کوئٹہ(ویب نیوز) بلوچستان اسمبلی میں خواتین پارلیمانی کاکس اور عالمی ادارہ خوراک پاکستان کے درمیان غذائی تحفظ، غذائیت، بچوں میں غذائی قلت کی روک تھام اور خواتین و بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس ہوا جس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی و چیئرپرسن خواتین پارلیمانی کاکس غزالہ گولہ نے کی۔ اجلاس میں بلوچستان میں غذائی عدم تحفظ، زچہ و بچہ کی غذائیت اور بچوں میں غذائی قلت کے مسائل پر غور کیا گیا جبکہ پارلیمانی کردار اور ڈبلیو ایف پی کے تعاون سے جاری پروگراموں کو مزید مؤثر بنانے پر تبادلہ خیال ہوا۔ ڈبلیو ایف پی کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ میں اسکول میلز پروگرام پائلٹ بنیادوں پر جاری ہے اور مزید سات اضلاع تک توسیع کا منصوبہ ہے، جس کی مالی معاونت 50 فیصد حکومت بلوچستان اور 50 فیصد ڈبلیو ایف پی فراہم کررہا ہے۔ بریفنگ کے مطابق مارچ 2024 سے جولائی 2026 کے دوران پروگرام میں شامل سرکاری اسکولوں میں طالبات کے داخلوں کی تعداد 10,907 سے بڑھ کر 14,635 ہوگئی، جو 34 فیصد اضافہ ہے، جبکہ اوسط حاضری 81.4 فیصد رہی۔ اجلاس میں پارلیمانی اراکین نے پروگراموں کے دائرہ کار میں توسیع، تمام علاقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھنے اور پارلیمنٹ، صوبائی حکومت اور ڈبلیو ایف پی کے درمیان مؤثر رابطہ مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
