مقامی ۱ جون ۲۰۲۶

قلعہ عبداللہ میں نامعلوم افراد کی اندھا دھند فائرنگ، جاں بحق افراد کی تعداد 5 ہو گئی

قلعہ عبداللہ (صداقت ویب نیوز) قلعہ عبداللہ میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے کی جانے والی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 5 ہو گئی ہے۔ فائرنگ کے اس ہولناک اور افسوسناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور مقتولین کے لواحقین اور مقامی قبائلی غیور عوام نے لاشیں سڑک پر رکھ کر انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔ مشتعل مظاہرین نے وفاقی و صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اہم ترین قومی شاہراہ کوئٹہ تا چمن روڈ کو ہر قسم کی چھوٹی و بڑی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا ہے، جس کے باعث سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں اور مسافروں بشمول خواتین، بچوں اور ٹرانسپورٹرز کو تپتی گرمی میں شدید مشکلات و پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔لواحقین اور مظاہرین کا دوٹوک موقف ہے کہ جب تک سفاک قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے عبرتناک سزا اور لواحقین کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، ان کا احتجاجی دھرنا اور شاہراہ کی بندش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ واقعے کے بعد قلعہ عبداللہ اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ اور سنگین ہو چکی ہے، جس کے پیشِ نظر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے علاقے کی فضائی و زمینی نگرانی اور گشت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، ضلعی انتظامیہ، لیویز اور پولیس کے اعلی حکام کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر مظاہرین کو مطمئن کرنے اور شاہراہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات کی مسلسل کوششیں کر رہی ہیں، تاہم مظاہرین ملزمان کی گرفتاری کے تحریری حکم نامے پر بضد ہیں۔ قلعہ عبداللہ کے سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے بھی اس لرزہ خیز واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلی حکام سے شفاف و فوری تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔