اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے حالیہ دنوں دنیا کے جغرافیائی نقشے کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا بنیادی مقصد افریقہ سمیت مختلف خطوں کا حقیقی جغرافیائی حجم زیادہ درست دکھانا ہے۔ یہ فیصلہ دنیا کی سیاسی سرحدیں تبدیل نہیں کرتا، لیکن نئے نقشے میں کشمیر کی متنازع جغرافیائی حیثیت کے حوالے سے بھارت میں پیدا ہونے والا اضطراب ایک اہم سفارتی سوال ضرور اٹھاتا ہے۔ بھارت نے قرارداد کی حمایت کی، مگر جب نقشے میں جموں و کشمیر اور لداخ کی پیش کش پر اعتراض سامنے آیا تو نئی دہلی نے اپنی علاقائی حدود کے دعوے کو پھر نمایاں کردیا۔ یوں ایک نقشہ، جو بنیادی طور پر جغرافیائی نمائندگی کی اصلاح سے متعلق تھا، کشمیر کے دیرینہ تنازعے کی طرف ایک بار پھر عالمی توجہ کا سبب بن گیا۔ پاکستان کے سامنے اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس موقع کو محض سوشل میڈیا کی جذباتی فتح بناتا ہے یا اسے سنجیدہ سفارتی موقع میں تبدیل کرتا ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ کہ پاکستان اور چین فوری طور پر ان علاقوں میں داخل ہوکر اپنے جھنڈے گاڑ دیں، ریاستی حکمتِ عملی کے بجائے جذباتی ردعمل ہے۔ نقشہ فوجی پیش قدمی کا حکم نامہ نہیں ہوتا۔ کشمیر کسی نقشے کے رنگ کا نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے سیاسی مستقبل، شناخت اور حق کا مسئلہ ہے۔
بھارت کا ردعمل خود اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ کشمیر کا تنازع اس کے دعوے کے باوجود عالمی بحث سے ختم نہیں ہوا۔ تاریخ بھی بتاتی ہے کہ نقشے اور اقتدار ہمیشہ ایک ہی چیز نہیں ہوتے؛ برصغیر میں مغلیہ اقتدار کے زوال کے بعد مختلف سیاسی قوتیں ابھریں، احمد شاہ ابدالی نے پانی پت میں مرہٹوں کو شکست دی اور بعد ازاں ایسٹ انڈیا کمپنی نے مقامی اختلافات اور سیاسی رقابتوں سے فائدہ اٹھا کر اپنا اقتدار قائم کیا۔ تاریخ کا سبق واضح ہے کہ داخلی انتشار بیرونی طاقت کے لیے راستہ بناتا ہے، جبکہ سیاسی بصیرت اور اتحاد ریاست کی اصل قوت بنتے ہیں۔ کشمیر کے معاملے میں بھی پاکستان کو عسکری نعروں سے زیادہ مؤثر سفارت کاری پر توجہ دینی ہوگی۔ اگر ایک نقشہ دنیا کو کشمیر کی طرف دوبارہ متوجہ کررہا ہے تو اسے عالمی سیاسی بحث میں تبدیل کرنا چاہیے۔ امریکہ کا کردار اس سلسلے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ واشنگٹن نے قرارداد کی مخالفت کی ہے، لہٰذا پاکستان کو امریکی موقف پر محض احتجاج کرنے کے بجائے امریکی انتظامیہ، کانگریس اور بااثر پالیسی حلقوں سے براہِ راست رابطہ کرکے کشمیر کو ایک اصولی، قانونی اور انسانی مسئلے کے طور پر اجاگر کرنا چاہیے۔ چین کے ساتھ بھی سفارتی ہم آہنگی پیدا کی جائے، مگر اس پوری کوشش کا مرکز پاکستان یا بھارت نہیں بلکہ کشمیری عوام ہوں۔ عالمی نقشے میں کسی متنازع علاقے کو کسی ایک فریق کی حتمی ملکیت کے طور پر دکھانے کے بجائے اس کی متنازع حیثیت واضح ہونی چاہیے۔
پاکستان کو اب اس موقع کو ایک مربوط سفارتی مہم میں تبدیل کرنا چاہیے: چین کے ساتھ ہم آہنگی، امریکہ اور دیگر بااثر طاقتوں سے اعلیٰ سطحی رابطہ، اقوام متحدہ میں کشمیر کی متنازع حیثیت کو مسلسل اجاگر کرنا اور عالمی نقشہ سازی میں متنازع علاقوں کی غیر جانب دارانہ نمائندگی کے لیے اصولی مؤقف اختیار کرنا۔ ہمیں نقشے پر جھنڈے گاڑنے کی نہیں، دنیا کے سفارتی نقشے پر کشمیر کا مقدمہ مضبوطی سے گاڑنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کے احتجاج نے جو دروازہ کھولا ہے، پاکستان کو اسے جذباتی نعروں سے بند نہیں بلکہ دانشمندانہ سفارت کاری سے وسیع کرنا چاہیے۔ کشمیر کو دوبارہ اقوام متحدہ کے ایوانوں، عالمی دارالحکومتوں اور بین الاقوامی رائے عامہ کے مرکز میں لانا ہوگا۔ **نقشے پر رنگ بدلنے سے کشمیر آزاد نہیں ہوگا؛ مگر اگر نقشے نے دنیا کو کشمیر دوبارہ یاد دلایا ہے تو پاکستان کو اس یاد کو سفارتی تحریک میں بدل دینا چاہیے۔ نقشہ نہیں، مقدمہ جیتو؛ جھنڈا نہیں، دنیا کی رائے جیتو—کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر واپس لاؤ!
