تازہ ترین ۴ اکتوبر ۲۰۲۶

عباس عراقچی کی پابندیوں میں نرمی کے بدلے جوہری تنصیبات کے معائنے کی تجویز، امریکی میڈیا کا دعویٰ

تہران (ویب نیوز): امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں یورپی اور مشرق وسطیٰ کے سفارت کاروں سے ملاقاتوں کے دوران پابندیوں میں نرمی کے بدلے جنگ کے دوران بمباری کا نشانہ بننے والی ایرانی جوہری تنصیبات تک بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کو رسائی دینے کی تجویز پیش کی، تاہم ایران نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقچی نے جوہری معائنے بحال کرنے کے حوالے سے ایسی کوئی پیشکش نہیں کی۔ بلومبرگ کے مطابق مجوزہ تجویز کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات میں پیش رفت کی راہ ہموار کرنا ہوسکتا ہے، جبکہ اس سے تہران پر موجود معاشی دباؤ کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مستقبل میں کسی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی قیادت کو محتاط رویہ اختیار کرنے کا کہا ہے۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے میں ناکہ بندی کر رکھی ہے اور کئی ماہ سے ایران وہاں سے کوئی جہاز نہیں گزار سکا۔ ادھر خطے میں کشیدگی کے دوران امریکی میڈیا نے مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی وسائل بھیجنے کی اطلاعات دی ہیں، جن میں ایک اضافی طیارہ بردار بحری جہاز اور 9 سے 10 ہزار مزید فوجی شامل ہیں، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز، پابندیوں اور جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں اختلافات بدستور برقرار ہیں۔