کوئٹہ (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل)کوئٹہ کے گنجان آباد علاقے چمن پھاٹک میں ہونے والے ہولناک خودکش دھماکے کے بعد صوبائی دارالحکومت کو مکمل طور پر سیکیورٹی حصار میں لے لیا گیا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر بھر میں ہائی الرٹ نافذ کرتے ہوئے گشت اور سرچ آپریشنز میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ المناک دھماکے کے بعد شہر کی فضا سوگوار ہو گئی ہے، مختلف کاروباری مراکز بند ہو گئے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں اور مختلف علاقوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق چمن پھاٹک خودکش دھماکے کے بعد پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی)، اے ٹی ایف، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہنگامی طور پر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ شہر کے تمام متعلقہ تھانوں کو اپنی حدود میں گشت بڑھانے اور مشتبہ افراد پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اہم شاہراہوں اور کوئٹہ کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر سخت ناکہ بندی کر کے گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی مکمل تلاشی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ شہر میں آنے جانے والے ہر فرد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد حساس سرکاری عمارتوں، ریڈ زون، بلوچستان ہائی کورٹ، سول سیکرٹریٹ، گورنر ہاس، وزیر اعلی سیکرٹریٹ اور دیگر اہم تنصیبات پر ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب، خفیہ ادارے بھی مکمل طور پر متحرک ہو گئے ہیں اور ممکنہ سہولت کاروں کی تلاش میں شہر کے ہوٹلوں، مسافر خانوں اور بس اڈوں پر نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت اور اعلی حکام کی جانب سے صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور شہریوں سے متبادل اور مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
