پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ باہمی اعتماد سے زیادہ اسٹریٹجک ضرورتوں کے تابع رہے ہیں۔ سرد جنگ سے لے کر افغان جہاد، نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ، افغانستان سے امریکی انخلا اور اب مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی صورتِ حال تک، پاکستان نے متعدد مواقع پر امریکی پالیسیوں کے لیے اپنی جغرافیائی حیثیت، عسکری استعداد اور سفارتی تعاون فراہم کیا۔ اس تعاون کی قیمت پاکستان نے صرف مالی وسائل کی صورت میں نہیں بلکہ دہشت گردی، معاشی عدم استحکام، سماجی انتشار، سرمایہ کاری میں کمی، لاکھوں متاثرین اور ہزاروں جانوں کی قربانیوں کی شکل میں بھی ادا کی۔ اس پس منظر میں اگر یہ اطلاعات درست ہیں کہ پاکستان نے امریکہ سے دس ارب ڈالر کی پانچ سالہ مالی سہولت کی درخواست کی ہے تو یہ سوال فطری طور پر جنم لیتا ہے کہ کیا سات دہائیوں پر محیط تعلقات کا حاصل صرف ایک قابلِ واپسی مالی سہولت ہونا چاہیے، یا پھر اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو ایک نئے، زیادہ منصفانہ اور برابری پر مبنی فریم ورک میں استوار کریں۔
ریاستوں کے تعلقات جذبات سے نہیں بلکہ مفادات سے چلتے ہیں، مگر مضبوط شراکت داری کی بنیاد انصاف اور باہمی احترام بھی ہوتے ہیں۔ پاکستان نے ہر اہم مرحلے پر امریکہ کے ساتھ تعاون کیا، لیکن پاکستانی نقطۂ نظر سے یہ تاثر بھی موجود رہا ہے کہ بحران کی گھڑیوں میں واشنگٹن نے اسلام آباد کی توقعات کے مطابق ساتھ نہیں دیا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے تاریخی پس منظر، افغان جنگوں کے اثرات، دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ اور خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے پاکستان کی معیشت اور داخلی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اگر امریکہ افغانستان اور دیگر جنگوں پر سیکڑوں ارب ڈالر خرچ کر سکتا ہے تو پاکستان کے ساتھ تعلقات کو محض قرض یا محدود مالی سہولت تک محدود رکھنے کے بجائے ایک ایسے جامع اقتصادی پیکیج پر غور کیا جا سکتا ہے جس میں قرضوں میں رعایت، طویل المدتی ترقیاتی سرمایہ کاری، برآمدات کے لیے بہتر رسائی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جیسے اقدامات شامل ہوں۔ ایسے اقدامات دونوں ممالک کے تعلقات کو وقتی ضرورت سے نکال کر پائیدار شراکت داری میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
پاکستان کو بھی اپنی سفارت کاری کو صرف امداد یا قرض کے حصول تک محدود رکھنے کے بجائے ایک جامع قومی حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ضروری ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں دہشت گردی، جنگوں اور علاقائی کشیدگی کے باعث پاکستان کو پہنچنے والے معاشی، انسانی اور سماجی نقصانات کا ایک مستند، غیرجانبدار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تخمینہ تیار کیا جائے۔ اس کے بعد عالمی برادری، خصوصاً امریکہ اور دیگر شراکت دار ممالک کے سامنے یہ مؤقف رکھا جائے کہ پاکستان نے عالمی امن اور علاقائی استحکام کے لیے جو کردار ادا کیا، اس کے اعتراف میں اسے محض قابلِ واپسی قرضوں کے بجائے حقیقی اقتصادی شراکت، سرمایہ کاری، قرضوں میں ریلیف اور ترقیاتی تعاون فراہم کیا جائے۔ اگر پاکستان اور امریکہ واقعی مستقبل میں مضبوط تعلقات کے خواہاں ہیں تو ان تعلقات کی بنیاد یکطرفہ مطالبات نہیں بلکہ انصاف، باہمی احترام، مساوی ذمہ داری اور مشترکہ ترقی ہونی چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دونوں ممالک کے لیے زیادہ پائیدار، باوقار اور سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔۔
