اداریہ ۲۰ جولائی ۲۰۲۶

مشرقِ وسطیٰ کی مبہم جنگ: کیا دنیا نئے جغرافیائی و سیاسی نظم کے دہانے پر کھڑی ہے؟

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اب محض ایک علاقائی فوجی تنازع نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی سیاست، بین الاقوامی قانون اور طاقت کے توازن سے متعلق بنیادی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ بظاہر حملے بھی ہو رہے ہیں، جوابی کارروائیاں بھی جاری ہیں، لیکن اس کے باوجود ایسی سرخ لکیریں مسلسل برقرار ہیں جنہیں تمام فریق عبور کرنے سے گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی بحری بیڑے محفوظ ہیں، نیٹو ممالک میں قائم امریکی تنصیبات براہِ راست نشانہ نہیں بن رہیں، جبکہ دوسری طرف ایران بھی اپنی عسکری صلاحیت کا مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہی تضاد اس جنگ کو روایتی جنگ کے بجائے ایک “مبہم جنگ” کا روپ دیتا ہے۔

اس جنگ نے کئی ایسے سوالات پیدا کیے ہیں جن کے جوابات ابھی تک عالمی سفارتی حلقوں میں بھی واضح نہیں۔ اگر مقصد مکمل عسکری برتری حاصل کرنا ہے تو پھر محدود جوابی کارروائیوں کا تسلسل کیوں؟ اگر حملہ کسی ریاست کی خودمختاری پر حملہ تصور ہوتا ہے تو پھر اس کے جواب میں طاقت کے استعمال کے مختلف پیمانے کیوں اختیار کیے جا رہے ہیں؟ اگر ایران کو روکنا مقصود ہے تو پھر ایسے اقدامات کیوں کیے جا رہے ہیں جو بظاہر کشیدگی کو قابو میں بھی رکھتے ہیں اور اسے مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہونے دیتے؟ یہی سوالات اس تاثر کو جنم دیتے ہیں کہ موجودہ تنازع صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ سفارتی میزوں، خفیہ رابطوں اور عالمی طاقتوں کی تزویراتی ترجیحات کے دائرے میں بھی لڑا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا کردار بھی سوالات کی زد میں ہے۔ دنیا کے امن کی ذمہ دار یہ کونسل مستقل اراکین کے باہمی اختلافات اور ویٹو کی سیاست کے باعث مؤثر کردار ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتی رہی ہے۔ ایسے میں بعض بین الاقوامی تجزیہ کار یہ رائے پیش کرتے ہیں کہ موجودہ بحران عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئے توازنِ قوت اور نئی جغرافیائی و سیاسی صف بندی کی علامت ہو سکتا ہے، جہاں براہِ راست عالمی جنگ سے گریز کرتے ہوئے مختلف خطوں میں اثر و رسوخ کی نئی حدود متعین کی جا رہی ہیں۔ تاہم اس تصور کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں، اس لیے اسے ایک تجزیاتی نقطۂ نظر ہی سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ ایک ثابت شدہ حقیقت۔

تاریخ گواہ ہے کہ عالمی نظام کی بڑی تبدیلیاں اکثر میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ طاقت، سفارت کاری اور مفادات کے پیچیدہ امتزاج سے جنم لیتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی بھی شاید اسی نوعیت کے ایک عبوری مرحلے کی نمائندگی کر رہی ہو۔ اگر عالمی طاقتیں اس بحران کو انصاف، بین الاقوامی قانون اور مؤثر سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے میں ناکام رہیں تو یہ تنازع صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ آنے والے برسوں میں عالمی سیاسی نقشے اور طاقت کے توازن کو بھی نئی شکل دے سکتا ہے۔ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والی تاریخ دے گی۔