بابا کوٹ(صداقت انٹرنیشنل نیوز )نصیر آباد کے علاقے تحصیل تمبو، گوٹھ عبدالستار عمرانی(جونگانی)کے رہائشی مختیار، شاہد اوڈ نے اپنی والدہ کے ہمراہ نیشنل پریس کلب نصیر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے بھائی کی گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہیانہوں نے بتایا کہ ان کا بھائی وکیش عرف وکی کمار تقریبا سات سے آٹھ ماہ قبل اپنے ماموں منور، شہزادہ اور پریم اوڈ کے ساتھ حیدرآباد کے علاقے گوٹھ شیدی میں دکان کھول کر کاروبار کر رہا تھا۔ تاہم ایک ماہ بعد اچانک اس کا رابطہ منقطع ہوگیا اور موبائل فون بھی بند آنے لگا۔متاثرہ خاندان کے مطابق جب وہ معلومات لینے حیدرآباد پہنچے تو ماموں کی جانب سے یہ مقف اختیار کیا گیا کہ وکیش کمار ان کی بیٹی کو اغوا کر کے لے گیا ہے، جسے اہل خانہ نے بے بنیاد قراردیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے ماموں نے کاروباری رقم ہڑپ کرنے کی غرض سے وکیش کمار کو یا تو لاپتہ کر دیا ہے یا قتل کر دیا ہے۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی تلاش میں مختلف مقامات پر گئے مگر کوئی سراغ نہیں ملا۔ مزید یہ کہ ملزمان کی جانب سے انہیں مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ یا تو ان کی بیٹی کو واپس کریں یا لاکھوں روپے ادا کریں، بصورت دیگر سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور محنت مزدوری کر کے گزارا کرتے ہیں، اس لیے انصاف کے سوا ان کے پاس کوئی راستہ نہیں۔متاثرہ خاندان نے وزیر اعلی سندھ اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نامزد افراد کو فوری گرفتار کر کے وکیش کمار کو بازیاب کرایا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
