عالمی عدالت کے سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ بین الاقوامی معاہدے محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں بلکہ ریاستوں کے درمیان قائم ایک باقاعدہ قانونی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔ پاکستان نے اس معاملے میں اپنی قانونی اور سفارتی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے اپنا مؤقف دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کیا ہے۔ اب اصل امتحان اس فیصلے پر عمل درآمد اور بھارت کی جانب سے اسے تسلیم کرنے کا ہے۔ اگر ایک بڑی ریاست اپنی مرضی کے مطابق عالمی معاہدوں کو تسلیم یا مسترد کرنے کا اختیار حاصل کرلے تو پھر دنیا میں موجود پورا بین الاقوامی معاہداتی نظام اپنی معنویت کھو دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا یہ مؤقف بالکل واضح ہونا چاہیے کہ پانی کو سیاسی دباؤ، جنگی ہتھیار یا کسی ملک کو بلیک میل کرنے کے وسیلے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اب محض سرحدی تنازع یا روایتی سفارتی اختلاف تک محدود نہیں رہی۔ حالیہ عرصے میں ہونے والے پرتشدد واقعات، سرحدی کشیدگی اور پاکستان کے خلاف مبینہ بھارتی اقدامات نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ پاکستان نے ماضی میں بھی براہ راست جارحیت کا مقابلہ کیا اور اپنی دفاعی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام آباد کسی خوش فہمی کا شکار نہ ہو اور نہ ہی بھارت کے ہر اقدام کے جواب میں محض سفارتی بیانات تک محدود رہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ مؤقف درست سمت کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی معاہدوں پر ان کی روح اور الفاظ کے مطابق مکمل عمل ہونا ضروری ہے۔ اگر بھارت کسی بین الاقوامی فیصلے یا معاہدے کو اپنی مرضی سے بے معنی بنانے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان کو بھی عالمی برادری، عالمی اداروں اور دوست ممالک کے سامنے اس اقدام کے سنگین نتائج پوری قوت سے اجاگر کرنے چاہئیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی اور سفارتی حکمت عملی کو محض ردعمل کے بجائے واضح قومی پالیسی میں تبدیل کرے۔ فیلڈ مارشل اور قومی سلامتی کے اداروں کو ہر ممکن صورت حال کے لیے مکمل تیاری برقرار رکھنی چاہیے تاکہ اگر پاکستان کی خودمختاری، سلامتی یا پانی کے حق کو نشانہ بنایا جائے تو ملک کے پاس ہر سطح پر مؤثر جواب دینے کی صلاحیت موجود ہو۔ تاہم طاقت کا استعمال آخری راستہ ہونا چاہیے اور اس کا فیصلہ ریاستی قیادت، آئین اور قومی مفاد کے مطابق ہونا چاہیے۔ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، لیکن جنگ مسلط کی گئی تو دفاع سے پیچھے بھی نہیں ہٹے گا۔ بھارت کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ پانی کو ہتھیار بنانا، عالمی معاہدوں سے انحراف کرنا اور پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش خطے کو تباہ کن تصادم کی طرف لے جاسکتی ہے۔ دنیا کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ عالمی قوانین سب کے لیے ہیں یا صرف کمزور ریاستوں کے لیے؛ کیونکہ اگر آج ایک معاہدہ طاقت کے زور پر بے وقعت کردیا گیا تو کل کوئی بھی بین الاقوامی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا۔
