کوئٹہ (صداقت ویب نیوز)ترجمان میر اسرار اللہ زہری نے نیشنل پارٹی کے رہنما اسلم کی جانب سے مناظرے کے اظہارِ خیال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی سیاسی صورتحال، نظریات اور تاریخی تناظر پر سیاسی مکالمہ اور مناظرہ اصولی طور پر قابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے اسلم کا مناظرہ قبول ہے تاہم چند اصولی نکات کی وضاحت ضروری ہے۔ جس معزز اور اہم سیاسی شخصیت کے حوالے سے سیاسی اعتراضات اور سوالات اٹھائے گئے، مناسب یہی ہوگا کہ مناظرہ ان کی موجودگی میں منعقد کیا جائے، یعنی ڈاکٹر مالک بلوچ کو بھی اس سیاسی مکالمے کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے تاکہ بحث قیاس آرائیوں کے بجائے براہِ راست مقف، حقائق، سیاسی تجربات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر آگے بڑھ سکے۔ترجمان نے کہا کہ میر اسرار اللہ زہری صدر بی این پی عوامی کی جانب سے رابطہ اور باہمی کوآرڈینیشن کے لیے نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری چنگیز حئی بلوچ، فرزندِ شہید ڈاکٹر حئی بلوچ، میر بیزن بزنجو اور سینیئر صحافی و ادیب انور ساجدی کو اختیار دیا جاتا ہے تاکہ تاریخ، مقام اور دیگر انتظامی امور باہمی مشاورت سے طے کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلم جب اور جہاں مناسب سمجھیں سیاسی و نظریاتی مکالمے کے دروازے کھلے ہیں، تاہم بہتر یہی ہوگا کہ متعلقہ معزز شخصیت متوسط طبقے کے مرکزی صدر کو پیشگی اطلاع دے دیں تاکہ تمام معاملات ایک منظم، سنجیدہ اور باقاعدہ انداز میں آگے بڑھ سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان دلیل، تاریخ اور نظریاتی بنیادوں پر ہونے والا مکالمہ جمہوری روایت کو مضبوط کرتا ہے اور اختلافِ رائے اگر سیاسی اخلاقیات، برداشت اور باہمی احترام کے دائرے میں رہے تو اس سے عوامی شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ بی این پی عوامی کی جانب سے مناظرے کو خوش آئند سمجھتے ہوئے قبول کیا جاتا ہے بشرطیکہ ڈاکٹر مالک بلوچ اس مکالمے کا حصہ ہوں اور نامزد سیاسی شخصیات باہمی مشاورت کے ذریعے امور کو آگے بڑھائیں تاکہ بلوچستان کے سیاسی ماضی، حال اور مستقبل پر ایک سنجیدہ، بامقصد اور جمہوری مکالمہ ممکن ہو سکے۔
