اداریہ ۱۰ ستمبر ۲۰۲۶

نوکریاں فروخت نہیں ہونی چاہئیں

بلوچستان میں بے روزگاری پہلے ہی سنگین مسئلہ ہے، ایسے میں سرکاری ملازمتوں میں سفارش، اثر و رسوخ یا مبینہ خرید و فروخت صوبے کے نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ملازمتوں کی فروخت کے الزامات خود حکومتی حلقوں اور ارکانِ صوبائی اسمبلی کی جانب سے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا یہ اعلان قابلِ تحسین ہے کہ کوئی نوکری فروخت نہیں ہوگی اور جہاں خرید و فروخت کے مصدقہ ثبوت ملے وہاں متعلقہ وزیر اور سیکرٹری بھی جواب دہ ہوں گے۔ اب اس اعلان کا اصل امتحان عملی کارروائی ہے۔

وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ وزراء اور ارکانِ اسمبلی کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کے ثبوت طلب کرکے غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائیں۔ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث وزراء، افسران اور اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے، جبکہ سنگین الزامات عائد کرکے ثبوت پیش نہ کرنے والوں سے بھی جواب طلبی ہونی چاہیے۔ احتساب کا معیار سب کے لیے یکساں ہونا ضروری ہے۔

دوسری جانب وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کے کوٹے پر مشکوک یا جعلی ڈومیسائل کے ذریعے تقرریوں کی بھی جامع تحقیقات ہونی چاہئیں۔ کسی غیر مستحق شخص کا بلوچستان کے کوٹے پر تقرر صرف ایک نوجوان کا حق نہیں چھینتا بلکہ وفاقی اداروں میں صوبے کی حقیقی نمائندگی بھی متاثر کرتا ہے۔

حکومت کو بھرتیوں کا مکمل نظام شفاف بناتے ہوئے اشتہارات، امتحانات، انٹرویوز اور حتمی میرٹ فہرستیں عوام کے سامنے لانی چاہئیں تاکہ سفارش اور مالی لین دین کی گنجائش ختم ہو۔ جہاں ثبوت ہو وہاں کارروائی اور جہاں الزام بے بنیاد ہو وہاں جواب دہی ہی اس مسئلے کا منصفانہ حل ہے۔

بلوچستان کے نوجوان کسی رعایت کے طلب گار نہیں، وہ صرف اپنا حق اور میرٹ پر روزگارچاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے نوکریوں کی خرید و فروخت روکنے کا عزم ظاہر کردیا ہے؛ اب صوبے کے نوجوان دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس عزم کو عملی احتساب میں کب تبدیل کیا جاتا ہے۔