وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے مستونگ اور کھڈکوچہ کے باغات سے متعلق بیان نے ایک حساس معاملے کو جنم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کا یہ بیان اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی اور دور رس اثرات کا حامل ہے، اس لیے اس کی وضاحت ضروری ہو گئی ہے۔ اگر حکومت کے پاس شواہد موجود ہیں کہ بعض باغات دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں تو متعلقہ مقامات اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، لیکن باغات کو مورچوں سے تشبیہ دے کر ان کی کٹائی یا آبادیوں کی منتقلی کا عندیہ دینا ایک غیر محتاط طرزِ بیان ہے۔ وزیراعلیٰ کو اس نوعیت کا بیان دینے سے پہلے اس کے ممکنہ سماجی، سیاسی اور انسانی اثرات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے تھا۔اس معاملے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر مسلح افراد کسی باغ یا نجی زمین کو اپنی کارروائی کے لیے استعمال کرتے ہیں تو وہ وہاں تک پہنچتے کیسے ہیں؟ بلوچستان میں امن و امان کے قیام پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی اداروں کا وسیع انتظام، چیک پوسٹیں، نگرانی کے نظام اور دیگر وسائل موجود ہیں۔ اس کے باوجود اگر مسلح افراد آبادیوں اور نجی املاک تک پہنچ کر کارروائی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو معاملہ صرف باغ کے مالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے انتظامی اور سکیورٹی نظام کی کارکردگی پر سوال اٹھتا ہے۔
حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ ان عناصر کی نقل و حرکت کا سراغ کیوں نہیں ملتا، انہیں راستہ اور رسائی کیسے حاصل ہوتی ہے اور کارروائی سے پہلے انہیں روکنے کا مؤثر نظام کہاں ہے؟ ریاست کی کامیابی باغ کاٹنے میں نہیں بلکہ مسلح عناصر کو وہاں پہنچنے سے روکنے میں ہونی چاہیے۔اس سے بھی زیادہ تشویش ناک وہ تاثر ہے جو اس معاملے کے بعد بعض حلقوں میں پیدا ہو رہا ہے کہ کہیں حکومتی اثر و رسوخ رکھنے والے عناصر ذاتی یا قبائلی دشمنیوں کے لیے مخالفین کی زمینوں اور باغات سے حملے کروا کر بعدازاں ریاستی مشینری کو ان کے خلاف استعمال نہ کریں۔ اس خدشے کی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی، تاہم محض ایسا تصور بھی ریاستی اداروں کی غیر جانب داری کے لیے خطرناک ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ واضح کرے کہ کسی شہری کی زمین، باغ یا گھر کے خلاف کارروائی ذاتی، سیاسی یا قبائلی اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق ہوگی۔ اگر یہ یقین عوام کے ذہن میں قائم نہ رہا تو قانون پر اعتماد کمزور ہوگا اور معاشرتی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔بلوچستان میں ایسے حساس حالات پہلے ہی موجود ہیں جن میں صوبائی حکومت کے سربراہ کی توجہ اور وضاحت زیادہ ضروری محسوس ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ کو ایک وزیر کے علاقے سے متعلق سکیورٹی صورتحال کے بجائے پشتون علاقوں میں ہونے والے حملوں، گلستان میں لشکر سازی اور دیگر مقامات پر جاری جھڑپوں کے بارے میں بھی واضح پالیسی بیان دینا چاہیے تھا۔ امن و امان اگر حکومت کی اولین ترجیح ہے تو اس کے لیے معیار بھی یکساں ہونا چاہیے۔ کسی ایک علاقے کے عوام کو زیادہ خطرے میں محسوس کرانا اور دوسرے علاقوں کے مسائل پر خاموشی اختیار کرنا ریاستی پالیسی کے بارے میں سوالات پیدا کرتا ہے۔مستونگ اور کھڈکوچہ کے باغات سے متعلق بیان نے پشتون عوام میں بھی بے چینی پیدا کی ہے۔ پہلے سے بدامنی، معاشی مشکلات اور نقل مکانی کے تجربات سے گزرنے والے معاشرے میں ایسے بیانات خوف کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔ بعض حلقوں میں اپنے دفاع کے لیے خود منظم ہونے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، جو کسی بھی حکومت کے لیے انتہائی سنجیدہ لمحہ ہونا چاہیے۔ اگر شہری ریاستی تحفظ کے بجائے اپنے دفاع کے لیے خود صف بندی پر مجبور ہونے لگیں تو یہ صورتحال کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ایسے مرحلے پر سیاسی قیادت کا فرض ہے کہ وہ اشتعال کے بجائے اعتماد اور تصادم کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرے۔باغات کی کٹائی یا آبادیوں کی منتقلی کے حوالے سے ماضی کے تجربات بھی ہمارے سامنے ہیں۔ ژوب کے اس پار سے لے کر شانگلہ اور دیگر علاقوں تک بدامنی اور عسکری کارروائیوں کے باعث لاکھوں افراد کو اپنے گھروں سے دور زندگی گزارنا پڑی۔ زمین، گھر، کاروبار اور روزگار سے محرومی نے نسلوں کو متاثر کیا، جبکہ بڑے پیمانے کی نقل مکانی نے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو بھی نقصان پہنچایا۔ اس لیے کسی مخصوص جگہ پر موجود مسلح عناصر کے خلاف کارروائی کو پوری آبادی یا زمیندار طبقے کے خلاف اقدام میں تبدیل کرنا مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔ باغات صرف درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ خاندانوں کی معیشت، روزگار اور کئی نسلوں کی محنت کا حاصل ہیں۔یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ بلوچستان میں سیاسی مکالمے اور پارلیمانی سیاست کی گنجائش برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نواب اسلم رئیسانی اور حافظ حمداللہ سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں کا ردعمل اس بات کی علامت ہے کہ معاملہ محض باغات تک محدود نہیں رہا بلکہ سیاسی اور سماجی سطح پر بھی حساسیت اختیار کر چکا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ واضح کرے کہ کیا کسی اجتماعی کارروائی، باغات کی کٹائی یا آبادی کی جبری منتقلی کا کوئی منصوبہ زیرِ غور ہے؟ اگر نہیں تو اس کی دوٹوک وضاحت کی جائے، اور اگر کسی مخصوص جائیداد کے خلاف کارروائی مطلوب ہے تو اس کے لیے شواہد، قانونی بنیاد اور طریقۂ کار بھی واضح کیا جائے۔وزیراعلیٰ کا منصب محض انتظامی اختیار کا نام نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کی ذمہ داری بھی ہے۔ وزیراعلیٰ کے الفاظ پورے صوبے میں ریاستی پالیسی کا تاثر پیدا کرتے ہیں، اس لیے ان میں احتیاط، توازن اور وضاحت ضروری ہے۔ موجودہ صورتحال میں حکومت کو چاہیے کہ وہ باغات کے معاملے کو دہشت گردی کے خلاف قانون کی کارروائی تک محدود رکھے اور اس تاثر کو ختم کرے کہ کسی علاقے، طبقے یا خاندان کو اجتماعی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اگر کسی باغ سے حملہ ہوتا ہے تو اصل تحقیقات یہ ہونی چاہیے کہ حملہ آور وہاں تک کیسے پہنچے، انہیں کس نے سہولت دی اور ریاستی نگرانی کہاں ناکام ہوئی۔بلوچستان پہلے ہی بدامنی، نقل مکانی اور بداعتمادی کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ اسے مزید خوف، بے دخلی اور محاذ آرائی کی نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، سیاسی بصیرت اور عوامی اعتماد کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے تمام خدشات کا ازالہ کرے جو عوام کے ذہن میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ یقین دلائے کہ ریاستی مشینری کسی فرد، خاندان یا گروہ کی ذاتی اور قبائلی دشمنی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔آج ضرورت باغات کاٹنے سے زیادہ ان وجوہات کو ختم کرنے کی ہے جو مسلح افراد کو ان باغات تک پہنچنے کا موقع دیتی ہیں۔ ضرورت خوف بڑھانے کی نہیں بلکہ اعتماد بحال کرنے کی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اپنی طاقت شہریوں کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے، قانون کی حکمرانی اور ہر شہری کے تحفظ کے لیے استعمال کرے۔ یہی راستہ بلوچستان کو ایک اور بے دخلی، ایک اور بدامنی اور ایک نئے تصادم سے بچا سکتا ہے۔
