مقامی ۱۳ مئی ۲۰۲۶

ڈیجیٹل میڈیا پالیسی مقامی اخبارات کا معاشی قتل ہے‘ٹرانسپورٹرز اتحاد

کوئٹہ (صداقت انٹرنیشنل ویب نیوز )آل بلوچستان گرینڈ ٹرانسپورٹرز اتحاد کے رہنماؤں حاجی میر حکمت لہڑی، وحید خان کاکڑ، میر دولت خان لہڑی، حاجی حبیب اللہ بادیزئی، حاجی عبدالقادر رئیسانی، عبدالباری مشوانی، میر اکبر لہڑی، موسیٰ جان اچکزئی، ظاہر شاہ کاکڑ، وزیر خان، حاجی نصراللہ دھوار، حاجی موسیٰ جان اچکزئی اور دیگر نے صوبائی حکومت کی مجوزہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اپنے مشترکہ بیان میں رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان کے مقامی اخبارات اور علاقائی میڈیا محدود وسائل کے باوجود عوامی مسائل اجاگر کرنے، مثبت صحافت کے فروغ اور حکومت و عوام کے درمیان رابطے کا موثر ذریعہ رہے ہیں، تاہم مجوزہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کے نفاذ سے صوبے کے چھوٹے اور مقامی اخبارات شدید مالی بحران کا شکار ہو جائیں گے جس کے نتیجے میں متعدد ادارے بند ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی بے روزگاری، غربت اور معاشی مشکلات کا شکار صوبہ ہے، ایسے میں مقامی میڈیا سے وابستہ سینکڑوں صحافیوں، کمپوزرز، ڈسٹری بیوٹرز، پرنٹنگ اسٹاف اور دیگر کارکنوں کا روزگار خطرے میں ڈالنا کسی صورت مناسب اقدام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسی پالیسیاں متعارف کرانے کے بجائے صحافی برادری اور علاقائی اخبارات کی سرپرستی کرنی چاہیے تاکہ مثبت اور تعمیری صحافت کو مزید فروغ مل سکے۔ رہنماؤں نے کہا کہ مقامی اخبارات نے ہمیشہ قومی یکجہتی، عوامی شعور کی بیداری، سماجی اصلاحات اور صوبے کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس لئے ایسی پالیسیوں سے گریز کیا جائے جو آزادی صحافت اور علاقائی میڈیا کے وجود کیلئے خطرہ بنیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لیا جائے تاکہ بلوچستان کے مقامی میڈیا ادارے اور ان سے وابستہ کارکن معاشی تباہی سے محفوظ رہ سکیں۔