بلوچستان میں قومی شاہراہوں پر بے گناہ شہریوں کا خون بہنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ مستونگ میں ژوب کے رہائشی حاجی پائند خان کے خاندان پر حملہ، جس میں دو خواتین جان کی بازی ہار کر شہادت کے رتبے پر فائز ہوئیں، اس سے قبل پشین کے ایک خاندان کے چھ افراد کی المناک المناک شہادت اور اس سے قبل درجنوں وکلاء کی شہادت، اور شاہراہوں پر مسلح افراد کی ناکہ بندیاں اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ شدید چیلنج بن چکا ہے۔ اگر بین الصوبائی شاہراہیں محفوظ نہ رہیں تو یہ صرف ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے وفاق کے لیے باعثِ تشویش صورتحال ہے۔
ریاست کی اولین آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہر شہری کے جان، مال اور عزت کا تحفظ ہے۔ قومی شاہراہوں پر بے گناہ افراد کی شہادت کسی مسلح گروہ کی کامیابی نہیں بلکہ ریاستی عملداری کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے۔ جب شہری اپنے ہی وطن میں سفر کرتے ہوئے عدم تحفظ محسوس کریں، تو اس کے اثرات صرف امن و امان تک محدود نہیں رہتے بلکہ عوام کے ریاستی اداروں پر اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ہر نئے سانحے کے بعد متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف کے بجائے خون بہا، جرگوں یا وقتی سمجھوتوں کی باتیں سامنے آنے لگتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پشتون کب تک اپنے شہداء کا خون بہا لیتے رہیں گے؟ کسی بھی شہری کی جان کا متبادل مالی معاوضہ نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی انصاف کا نعم البدل کوئی روایتی تصفیہ ہے۔ ایسے واقعات میں ریاست کو خود آگے بڑھ کر قانون کے مطابق ذمہ داروں کو گرفتار کرنا، غیر جانبدار تحقیقات کرانا اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنا چاہیے۔
وفاقی حکومت بھی اس صورتحال سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ جب قومی شاہراہیں غیر محفوظ ہوں، بین الصوبائی سفر خطرات سے دوچار ہو، اور شہریوں کی جان و مال کو مسلسل خطرات لاحق ہوں تو یہ ایک ایسا معاملہ بن جاتا ہے جس میں وفاق اور صوبہ دونوں کی مشترکہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ سیکیورٹی حکمتِ عملی مرتب کریں، قومی شاہراہوں کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کریں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہم آہنگی بڑھائیں، اور ہر اس عنصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں جو امن عامہ کو چیلنج کر رہا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ریاست خاموش تماشائی بنی رہے اور ہر سانحے کے بعد صرف روایتی تصفیوں پر انحصار کیا جائے تو عوام میں مایوسی اور بے اعتمادی بڑھتی ہے۔ ایسی صورتِ حال کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ریاست اپنی آئینی ذمہ داری پوری قوت سے ادا کرے، قانون کی عملداری کو یقینی بنائے، اور ہر شہری کو بلاامتیاز تحفظ فراہم کرے، تاکہ مزید انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے اور عوام کا اعتماد بحال ہو۔
امن، انصاف اور قانون کی بالادستی ہی وہ راستہ ہے جو بلوچستان کو تشدد، خوف اور عدم استحکام کے موجودہ دائرے سے نکال سکتا ہے۔ یہی ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہی عوام کی جائز توقع بھی۔
