اداریہ ۲۲ اگست ۲۰۲۶

وفاق محبت سے چلتا ہے، ترجیحی انصاف سے نہیں

سید انورشاہ

پاکستان کا وفاق محض آئینی بندوبست کا نام نہیں بلکہ مختلف قومیتوں، خطوں اور اکائیوں کے درمیان اعتماد، مساوات اور مشترکہ مفادات کا رشتہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وزیراعظم پشتون ہوتا، موجودہ پشتونخوا اور بلوچستان پاکستان کی کسی دوسری قومیت کی اکثریتی اکائیاں ہوتیں، وہاں سڑکیں اس حد تک تباہ ہوتیں کہ جانوروں کا چلنا بھی دشوار ہوتا، ریلوے ٹریک سکیورٹی کے نام پر بند پڑے ہوتے، پل خستہ حالی کا شکار ہوتے اور قومی شاہراہیں بنیادی سفری ضرورت پوری کرنے کے قابل نہ رہتیں، جبکہ وزیراعظم اپنی اکائی میں نئی ٹرینیں چلانے اور مواصلاتی منصوبوں کے اعلانات کر رہا ہوتا تو اس پر کیا ردعمل سامنے آتا؟ یقیناً سب سے پہلے یہ سوال اٹھتا کہ وزیراعظم پورے پاکستان کا ہے یا اپنی اکائی کا؟ آج یہی سوال پشتونخوا اور بلوچستان کے عوام کے سامنے بھی موجود ہے۔ وفاقی حکومت کا ایک صوبے میں ٹرینوں کی بحالی اور نئے مواصلاتی منصوبوں کا اعلان اپنی جگہ خوش آئند ہے، لیکن وفاق کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہی سہولتیں ان علاقوں تک بھی پہنچیں جہاں برسوں سے ریلوے سروس محدود یا بند، شاہراہیں خستہ اور سفری رابطے غیر یقینی کا شکار ہیں۔

اصل مسئلہ کسی وزیراعظم کی قومیت نہیں بلکہ حکمرانی کا وہ معیار ہے جس سے وفاقی انصاف کا اندازہ ہوتا ہے۔ اگر کسی علاقے کو اس لیے بہتر مواصلاتی سہولتیں ملیں کہ وہ اقتدار کے قریب ہے، جبکہ پشتونخوا اور بلوچستان جیسے وسیع، دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کو سکیورٹی، جغرافیہ یا مالی مشکلات کے نام پر مسلسل انتظار کرایا جائے تو محرومی صرف معاشی نہیں رہتی بلکہ سیاسی اور جذباتی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ان علاقوں میں فاصلے زیادہ، آبادی منتشر، جغرافیہ دشوار اور سکیورٹی کے چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں، مگر یہی عوامل ریاست کے لیے کم نہیں بلکہ زیادہ ذمہ داری کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگر سکیورٹی کی وجہ سے ٹرین نہیں چل سکتی تو سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے کب تک بند رکھا جائے، بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ اسے محفوظ طریقے سے دوبارہ کیسے چلایا جائے۔ اگر شاہراہ غیر محفوظ ہے تو ریاست کی ذمہ داری عوام کو سفر سے محروم کرنا نہیں بلکہ شاہراہ کو محفوظ بنانا ہے۔ وفاق میں محبت تقریروں اور نعروں سے نہیں بلکہ اس احساس سے پیدا ہوتی ہے کہ ریاست مشکل ترین علاقے کے شہری کو بھی اتنا ہی اہم سمجھتی ہے جتنا کسی بڑے سیاسی یا معاشی مرکز کے شہری کو۔

حل محض چند ٹرینوں کی بحالی نہیں بلکہ ایک جامع قومی مواصلاتی حکمت عملی ہے۔ بند اور ختم کی گئی ریلوے ٹرینوں کو مرحلہ وار بحال کیا جائے اور کوئٹہ کو ژوب، ٹانک، بنوں اور پشاور کے راستے پاکستان کے شمال مشرقی ریلوے نظام سے جوڑنے کا قومی منصوبہ بنایا جائے، جسے مستقبل میں چین کے ساتھ وسیع تر ریلوے رابطے سے منسلک کیا جا سکے۔ ایسا رابطہ صرف بلوچستان اور پشتونخوا کے درمیان تجارتی و عوامی سفر کو نئی زندگی نہیں دے گا بلکہ پاکستان کے مغربی اور مشرقی حصوں کو ایک متبادل زمینی مواصلاتی نظام فراہم کرے گا۔ دریائے سندھ کے دونوں جانب ریلوے رابطے کی تکمیل قومی دفاع، ہنگامی نقل و حرکت، تجارت اور رسد کے اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھ سکتی ہے۔ بلوچستان کی بندرگاہی اور معدنی صلاحیتوں کو پشتونخوا کے راستے ملک کے شمالی علاقوں اور چین سے جوڑنے والا یہ نظام پاکستان کو ایک زیادہ مربوط معاشی و دفاعی جغرافیہ دے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہر صوبے میں خستہ شاہراہوں، پلوں اور بند ریلوے نظام کی بحالی کے لیے واضح مدت، بجٹ اور ذمہ دار ادارہ مقرر کیا جائے۔ وفاقی حکومت کو یہ اصول اپنانا ہوگا کہ ایک خطے میں نئی ٹرین کا افتتاح اور دوسرے خطے میں بند ٹرین کا انتظار ایک ساتھ نہیں چل سکتا۔ وفاق کو اگر واقعی مضبوط، خوشحال اور محبت کا مرکز بنانا ہے تو مواصلاتی انصاف کو قومی پالیسی بنانا ہوگا؛ کیونکہ جس ریلوے کا پہیہ صوبوں، قومیتوں اور منڈیوں کو جوڑتا ہے، وہی دراصل وفاق کے رشتے کو بھی مضبوط کرتا ہے۔