اداریہ ۱۸ اگست ۲۰۲۶

مشینری نیلام ہوئی یا قانون کی ساکھ؟

جس معاشرے میں برابری ختم اور معاشی عدم مساوات عام ہوجائے، وہاں بدامنی محض ایک وقتی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ بتدریج انارکی اور انقلاب کے اسباب پیدا ہونے لگتے ہیں۔ بلوچستان آج ایک ایسے ہی حساس دور سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف قوموں اور علاقوں کے درمیان برابری کا سوال اپنی جگہ موجود ہے، تو دوسری جانب معاشرے کے اندر عام اور خاص کے درمیان بڑھتا ہوا فرق بھی تشویش کا باعث ہے۔ سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ عام آدمی کے ذہن میں یہ احساس جڑ پکڑ رہا ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں نہیں۔ جب ریاستی قانون طاقتور اور کمزور کے لیے مختلف دکھائی دینے لگے تو مسئلہ صرف کرپشن کا نہیں رہتا، ریاست پر اعتماد کا بن جاتا ہے۔ بلوچستان میں پشتون قوم کی سیاسی، معاشی اور انتظامی برابری کا سوال بھی اسی وسیع تر عدم مساوات کا حصہ ہے۔ ایک طرف قوموں کے درمیان مساوی حقوق کا مطالبہ ہے اور دوسری طرف معاشرے کے اندر معاشی اور سماجی طبقات کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ اگر عام شہری یہ دیکھے کہ معمولی خلاف ورزی پر قانون پوری قوت سے حرکت میں آتا ہے، جبکہ بڑے مالی معاملات میں کارروائی سست پڑ جاتی ہے، تو قانون کی ساکھ لازماً متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ آبپاشی میں مبینہ طور پر ایک ارب روپے مالیت کی مشینری کا چند لاکھ روپے میں نیلام ہونا محض ایک محکمانہ معاملہ نہیں بلکہ ریاستی نظام، شفافیت اور احتساب سے جڑا ہوا سوال ہے۔ اس معاملے میں ایف آئی آر کا اندراج اور ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کی گرفتاری قانونی کارروائی کا آغاز ضرور ہے، مگر عوام کا اصل سوال یہ ہے کہ کیا ذمہ داری صرف ایک افسر تک محدود ہے یا اس کے پیچھے ایک پورا انتظامی سلسلہ موجود ہے؟

اگر واقعی ایک ارب روپے کی سرکاری مشینری چند لاکھ روپے میں فروخت ہوئی ہے تو تحقیقات صرف نیلامی کے آخری مرحلے سے شروع نہیں ہونی چاہییں۔ اصل تحقیقات ٹینڈر کی پہلی تحریر سے شروع ہونی چاہیے۔ ٹینڈر کس نے تیار کیا؟ شرائط کس نے مرتب کیں؟ منظوری کس نے دی؟ ٹینڈر کب جاری ہوا اور کہاں شائع ہوا؟ کتنے امیدواروں نے حصہ لیا؟ مشینری کی اصل قیمت کا تعین کس نے کیا؟ نیلامی کی نگرانی کس نے کی؟ اور آخر وہ کون سا طریقۂ کار تھا جس کے نتیجے میں قومی خزانے کا قیمتی اثاثہ چند لاکھ روپے تک پہنچ گیا؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہیں کہ اگر نیلامی کے عمل میں ہی ایسی بے ضابطگیاں موجود تھیں جنہوں نے سرکاری اثاثے کی قیمت غیر معمولی طور پر کم کردی تو پھر ذمہ داری صرف نیلامی کرنے والے کی نہیں ہوگی بلکہ اس پورے نظام کی ہوگی جس نے یہ عمل ممکن بنایا۔ فائل کی تیاری سے منظوری، قیمت کے تعین سے اشتہار، بولی سے حتمی فیصلے تک ہر مرحلے کا ریکارڈ سامنے لانا ہوگا۔ بلوچستان کے عوام ماضی کے ایسے واقعات بھی نہیں بھولے جب بڑی مقدار میں برآمد ہونے والی کرنسی گننے کے لیے بینک سے نوٹ گننے والی مشین منگوانی پڑی، مگر نتیجہ عوام کی توقعات کے مطابق سامنے نہ آسکا۔ ایسے واقعات احتساب کے نظام پر اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔ اس لیے موجودہ کیس میں صرف ایف آئی آر اور گرفتاری کافی نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے کو ایک ٹیسٹ کیس بنائے اور تحقیقات کو محکمہ جاتی کارروائی تک محدود نہ رکھے۔ محکمہ اینٹی کرپشن، محکمہ خزانہ، آڈٹ کے متعلقہ حکام اور مشینری کی قیمت کا تعین کرنے والے غیر جانب دار ماہرین کو تحقیقات کا حصہ بنایا جائے۔ تمام اصل فائلیں، ٹینڈر دستاویزات، منظوریوں، فائل نوٹنگز، نیلامی کی کارروائی اور ادائیگیوں کا جائزہ لیا جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ قومی خزانے کو نقصان اتفاقاً ہوا یا کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔

اصل احتساب یہ نہیں کہ ایک افسر گرفتار ہوگیا؛ اصل احتساب یہ ہے کہ اگر ایک ارب روپے کے اثاثے کو چند لاکھ میں فروخت کیا گیا تو اس پورے راستے کا تعین کیا جائے جس نے ایک ارب کو چند لاکھ تک پہنچایا۔ فائل کس نے چلائی، منظوری کس نے دی، قیمت کس نے مقرر کی، قانونی رائے کس نے دی، نیلامی کس نے کرائی اور فائدہ کس کو پہنچا—ہر سوال کا جواب ضروری ہے۔ اگر کسی مقام پر ملی بھگت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا کسی مخصوص فرد کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ثابت ہو تو ذمہ داری عہدے اور تعلق سے بالاتر ہوکر طے ہونی چاہیے۔ بلوچستان پہلے ہی محرومی، سیاسی بے یقینی، معاشی مشکلات اور عدم مساوات کے کئی مسائل کا سامنا کررہا ہے۔ ایسے ماحول میں سرکاری وسائل کے ضیاع اور کرپشن کی ہر خبر عام شہری کے احساسِ محرومی میں اضافہ کرتی ہے۔ ایک طرف نوجوان روزگار، تعلیم اور مساوی مواقع مانگ رہے ہیں، دوسری طرف اگر سرکاری اثاثے کوڑیوں کے مول فروخت ہونے کا تاثر مضبوط ہو تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ ریاستی وسائل آخر کس کے لیے ہیں؟ حکومت بلوچستان کے پاس اس وقت ایک اہم موقع ہے۔ وہ اس معاملے کو ایک اور فائل بنا کر وقت کے حوالے کرسکتی ہے، یا اسے حقیقی احتساب کا ٹیسٹ کیس بنا سکتی ہے۔ اگر ٹینڈر کی پہلی سطر سے نیلامی کی آخری رسید تک تحقیقات ہوں، اگر ذمہ داری طاقتور اور کمزور کی تفریق کے بغیر طے ہو، اگر قومی خزانے کے نقصان کی مکمل تلافی کی کوشش کی جائے اور اگر تمام ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تو یہی کیس عوام کے اعتماد کی بحالی کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔ یہ نیلامی صرف مشینری کی نیلامی نہیں؛ یہ ریاستی نظامِ احتساب کا امتحان ہے۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ نیلامی میں صرف سرکاری اثاثہ گیا ہے یا قانون کی ساکھ بھی ساتھ نیلام ہوگئی ہے۔ کیونکہ ریاست کی اصل طاقت اس کے اختیارات میں نہیں بلکہ قانون کی برابری میں ہوتی ہے۔ جب شہری کو یقین ہو کہ قانون سب کے لیے برابر ہے تو ریاست مضبوط ہوتی ہے، لیکن جب اسے محسوس ہو کہ قانون بھی دولت، عہدے اور اثرورسوخ کے ساتھ بدل جاتا ہے تو بداعتمادی جنم لیتی ہے، اور یہی بداعتمادی آگے چل کر معاشرتی بے چینی اور بدامنی کو جنم دیتی ہے۔ بلوچستان کو آج اسی خطرناک سلسلے کو روکنے کی ضرورت ہے—اور محکمہ آبپاشی کی یہ نیلامی حکومت کے لیے ایک ایسا آئینہ ہے جس میں احتساب کے پورے نظام کا چہرہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔