کوئٹہ(ویب نیوز) محکمہ مائنز اینڈ منرلز بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران صوبے بھر کی کوئلہ، کرومائٹ اور دیگر معدنی کانوں میں مختلف حادثات کے نتیجے میں 383 کان کن جاں بحق ہوئے۔ رپورٹ میں کانوں کی حفاظت، مائننگ قوانین پر عمل درآمد اور حکومتی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ بیشتر کانوں میں آج بھی بنیادی حفاظتی سامان، گیس ڈیٹیکٹر، آکسیجن آلات اور ریسکیو سہولیات دستیاب نہیں، جبکہ قانونی ماہرین کے مطابق کان مالکان، ٹھیکیداروں، مائنز انسپکٹریٹ اور حکومت کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور غفلت کے مرتکب افراد کا مؤثر احتساب یقینی بنایا جائے۔
