کوئٹہ (ڈیلی صداقت انٹرنیشنل)پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان کے جنرل سیکرٹری پیر محمد کاکڑ کی قیادت میں کول مائنز ورکرز شاہرگ کے صدر ہارون رشید، سید حکیم، عدالت خان اور کول مائنز ورکرز یونین پی ایم ڈی سی سورنج کے جنرل سیکرٹری امیر خان و ساحر جان نے پاکستان مائنز اونرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل فتح شاہ عارف سے اہم ملاقات کی، جس میں شاہرگ اور سورنج کے کول مائنز ورکرز کو درپیش مسائل، مزدوروں کے حقوق، کانوں میں غیر محفوظ حالات، صحت و سلامتی کے انتظامات اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے اس موقع پر کہا کہ کان کن ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس لیے ان کے لیے محفوظ ماحول، بنیادی سہولیات اور باعزت روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مائنز میں آئے روز پیش آنے والے حادثات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہیلتھ اینڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے اور مزدوروں کو جدید حفاظتی سامان، معیاری اوزار اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ملاقات کے دوران مجوزہ مائنز اینڈ منرلز بل 2025 اور مائنز ایکٹ 1923 میں مجوزہ ترامیم پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وفد نے صحت و سلامتی سے متعلق بعض شقوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قانون سازی کے عمل میں مائنز مالکان، کنٹریکٹرز اور مائنز ورکرز کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔تاکہ تمام فریقین کی مشاورت سے ایسا متوازن اور مثر قانون بنایا جا سکے جو مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ مائنز انڈسٹری کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہو۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ تمام مائنز ورکرز کو ای او بی آئی میں رجسٹرڈ کیا جائے۔مزدوروں کے لیے بہتر رہائش، صاف پانی، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کان کنوں اور ان کے خاندانوں کو بہتر زندگی میسر آسکے۔ اس موقع پر پاکستان مائنز اونرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل فتح شاہ عارف نے وفد کے مقف کو غور سے سنتے ہوئے مائنز ورکرز کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور تعاون اور مثبت اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے تحفظ اور مائنز سیکٹر کی بہتری کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ اس شعبے کو مزید محفوظ، مضبوط اور ترقی یافتہ بنایا جا سکے۔ وفد کا کہنا تھا کہ جب ورکرز، مائنز مالکان اور ٹھیکیداران باہمی اعتماد، مشاورت اور تعاون کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر ہو کر فیصلے کریں گے تو نہ صرف مزدوروں کے مسائل کا مستقل حل ممکن ہوگا بلکہ مائنز انڈسٹری کو بھی فائدہ پہنچے گا، پیداوار میں اضافہ ہوگا اور حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔
