اداریہ ۳ اگست ۲۰۲۶

پاکستان کا بحران: پارلیمانی نظام نہیں، آئین سے انحراف

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر یہ تاثر پیدا کیا کہ شاید پاکستان کے موجودہ پارلیمانی نظام نے اپنی افادیت کھو دی ہے۔ لیکن اگر اس سوال کا جواب جذبات کے بجائے تاریخ کے آئینے میں تلاش کیا جائے تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بانیٔ پاکستان کے انتقال کے فوراً بعد ملک مسلسل آئینی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔ 1956ء کا پہلا متفقہ آئین نافذ ہوا تو اسے اڑھائی سال بعد مارشل لا کے ذریعے ختم کردیا گیا۔ 1962ء میں صدارتی نظام نافذ کیا گیا، سیاسی جماعتوں کو محدود کیا گیا اور اختیارات ایک مرکز میں مرتکز ہوگئے، مگر اس کے باوجود ملک میں سیاسی ہم آہنگی پیدا نہ ہوسکی۔ اس کے برعکس 1971ء میں پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین سانحے سے دوچار ہوا اور ملک اس وقت تقسیم ہوا جب پارلیمانی نہیں بلکہ فوجی اور صدارتی طرزِ حکومت نافذ تھا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے صرفِ نظر ممکن نہیں۔

1973ء کے متفقہ آئین نے وفاق کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی اور تمام اکائیوں کو ایک مشترکہ دستاویز فراہم کی، مگر افسوس کہ اس آئین کو بھی اپنی اصل روح کے مطابق چلنے کا موقع نہ دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا، پھر جنرل پرویز مشرف کا فوجی اقتدار اور صدارتی اختیارات کا ارتکاز اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں غیر پارلیمانی ادوار بھی سیاسی استحکام پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ خصوصاً جنرل پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں طاقت کے استعمال پر مبنی پالیسیوں نے ایسے مسائل کو جنم دیا جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بداعتمادی، شورش، دہشت گردی اور سیاسی فاصلے اسی دور میں مزید گہرے ہوئے، جن سے نکلنے کی کوشش آج بھی جاری ہے۔

دوسری جانب پارلیمانی ادوار کو بھی مکمل آزادی سے آگے بڑھنے نہیں دیا گیا۔ منتخب وزرائے اعظم کو کبھی مارشل لا، کبھی صدارتی اختیارات، کبھی عدالتی فیصلوں اور کبھی دیگر سیاسی عوامل کے ذریعے اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع نہ ملا۔ حالیہ برسوں میں عمران خان کی حکومت کے قیام، ان کی برطرفی اور بعد ازاں طویل قید کے حوالے سے بھی مختلف سیاسی جماعتیں اور مبصرین ریاستی اداروں کے کردار پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں اصل مسئلہ صرف حکومتوں کی تبدیلی نہیں بلکہ سیاسی عمل کے تسلسل کا بار بار منقطع ہونا ہے۔

اگر گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں کی تاریخ کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ پارلیمانی نظام نے، تمام کمزوریوں کے باوجود، وفاق کو جوڑے رکھنے اور آئین کو زندہ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ 1973ء کا آئین تین مرتبہ معطل یا غیر مؤثر بنایا گیا، مگر ہر بار قوم نے اسی آئین کی طرف رجوع کیا۔ اس کے برعکس طاقت کے ارتکاز، غیر منتخب حکمرانی اور صدارتی طرزِ اقتدار کے تجربات نہ قومی وحدت کو مضبوط بنا سکے، نہ پائیدار سیاسی استحکام دے سکے۔

پاکستان کا مسئلہ اتنا گھمبیر نہیں جتنا اسے بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اصل ضرورت کسی نئے نظام یا نئے آئینی تجربے کی نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کے احترام، آزاد سیاسی ماحول اور حقیقی قومی مکالمے کی ہے۔ اگر تمام سیاسی قوتوں کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں، اظہارِ رائے کی آزادی یقینی بنائی جائے اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے تو بلوچستان، خیبرپختونخوا سمیت ملک کے دیگر پیچیدہ مسائل بھی سیاسی عمل اور قومی اتفاقِ رائے کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کو نئے نظام کی نہیں، آئین کے مکمل اور غیر مشروط نفاذ کی ضرورت ہے، کیونکہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ملک کو پارلیمانی عمل نے سنبھالا ہے، جبکہ آئین سے انحراف نے اسے بارہا بحرانوں سے دوچار کیا ہے۔