مقامی ۲۴ مئی ۲۰۲۶

نوشکی حملوں میں غفلت برتنے پر ملوث 30 پولیس ملازمین ملازمت سے برطرف، 10 کی انکریمنٹ روک دی گئی

نوشکی (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل)بلوچستان کے ضلع نوشکی میں رواں سال 31 جنوری کو ہونے والے ہولناک شدت پسند حملوں کے دوران فرائض میں غفلت اور سنگین آپریشنل کوتاہیاں برتنے پر بلوچستان پولیس نے بڑی کارروائی کی ہے۔ ڈیوٹی میں لاپرواہی کے الزامات ثابت ہونے پر 40 افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی گئی ہے، جس کے تحت 30 ملازمین کو نوکری سے برطرف جبکہ دیگر 10 افسران و اہلکاروں کی سالانہ انکریمنٹ روک دی گئی ہے۔ ضلع نوشکی کے سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی)سلیم جاوید شاوانی کی جانب سے اس کارروائی کے باقاعدہ سرکاری حکم نامے جاری کر دیے گئے ہیں۔سرکاری حکمنامے کے مطابق، 31 جنوری 2026 کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے نوشکی سمیت صوبے کے ایک درجن سے زائد شہروں میں منظم اور بیک وقت حملے کیے گئے تھے، جس میں نوشکی سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔ یہاں بھاری اسلحے سے لیس شدت پسندوں نے ایس پی آفس، ڈی آئی جی کیمپ آفس، پولیس لائنز، سٹی و صدر تھانہ، ڈسٹرکٹ کورٹ اور ڈی سی ہاس جیسی حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا، جہاں املاک کو جلایا گیا اور اسلحہ لوٹا گیا۔ ان حملوں کے بعد رخشان رینج کے ڈی آئی جی کی ہدایت پر ایک اعلی سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے شوکاز نوٹسز، ڈیوٹی ریکارڈ اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا۔انکوائری میں یہ بات ثابت ہوئی کہ مذکورہ اہلکاروں نے حملوں کے وقت شدید بزدلی اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ڈیوٹی پوسٹس چھوڑ دیں اور مثر جواب دینے میں مکمل ناکام رہے۔ برطرف کیے گئے 30 ملازمین میں تین اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (ASIs) محمد یونس، غلام فاروق اور عبدالمنان، دو ہیڈ کانسٹیبل اور 25 کانسٹیبل شامل ہیں جو سیشن کورٹ، نیشنل بینک اور ڈی سی ہاس جیسے اہم مقامات پر تعینات تھے۔ اس کے علاوہ نگرانی میں کوتاہی پر ایک سب انسپکٹر، چار اے ایس آئی اور پانچ کانسٹیبلز کی سالانہ انکریمنٹ روک کر انہیں نسبتا نرم سزا دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ان حملوں میں فورسز اور شہریوں سمیت 25 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، اور اب غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو سزا دے کر پولیس نے احتساب کا عمل مکمل کر لیا ہے۔