کوئٹہ (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ ایک تفصیلی پریس ریلیز میں کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر پشتون اضلاع میں پٹرول کی مصنوعی قلت اور قیمتوں میں بے تحاشا اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس صورتحال نے عوام کی زندگی کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ عید کے موقع پر پہلے ہی مہنگائی کے ستائے ہوئے شہری اب پٹرول مافیا اور ذخیرہ اندوزوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی پٹرول کی قیمت 350 سے 400 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے جو غریب عوام کے ساتھ کھلا ظلم اور سراسر ناانصافی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں شدید بیروزگاری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے کسی حد تک ریلیف دی گئی تھی، لیکن پٹرول کی قیمتوں میں خودساختہ اضافے، غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ پٹرول کی سرعام فروخت نے عوام کے لیے سنگین مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ غیر قانونی پٹرول میں مختلف کیمیکل اور ناقص تیل کی ملاوٹ کی جاتی ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کی قیمتی گاڑیوں کے انجن تباہ اور ناکارہ ہو رہے ہیں، بلکہ اس سے نکلنے والا زہریلا دھواں فضائی آلودگی کا سبب بن رہا ہے، جس سے شہریوں میں سانس، الرجی اور دیگر وبائی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔پشتونخوا میپ نے ضلعی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے کارروائیوں کے دعوں کے باوجود صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔ گرفتاریوں، رشوت اور لوٹ مار کے بعد مافیا نے دوبارہ من مانی شروع کر کے پٹرول مزید مہنگا کر دیا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اسکول وین، پبلک ٹرانسپورٹ اور رکشوں کے کرایوں میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔ کرایوں کے اس بوجھ نے والدین اور طلبہ کی مشکلات بڑھا دی ہیں اور روزمرہ کے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول مافیا کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے، مصنوعی قلت کا خاتمہ کر کے پٹرول کی قیمت کو 200 روپے سے نیچے لایا جائے اور عوام کو معیاری پٹرول کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
