تازہ ترین ۱۰ جون ۲۰۲۶

کوئٹہ، محرم الحرام میں سیکیورٹی اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے ڈی آئی جی عمران شوکت کی زیرِ صدارت اعلی سطح کا اجلاس

کوئٹہ(صداقت ویب سائٹ)ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت کی زیرِ صدارت پولیس لائن کے شہید حامد شکیل ملٹی پرپز ہال میں محرم الحرام کے حوالے سے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، کمانڈنٹ چلتن رائفلز ایف سی نارتھ بلوچستان، ایس ایس پی آپریشنز محمد آصف، ایف سی سیکٹر کمانڈرز، ایریا ایس پیز، ڈی ایس پی سیکیورٹی آصف حسین سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے ممتاز علما کرام، معززین اور تاجر رہنما شریک ہوئے۔ شرکا میں ڈاکٹر عطا الرحمن، قاری عبدالرحمن نورزئی، انوار الحق حقانی، علامہ شہزاد عطاری، مفتی محمود احمد، قاری عبدالرحمن، پیر اسماعیل مجددی، قاری عبدالحفیظ، علامہ سید ہاشم موسوی، علامہ شیخ جمعہ اسدی، شیعہ کانفرنس کے عاشق حسین، امیر مختیار، کاظم علی، صدر انجمن تاجران عبدالرحیم کاکڑ، ٹکری عبدالحمید بنگلزئی، حضرت علی اچکزئی، حسن آغا، اصغر علی گلزری، رحیم آغا، امرالدین آغا، عمران ترین اور سابق ناظم میر اسلم رند شامل تھے۔ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے جلوسوں کے منتظمین کے ساتھ مل کر سیکیورٹی پلان پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے، جس کے تحت مجالس اور جلوسوں کی نگرانی کے لیے ڈسٹرکٹ پولیس کے ساتھ ایف سی اور دیگر فورسز کے اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امام بارگاہوں اور مجالس کے مقامات پر سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے براہِ راست مانیٹرنگ کی جائے گی۔ اجلاس میں مرکزی انجمن تاجران کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے یقین دلایا کہ تاجر برادری روایتی تعاون برقرار رکھتے ہوئے جلوس کے راستوں پر دکانیں سیل کرنے میں انتظامیہ کا ساتھ دے گی۔ ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ صحت، پی ڈی ایم اے، واسا، کیسکو، سوئی گیس، فائر بریگیڈ اور کوئٹہ سیف سٹی کے نمائندے تمام ضروری مشینری اور ادویات کے ساتھ ڈپٹی کمشنر آفس میں الرٹ رہیں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علما کرام نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی اسلام کی سربلندی اور اتحاد کا درس دیتی ہے، اور شہر میں امن برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ مذہبی آڑ میں تفرقہ ڈالنے اور افواہیں پھیلانے والے عناصر کی سازشوں کو متحد ہو کر ناکام بنایا جائے گا اور مساجد، امام بارگاہوں و محلوں کی سطح پر گروہی منافرت پھیلانے والوں پر کڑی نظر رکھ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل رابطہ رکھا جائے گا۔ علما کرام نے محرم الحرام اور یومِ عاشور کے پرامن اختتام تک ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور جمعہ کے خطبات میں یگانگت، بھائی چارے اور صبر کا درس دینے پر زور دیا۔ اجلاس میں تمام مکاتبِ فکر کے علما نے مشترکہ پریس کانفرنس کرنے کی تجویز بھی متفقہ طور پر پیش کی۔