کوئٹہ (ویب نیوز) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پشتون افغان ملت کو درپیش سنگین حالات اور اذیت ناک صورتحال ان کی قسمت نہیں بلکہ سیاسی، معاشی، ثقافتی اور قومی محرومیوں، قومی واک و اختیار سے محرومی، پشتونخوا وطن کی غیر فطری انتظامی تقسیم، معدنی وسائل پر قبضے اور لوٹ مار سمیت ہر شعبہ زندگی میں بدترین استحصال کا نتیجہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخوا نیپ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و نشریات محمد عیسیٰ روشن اور صوبائی ڈپٹی سیکرٹری و ضلع پشین سیکرٹری محمود ریاض نے ضلع پشین کی ضلعی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ضلعی ایگزیکٹو، مرکزی کمیٹی کے اراکین، علاقائی سیکرٹریوں اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی، گزشتہ کارکردگی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے فیصلے کیے گئے۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ تنظیمی فیصلوں پر بروقت عملدرآمد، علاقائی اور ابتدائی اداروں کے اجلاسوں کا تسلسل کے ساتھ انعقاد اور عوام سے قریبی رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہے، جبکہ غیور عوام کو پارٹی صفوں میں شامل اور منظم کرنے کے لیے جدوجہد مزید تیز کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سوات سے کوئٹہ اور سبی تک پشتونخوا وطن اور بلوچ علاقوں میں بدامنی اور لاقانونیت کا مقصد محکوم اقوام کی قومی محرومیوں کو مزید طول دینا اور ان کے معدنی وسائل، زرخیز زمینوں، پہاڑوں، وادیوں اور جنگلات پر قبضہ کرکے استحصال جاری رکھنا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پشتون افغان ملت نے تاریخ میں کئی بار مشکل حالات کا سامنا کیا، تاہم قومی اتحاد و اتفاق کے ذریعے ہر دور کے جابر حکمرانوں کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بھی قومی مفادات اور قومی نجات کو ترجیح دیتے ہوئے سیاسی و جمہوری جدوجہد کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ پشتون افغان ملت اپنے حقوق کے حصول اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔
