مقامی ۵ مئی ۲۰۲۶

ضلع کوئٹہ میں سینئر ساتھیوں کی بڑی بیٹھک، اہم مشاورت کے بعد بڑے فیصلوں کا اعلان

کوئٹہ(صداقت انٹرنیشنل نیوز )جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے سابق امیر، مولانا ولی محمد ترابی نے جامعہ اشرفیہ میں ضلع کے سینئر ساتھیوں کے اعزاز میں ایک ظہرانہ دیا، جس میں بڑی تعداد میں رہنماوں نے شرکت کی۔ شرکاء میں کچلاک، نوحصار، سریاب، پشتون آباد، سٹی ایریا، نواں کلی، کوتوال، ہزارگنجی، اختر آباد، مشرقی بائی پاس، جتک سٹاپ، بروری، پشتون باغ اور شیخ ماندہ کے نمائندگان شامل تھے۔ظہرانے کے بعد موجودہ صورتحال پر مولانا ولی محمد ترابی، حاجی سازالدین، حاجی عبدالباری اور دیگر شرکائ نے کھل کر اظہارِ خیال کیا۔مولانا ولی محمد ترابی نے پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ رکن سازی کے بعد ہونے والے ضلعی انتخابات میں بوگس اور جعلی پرچیاں برآمد ہوئیں، جس کے باعث انہوں نے متنازع الیکشن کے خلاف صوبائی جماعت سے رجوع کیا۔ صوبائی قیادت نے مختلف سماعتوں کے بعد ضلعی تنظیم کو کالعدم قرار دے کر ایک نئی کونسل تشکیل دی۔ بعد ازاں متاثرہ فریق نے مرکزی قیادت سے اپیل کی، جس پر مرکز نے کونسل کو برقرار رکھتے ہوئے دوبارہ انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران صوبائی جماعت نے مبینہ ہیرا پھیری کے ذریعے ایک تیسرا راستہ نکالا، جسے ”مفاہمت” کا نام دیا گیا۔ مرکز کو باور کرایا گیا کہ کوئٹہ میں دو بڑے فریق آپس میں مفاہمت پر آمادہ ہیں، جس کے تحت ایک فریق کو امیر اور دوسرے کو جنرل سیکرٹری بنایا جائے گا، جبکہ کابینہ آدھی آدھی تقسیم کی جائے گی۔ تاہم، اصل فریق “جس نے ابتدائی درخواست دی تھی” کو اس عمل میں نظرانداز کر دیا گیا۔مولانا ترابی نے بتایا کہ انہوں نے صوبائی قیادت کو واضح کیا کہ چونکہ وہ اس معاملے کے اصل مدعی ہیں، اس لیے مفاہمت کے بجائے مرکزی فیصلے کے مطابق شفاف انتخابات کروائے جائیں۔ لیکن چند دن بعد یہ اعلان کیا گیا کہ حضرت مولانا صاحب کے تحریری فیصلے کی بنیاد پر مفاہمت کے تحت نیا ضلعی نظم تشکیل دیا گیا ہے، جس میں مولانا عبدالرحمن رفیق کو امیر اور حاجی عین اللہ شمس کو جنرل سیکرٹری نامزد کیا گیا۔ لیکن آج تک مولانا صاحب کا تحریری فیصلہ نہیں دکھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال پر انہوں نے سینئر ساتھیوں سے مشاورت کے بعد لاہور میں امیرِ مرکزیہ حضرت مولانا صاحب سے ملاقات کی، جبکہ حضرت حیدری صاحب اور دیگر مرکزی رہنماؤں سے بھی تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر انہوں نے ایک تحریری درخواست جمع کراتے ہوئے مرکزی فیصلے کے مطابق انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ دہرایا۔مولانا ترابی نے واضح کیا کہ وہ غیر دستوری اقدامات پر خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط جماعت اسی وقت تشکیل پا سکتی ہے جب وہ آئین و دستور کے مطابق چلائی جائے۔ ان کے مطابق بدقسمتی سے شہر میں فحاشی، مدارس کے مسائل، تاجروں کے مسائل اور دیگر اہم معاملات پر ضلعی جماعت کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث اس کی پوزیشن کمزور ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسی مضبوط اور فعال جماعت دیکھنا چاہتے ہیں جو تمام معاملات میں مؤثر کردار ادا کرے اور جس کے مؤقف پر انتظامیہ عملدرآمد کرے۔مولانا ولی محمد ترابی نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ساتھیوں کی مشاورت کے مطابق آگے بڑھیں گے، مایوس کارکنوں کا سہارا بنیں گے، اور آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ بھی اجتماعی مشاورت سے کریں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی سازالدین نے کہا کہ میں ضلعی امارت کے لیے مولانا ولی محمد ترابی کا تجویز کنندہ اور حاجی عین اللہ شمس کا تائید کنندہ تھا۔ جب انتخابات میں ووٹنگ کا مرحلہ مکمل ہوا تو صوبائی کنوینئر صاحبزادہ کمال الدین اور دیگر متعلقہ ذمہ دار ساتھی ایک کمرے میں جمع ہوئے تاکہ رائے شماری کی پرچیوں کی گنتی کی جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ جب صاحبزادہ کمال الدین پرچیوں سے بھری چادر کھولنے لگے تو میں نے انہیں روک کر کہا کہ آپ یہ چادر نہ کھولیں۔ انہوں نے وجہ پوچھی تو میں نے کہا کہ اگر اس میں سے ایسی پرچیاں برآمد ہوئیں جن پر نہ آپ کے دستخط ہوں اور نہ مہر، تو پھر ان کا کیا کریں گے؟ اس پر صاحبزادہ کمال الدین نے جواب دیا کہ ایسی تمام پرچیوں کو جعلی قرار دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جب گنتی کا عمل شروع ہوا تو بڑی تعداد میں جعلی پرچیاں سامنے آئیں، جن پر نہ صوبائی کنوینئر کے دستخط تھے اور نہ ہی مہر ثبت تھی۔ اس صورتحال کے پیش نظر صوبائی کنوینئر صاحبزادہ کمال الدین نے ضلع کوئٹہ کے لئے منتخب نظم کا اعلان نہیں کیا۔بعد ازاں مولانا ولی محمد ترابی نے صوبائی جماعت کو درخواست دی، جس پر سماعتوں کے بعد ضلعی نظم کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ متاثرہ فریق نے اس فیصلے کے خلاف مرکز میں اپیل دائر کی، جس پر مرکز نے دوبارہ انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا۔حاجی سازالدین نے کہا کہ اس طرح تین مراحل پر اس نظم کو غیر دستوری قرار دیا جا چکا ہے:اول، صوبائی کنوینئر نے اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا؛دوم، صوبائی جماعت نے اسے کالعدم قرار دیا؛سوم، مرکز نے دوبارہ انتخابات کا حکم دیا۔ان کے مطابق ان تینوں نکات کی روشنی میں صوبائی جماعت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نئے انتخابات کرائے، لیکن بدقسمتی سے مفاہمت کے نام پر ایک غیر دستوری نظم قائم کر دیا گیا ہے، جس کے خلاف اصل مدعی مولانا ولی محمد ترابی نے مرکز میں دوبارہ درخواست جمع کرا دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب مولانا فیض اللہ کوئٹہ کے کنوینئر تھے تو میں ڈپٹی کنوینئر تھا، اس دوران تقریباً 39 ہزار رکن سازی ہوئی۔ بعد ازاں جب مولانا محمد سلیم کنوینئر بنے، میں ڈپٹی کنوینئر تھا، اس وقت 50 ہزار 700 رکنیت سازی ہوئی۔ تاہم جب مولانا خورشید احمد کنوینئر بنے تو یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 45 ہزار تک پہنچ گئی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جمعیت کی افرادی قوت میں اچانک اتنا بڑا اضافہ کیسے ہوا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ حافظ حمداللہ کے 6 سالہ دور امارت اور مولانا ترابی کے 4 سالہ دور امارت کی کارکردگی بہتر رہی، جس کے باعث جماعت مضبوط ہوئی۔ افرادی قوت پچاس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی، پھر سوال یہ ہے کہ سابق قیادت کو تبدیل کر کے نئی قیادت لانے کی ضرورت تھی۔حاجی سازالدین نے کہا کہ صوبائی جماعت نے تاحال نہ تو مولانا صاحب کا فیصلہ دکھایا ہے اور نہ ہی دستور اور مرکزی فیصلے کے مطابق دوبارہ انتخابات کروائے ہیں۔ لہٰذا اس غیر دستوری نظم کے خلاف ساتھیوں سے مشاورت جاری رکھی جائے گی اور دستور کے مطابق جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مرکزی فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو جاتا۔اجلاس سے حاجی عبدالباری نے بھی خطاب کیا اور بعض اہم امور پر تفصیلی روشنی ڈالی، تاہم ان میں سے کچھ باتیں آف دی ریکارڈ رہیں۔آخر میں کچھ اہم فیصلے کیے گئے1۔ حاجی سازالدین کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جو دستوری نکات کی روشنی میں ایک پمفلٹ تیار کرے گی۔ اس میں غیر دستوری نظم سے متعلق تمام دستوری دفعات شامل کی جائیں گی اور اسے شائع کر کے پورے ضلع میں تقسیم کیا جائے گا۔ دوسری کمیٹی مولانا ولی محمد ترابی کی سربراہی میں قائم کی گئی، جو تین مراحل میں دستوری جدوجہد کو وسعت دے گی اور تمام مایوس و ناراض ساتھیوں کو اعتماد میں لے گی۔اس کے علاوہ بھی کچھ اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں مناسب فورمز پر بعد میں پیش کیا جائے گا۔