اداریہ ۱۹ اگست ۲۰۲۶

پاکستان کو ایران، امریکہ کشمکش میں اپنے قومی مفاد کو مقدم رکھنا ہوگا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ امریکہ کے پاسدارانِ انقلاب ایران کے ساتھ خفیہ یا پسِ پردہ رابطے موجود ہیں، خطے کی موجودہ کشیدہ صورتِ حال میں ایک معمولی بیان نہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں بھی ایسے بیک چینل رابطوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم پاسدارانِ انقلاب نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ یہی تضاد اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ پاکستان ایران، امریکہ تنازع میں کسی فریق کے دعوے کو بلا تحقیق حتمی حقیقت نہ سمجھے۔ پاکستان نے جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے جو سفارتی کردار ادا کیا، اس کا مقصد خطے میں امن، پاکستان کی سلامتی اور اپنے معاشی و قومی مفادات کا تحفظ تھا، نہ کہ کسی ایسی جنگ کا حصہ بننا جس کے نتائج پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں جب جنگ بندی کا عمل شدید غیر یقینی کا شکار ہے اور امریکہ و ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے، اسلام آباد کو اپنے آئندہ تمام فیصلے انتہائی محتاط انداز میں کرنا ہوں گے۔

پاکستان میں مختلف مکاتبِ فکر کے پیروکاروں کو اپنی روحانی و مذہبی قیادت سے رابطے اور اپنی مذہبی وابستگی کے اظہار کی آئینی آزادی حاصل ہے، لیکن ریاستی پالیسی کا فیصلہ کسی مسلکی وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ پاکستان کے قومی مفاد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اسی تناظر میں فیلڈ مارشل کی شیعہ عمائدین و علماء سے ملاقات کو بھی قومی سلامتی، داخلی استحکام اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر کسی آف دی ریکارڈ نشست کی گفتگو کو غیر رسمی طریقے سے منظرِ عام پر لایا گیا تو یہ یقیناً قابلِ افسوس ہے، کیونکہ حساس قومی معاملات میں غیر ذمہ دارانہ افشا نہ صرف اعتماد کو متاثر کرتا ہے بلکہ دشمن قوتوں کو بھی پاکستان کے داخلی معاملات سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔ تاہم اس پورے معاملے کو مسلکی کشمکش بنانے کے بجائے ایک بنیادی اصول تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کے ہر شہری کو اپنی مذہبی وابستگی کی آزادی ہے، مگر پاکستان کی خارجہ، دفاعی اور سلامتی کی پالیسی صرف ریاستی مفاد کے تابع ہونی چاہیے۔

امریکی صدر کے تازہ دعوے نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک طرف کھلی دشمنی اور دوسری طرف خفیہ رابطوں کا امکان موجود ہے تو پاکستان آخر کس مقصد کے لیے اپنی سفارتی توانائیاں اور سیاسی سرمایہ کسی فریق کے ساتھ وابستہ رکھے؟ پاکستان کو امریکہ اور ایران دونوں سے واضح اور قابلِ تصدیق مؤقف طلب کرنا چاہیے۔ اگر ایران یہ مؤقف رکھتا ہے کہ امریکہ یا پاسدارانِ انقلاب کے درمیان کوئی خفیہ رابطہ نہیں ہوا تو اسے اس کی وضاحت سفارتی سطح پر کرنی چاہیے، جبکہ پاکستان کو بھی کسی غیر مصدقہ دعوے کی بنیاد پر فوری فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح اگر جنگ بندی کا معاہدہ عملاً ختم ہوچکا ہے تو پاکستان کو اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینے کا حق حاصل ہے۔ پاکستان کو کسی ایسی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے جس میں اسے نہ کوئی براہِ راست قومی فائدہ حاصل ہو اور نہ اس کے نتیجے میں خطے میں امن کی کوئی ضمانت ہو۔ اسلام آباد کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ امریکہ اور ایران دونوں سے برابری کا سفارتی فاصلہ رکھتے ہوئے امن کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے، مگر اپنی سرزمین، فضائی حدود، بندرگاہوں، دفاعی تنصیبات اور قومی وسائل کو کسی بھی فریق کے جنگی مفاد کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھیں، ہر خفیہ رابطے اور بدلتی ہوئی صف بندی کا تجزیہ کریں اور پاکستان کو کسی ایسی چال کا حصہ بننے سے محفوظ رکھیں جس کا اصل ہدف پاکستان نہ ہو مگر نقصان بالآخر پاکستان کو اٹھانا پڑے۔ ایران اور امریکہ دونوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہمسایہ اور ذمہ دار ریاست ہے؛ اسے اپنے تنازع کا فریق بنانے کے بجائے اس کے قومی مفادات، خودمختاری اور داخلی استحکام کا احترام کرنا ہوگا۔