کوئٹہ (صداقت ویب نیوز) بھارتی سرپرستی میں کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے سیکیورٹی اور حساس اداروں کی جانب سے ملک گیر کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حبیبہ پیرجان پر الزام ہے کہ وہ نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دے کر معصوم ذہنوں کو دہشت گردی پر اکسانے میں مصروف ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف، ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے چند لمحے قبل ہی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں کی جانے والی اس اہم کارروائی کے دوران ملزمہ کی رہائش گاہ کی تفصیلی تلاشی لی گئی، جہاں سے انتہائی حساس نوعیت کی ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر ممنوعہ مواد برآمد کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تلاشی کے دوران بھارتی فنڈنگ کے کچھ انتہائی اہم اور ناقابلِ تردید ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ واضح اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم ترین کمانڈروں، خصوصا رستم پیرجان سے گہرے و قریبی روابط رہے ہیں اور وہ بی ایل اے کے نیٹ ورک کے لیے ایک اہم مہرے کے طور پر کام کر رہی تھیں۔اطلاعات کے مطابق، حبیبہ پیرجان نے دشت کے گھنے جنگلات میں روپوش بی ایل اے کمانڈر رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ خفیہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ دہشت گردوں کے لیے اسلحہ اور دیگر ممنوعہ سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی ایجنسیوں کی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ ملک دشمن سرگرمیوں میں مطلوب اس خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف ممکنہ علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور برآمد شدہ شواہد کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
