اداریہ ۱۸ جولائی ۲۰۲۶

مذاکرات سے گریز نہیں، بدعہدی سے بحران جنم لیتا ہے.

زیارت سانحہ کے شہداء کے لواحقین اور دھرنا کمیٹی کے ساتھ حکومتی مذاکرات کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں۔ اگر واقعی فریقین ایک متفقہ مسودۂ معاہدہ طے کر چکے تھے اور بعد ازاں اسے بار بار تبدیل کرکے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا گیا، تو یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ تاخیری حربوں، وعدہ خلافی یا مذاکرات کو طول دے کر دھرنے کے شرکاء تھک ہار کر منتشر ہو جائیں گے، تو یہ محض خام خیالی اور سیاسی بصیرت سے محروم حکمتِ عملی ہوگی۔ ایسے رویے مسائل کے حل کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اصغر خان اچکزئی کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ حکومتی کمیٹی دو مرتبہ طے شدہ مسودے کے برعکس مکمل طور پر تبدیل شدہ ڈرافٹ لے کر آئی اور دو روز تک مذاکرات کو دانستہ سبوتاژ کیا گیا۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو اس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔ ریاستی معاملات میں مذاکرات محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ اعتماد سازی کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں۔ جب ایک فریق بار بار اپنی ہی بات سے پیچھے ہٹ جائے تو نہ صرف مذاکرات کی بنیاد کمزور ہوتی ہے بلکہ عوام کے دلوں میں بھی ریاستی اداروں کی سنجیدگی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

اس تمام صورتحال میں ایک اور پہلو بھی انتہائی حیران کن ہے۔ مذاکراتی عمل کے دوران بار بار یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ طے شدہ مسودے میں ترمیم کسی ایسی “بالاتر اتھارٹی” یا “اصل فیصلہ ساز” کی ہدایت پر کی جا رہی ہے جسے باضابطہ طور پر مذاکراتی میز کا حصہ بھی نہیں سمجھا جاتا۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ طریقۂ کار نہ صرف آئینی اور سیاسی اعتبار سے تشویش کا باعث ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے کہ عملی اختیارات کسی اور کے پاس ہیں جبکہ منتخب حکومت محض رسمی کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسے بیانات اور طرزِ عمل سے غیر یقینی میں اضافہ ہوتا ہے، شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں اور سیاسی کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی ہے۔ اگر حکومت خود بااختیار ہے تو اسے اسی حیثیت سے مذاکرات کرنے چاہئیں، اور اگر نہیں تو پھر عوام کو ابہام میں رکھنے کے بجائے حقیقت واضح کی جانی چاہیے تاکہ اعتماد کی بحالی ممکن ہو سکے۔

اگر وفاقی حکومت واقعی بلوچستان میں سیاسی تبدیلی کا فیصلہ کر چکی ہے اور آئینی یا سیاسی پیچیدگیوں کے باعث اسے عملی جامہ پہنانے میں دشواری محسوس کر رہی ہے، تو ایسی صورت میں غیر یقینی کیفیت کو طول دینے کے بجائے آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی منتخب حکومت کو برطرف کرنے کے بجائے اسمبلی میں عدم اعتماد کی آئینی تحریک کے ذریعے تبدیلی لانا جمہوری اصولوں سے زیادہ ہم آہنگ ہوگا۔ سیاسی معاملات کو پس پردہ فیصلوں کے بجائے پارلیمانی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جانا ہی ریاست اور جمہوریت دونوں کے مفاد میں ہے۔

اس تمام صورتحال میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) جیسی بڑی وفاقی جماعتوں کی مرکزی قیادت کی خاموشی بھی افسوسناک ہے۔ خواہ یہ سانحہ دہشت گردی کا نتیجہ ہو، کسی مسلح گروہ کی کارروائی ہو یا کسی اور نوعیت کا المناک واقعہ، اس کی غیر مبہم اور سخت الفاظ میں مذمت ہر سیاسی جماعت، ہر جمہوری قوت اور ہر قومی قیادت کی ذمہ داری بنتی ہے۔ ایسے سانحات پر خاموشی متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے اور یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ انسانی جانوں سے متعلق معاملات پر بھی سیاسی مصلحت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اس کے برعکس عوامی سطح پر جس یکجہتی، ہمدردی اور انصاف کے مطالبے کا اظہار کیا گیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ مختلف طبقات نے شہداء کے لواحقین کے ساتھ جس انداز میں اظہارِ یکجہتی کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام آج بھی انصاف، انسانی وقار اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم قومی سیاسی قیادت کا سرد مہری پر مبنی رویہ حیران کن بھی ہے اور سنجیدہ غور و فکر کا بھی متقاضی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وقتی سیاسی مصلحتوں کے بجائے سنجیدہ، شفاف اور بااختیار مذاکرات کو ترجیح دے۔ شہداء کے لواحقین کے مطالبات کو عزت، احترام اور آئینی تقاضوں کے مطابق سنا جائے اور اگر مذاکرات کا کوئی مسودہ طے پاتا ہے تو اس کی مکمل پاسداری کی جائے۔ بداعتمادی، تاخیری حربے اور وعدہ خلافی نہ صرف احتجاج کو طول دیتے ہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بھی بڑھاتے ہیں۔ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں استحکام کا راستہ صرف دیانتدارانہ مذاکرات، آئینی بالادستی، سیاسی شفافیت اور کیے گئے وعدوں کی پاسداری سے ہی ہموار ہو سکتا ہے۔