کوئٹہ( ویب سائٹ )بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں بلوچستان ڈیجیٹیل میڈیا پالیسی 2026ء، ریڈیو پر بلوچی ، براہوئی زبانوں کے پروگرامز کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں بلوچستان کی قومی زبانوں، ثقافت ، ادب پر وار کے بعد اب ڈیجٹیل پالیسی کے نام پر ریاست کے چوتھے ستون پر حملہ کا مقصد بلوچستانی عوام کی شناخت ، ثقافت کو مسخ اور حق کی آواز کو زیر کرنا ہے بلوچستان جہاں پرنٹ میڈیا کے بجٹ سے 65فیصد بدیسی اخبارات اورصرف35فیصد بجٹ مقامی اخبارات کیلئے مختص ہے جس میں بلوچستان کی پرنٹ میڈیادہائیوں سے مخدوش حالات میں بھی انتہائی ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض نبھاتے ہوئے عوام کے مسائل کو اجاگرکرنے کے ساتھ ساتھ امن کیلئے بھی کردار ادا کر رہی ہے مگر مقام افسوس ہے کہ جدید دور جہاں سوشل میڈیا پیجز پر غیر تصدیق شدہ خبروںکی بھرماراور پیکا ایکٹ کے ذریعے حقیقی میڈیا کو آواز کو زیر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں وہیں مقتدرہ قوتوں کا نام لے کر اور اسٹیک ہولڈرز کی منشاءکے بغیر پرنٹ میڈیا کے خاتمے اور من پسند افراد کو نوازنے کیلئے جو پالیسی مرتب کی جا رہی ہے اسے قبول نہیں کیا جائیگابیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچی ، براہوئی پروگرامز کی ریڈ ©️یو پر بندش ، یونیورسٹیز میں مادری زبانوں کی ترقی و ترویج میں رکاوٹ بننے جیسے اقدامات عوام کے احساس محرومی میں مزید اضافہ کرینگے ثقافتوں ، زبانوں پر پابندیاں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے بیان میں کہا گیا ہے کہ 90سالوں سے بلوچستان میں وجود رکھنے والی پرنٹ میڈیا کا خاتمہ ناقابل برداشت ہے فوری طور پر ڈیجیٹیل میڈیا پالیسی کو واپس لے کر بلوچستان کے اخبارات کیلئے سو فیصد فنڈز مختص کئے جائیں اور ریڈیو پر بلوچی ، براہوئی زبانوں میں پروگرامز کی بندش کا فیصلہ بھی لیا جائے بصورت دیگر بی این پی قومی جمہوری پارٹی ہونے کے ناطے ہر فورم پر آواز بلند کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
