موجودہ کونسل کی مدت مکمل ہو چکی ہے، لہذا تنظیم کو مزید مثر اور مضبوط بنانے کے لیے اس کی ساخت میں بہتری اور ضروری تبدیلیاں کی جائیں۔ اس ضمن میں موجودہ کونسل کو باقاعدہ مینڈیٹ دیا گیا کہ وہ اصلاحات کے ذریعے کونسل کو مزید فعال، مستحکم اور مثر بنائے۔ سابق صدر ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ نے اپنی کابینہ کی کارکردگی پیش کرتے ہوئے ڈاکٹرز کمیونٹی کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کی گئی کاوشوں کا تفصیلی ذکر کیا، جس پر شرکا نے ان کی خدمات کو سراہا۔ سابق ترجمان ڈاکٹر صبور کاکڑ نے سابقہ کابینہ کی جانب سے حاصل کردہ اہم دستاویزات اور نوٹیفکیشنز پیش کیے، جن کے ذریعے ڈاکٹرز کے کئی دیرینہ مسائل کے حل کو ممکن بنایا گیا۔ وائس چیئرمین سپریم کونسل ڈاکٹر بہار شاہ نے نئی منتخب کابینہ سے حلف لیا اور انہیں مبارکباد دی۔ تقریب کے اختتام پر صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان ڈاکٹر حئی بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ڈاکٹرز کمیونٹی کے اعتماد نے ان پر ایک بڑی ذمہ داری عائد کی ہے، جسے وہ اپنی کابینہ کے ہمراہ دیانتداری اور محنت سے نبھائیں گے۔ انہوں نے اپنی کابینہ کی پالیسی اور منشور پیش کرتے ہوئے تنظیم کو مزید مضبوط، منظم اور پائیدار بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ڈاکٹر حئی بلوچ نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ بے روزگار ڈاکٹرز، خصوصا لیڈی میڈیکل آفیسرز اور ڈینٹل سرجنز کو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے فوری بنیادوں پر ملازمتیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو ڈاکٹرز احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے ڈاکٹرز کو دیگر صوبوں کے مساوی تنخواہیں اور مراعات دی جائیں، جبکہ ہاس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز (PGs) کو مناسب وظیفہ فراہم کیا جائے۔ ڈاکٹرز کے لیے ہاسٹل سمیت تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔ صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے حکومت کو متنبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں محکمہ صحت کو نظر انداز کیا گیا تو تنظیم خاموش نہیں رہے گی۔ انہوں نے تنظیمی نظم و ضبط پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی فرد کو تنظیم کا نام ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حالیہ دنوں میں بعض عناصر کی جانب سے منفی پروپیگنڈا کیا گیا، جس پر جنرل باڈی اجلاس کے شرکا نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جنرل باڈی اجلاس کی منظوری کے بعد ایسے آٹھ افراد کو تنظیم سے فارغ کر دیا گیا جو اس منفی پروپیگنڈے اور متنازعہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ تاہم دیگر متعلقہ افراد کی رکنیت معطل کرکے یہ پیغام دیا گیا کہ اگر وہ تنظیمی اصولوں کے تحت واپس آنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے دروازے کھلے ہیں۔ ڈاکٹر حئی بلوچ نے واضح کیا کہ آئندہ بھی تنظیم کے خلاف کسی قسم کی منفی سرگرمی میں ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز سخت تنظیمی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ آخر میں انہوں نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کو مزید مضبوط، منظم اور مستحکم بنا کر ڈاکٹرز کمیونٹی میں اتحاد کو فروغ دیا جائے گا اور ان کے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔