اداریہ ۳۰ جولائی ۲۰۲۶

پشتون قیادت کے لیے فیصلہ کن لمحہ

بلوچستان کی سیاست ایک بار پھر ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ماضی کے فیصلوں، موجودہ حالات اور مستقبل کی سمت پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ محمود خان اچکزئی کا یہ کہنا کہ “ادارے برائے نام رہ گئے ہیں” محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اس بے چینی کی عکاسی ہے جو آج ملک کے مختلف طبقات میں محسوس کی جا رہی ہے۔ آئین کی بالادستی، جمہوری اداروں کی مضبوطی، عوامی حقوق کا تحفظ اور سیاسی مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل، ایسے اصول ہیں جن سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ہر سیاسی جماعت اور ہر رہنما کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ماضی میں عوام نے جو اعتماد ان پر کیا، کیا وہ اس اعتماد پر پورا اتر سکے؟

2013 سے 2018 تک پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو بلوچستان کے پشتون علاقوں میں ایک مضبوط عوامی مینڈیٹ حاصل تھا۔ یہ ایک تاریخی موقع تھا جس سے پشتون عوام کو یہ امید پیدا ہوئی کہ ان کے سیاسی، معاشی، تعلیمی اور انتظامی مسائل دیرپا بنیادوں پر حل ہوں گے، وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے گی اور صوبے میں ان کی آئینی حیثیت مزید مضبوط ہوگی۔ اسی عرصے میں بلوچستان بدامنی، شورش اور بے یقینی کے شدید دور سے گزر رہا تھا۔ ایسے حالات میں محمود خان اچکزئی اور ان کی جماعت نے بلوچ عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھتے ہوئے مفاہمت، برداشت اور سیاسی تعاون کی پالیسی اختیار کی۔ یہ ایک بالغ نظری کا مظاہرہ تھا اور ایک اچھے ہمسائے کا کردار بھی۔

لیکن اس کے بعد کے حالات نے پشتون عوام میں یہ احساس پیدا کیا کہ اس جذبے کا وہ جواب نہیں ملا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ مختلف ادوار میں پشتون علاقوں کے وسائل، ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع، انتظامی تقسیم، نئے اضلاع اور ڈویژنوں کی تشکیل، قومی شاہراہوں پر بڑھتی بدامنی، کاروباری سرگرمیوں میں کمی اور بعض سیاسی رویوں نے احساسِ محرومی کو مزید گہرا کیا۔ بعض ایسے بیانات بھی سامنے آئے جو پشتون عوام کے لیے باعثِ رنج بنے، جبکہ بعض مواقع پر منتخب پشتون نمائندوں کے ساتھ اختیار کیا گیا طرزِ عمل بھی سیاسی برداشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیا۔ یہ تمام عوامل اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ جب کسی آبادی کو مسلسل یہ محسوس ہونے لگے کہ اس کی آواز کمزور پڑ رہی ہے تو اعتماد کی فضا متاثر ہوتی ہے۔


تاہم انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ پشتون قیادت اپنی ذمہ داریوں کا بھی بے لاگ جائزہ لے۔ قوموں کی تقدیر صرف شکایات سے نہیں بدلتی بلکہ مضبوط قیادت، واضح حکمت عملی، سیاسی بصیرت اور اجتماعی فیصلوں سے بدلتی ہے۔ اگر آج محمود خان اچکزئی واقعی ایک نئے سیاسی سفر کا آغاز کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے تمام پشتون سیاسی قوتوں، قبائلی عمائدین، مذہبی رہنماؤں، نوجوانوں، دانشوروں اور سماجی حلقوں کو ایک مشترکہ قومی ایجنڈے پر متحد کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ذاتی اختلافات، جماعتی رقابتوں اور انا کی دیواروں کو گرانا ناگزیر ہوگا۔ کوئی بھی جرگہ اسی وقت مؤثر ثابت ہوگا جب وہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پوری قوم کی اجتماعی آواز بن جائے۔

اسی طرح بلوچ سیاسی قیادت پر بھی یہ اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پشتونوں کو برابر کا شراکت دار سمجھے۔ موجودہ بلوچستان تاوقتیکہ اس سے پشتون علاقوں کو علیحدہ نہ کیا جائے ۔ یہ بلوچ، پشتون، ہزارہ، پنجابی، سندھی اور دیگر تمام اکائیوں کا مشترکہ گھر ہے۔ اس گھر میں عزت، اختیار، وسائل اور ترقی کے مواقع سب کے لیے یکساں ہونے چاہئیں۔ اگر کسی بھی قوم کو محکومی، بے اختیاری یا امتیازی سلوک کا احساس دیا جائے گا تو اس کے اثرات صرف ایک علاقے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے صوبے کے امن، استحکام اور ترقی کو متاثر کریں گے۔

محمود خان اچکزئی نے اگست کے آخر میں کوئٹہ اور بعد ازاں پشتونخوا وطن کے بڑے جرگے کا اعلان کیا ہے۔ یہ جرگے اگر صرف تقاریر، قراردادوں اور رسمی اعلانات تک محدود رہے تو ان سے کوئی بڑی تبدیلی برآمد نہیں ہوگی۔ لیکن اگر یہ جرگے پشتون قوم کے اندر اتحاد، سیاسی ہم آہنگی، اجتماعی حکمتِ عملی اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے عملی جدوجہد کا نقطۂ آغاز بن گئے تو یہ ایک نئے سیاسی باب کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر اختلاف کو ذاتی انا کے بجائے قومی مفاد کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان میں رہنے والی تمام اقوام ایک دوسرے کے وجود، حقوق اور وقار کو تسلیم کریں۔ نفرت، تقسیم اور بداعتمادی کا راستہ کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں، جبکہ انصاف، مساوات، آئین کی حکمرانی اور باہمی احترام ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک پُرامن اور مستحکم بلوچستان تعمیر ہو سکتا ہے۔

اگر محمود خان اچکزئی اس موقع کو ذاتی یا جماعتی سیاست سے بالاتر ہو کر پوری پشتون قوم کو متحد کرنے اور تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر لانے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو یہ ان کی سیاسی زندگی کا اہم ترین کردار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ اتحاد، بصیرت، قربانی اور بروقت فیصلوں سے اپنے حقوق حاصل کرتی ہیں، اور آج یہی راستہ پشتون قوم کے سامنے بھی موجود ہے۔